عوام پر مہنگائی کا ایک اور بم گرانے کی تیاریاں، بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان

بجلی سپلائی کرنے والی کمپنیوں کی جانب سے نیپرا کو درخواست کی گئی ہے کہ بجلی کی پیداوار کے لیے اخراجات بڑھنے کے بعد 82 ارب 69 کروڑ روپے کا بوجھ عوام پر منتقل کیا جائے، نیپرا نے درخواست پر غور شروع کردیا نیپرا نے صارفین پر 82 ارب 69 کروڑ روپے اضافی بوجھ ڈالنے پر غور شروع کردیا ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بجلی سپلائی کرنے والی کمپنیوں کی جانب سے نیپرا کو درخواست کی گئی ہے کہ بجلی کی پیداوار کے لیے اخراجات بڑھنے کے بعد 82 ارب 69 کروڑ روپے کا بوجھ عوام پر منتقل کیا جائے، اس صورت میں بجلی کی پیداوار میں بھی اضافہ ہو گا ۔
اس حوالے سے ترجمان نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کا کہنا ہے کہ بجلی سپلائی کرنے والی کمپنیوں نے گزشتہ مالی سال کی آخری سہ ماہی میں قیمتوں کی ایڈجسٹمنٹ کے لیے درخواست دی ہے۔ ترجمان نیپرا کا کہنا تھا کہ بجلی سپلائی کرنے والی کمپنیوں نے رواں سال اپریل سے جون تک کی ایڈجسٹمنٹ مانگی ہے ، کمپنیوں نے کیپیسٹی پرچیز پرائس کی مد میں 81ارب 10کروڑ روپے مانگے ہیں جبکہ آپریشنز اینڈ مینٹیننس کی مد میں 56 کروڑ70لاکھ روپے مانگے گئے ہیں ۔
نیپرا سفارشات پر غور کررہا ہے جس کے بعد بجلی کی قیمتوں کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا ۔ واضح رہے کہ دو دن قبل نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی( نیپرا) نے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 48پیسے کا اضا فہ کر دیا تھا جس سے صارفین کو 5ارب کا اضافی بوجھ برداشت کر نا پڑے گا ۔ نیپرا کا کہنا ہے کہ اگست میں بجلی کی پیشگی فیول لاگت 3روپے 20 پیسے فی یونٹ تھی جبکہ پیداور ی لاگت 3روپے 68 پیسے فی یو نٹ تھی بجلی کی قیمت میں اضافہ اگست کی فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیا گیا ہے جس کی صارفین سے اضافی وصولی نومبر کے مہینے میں کی جائے گی ۔ یہ اضافہ صرف ایک ماہ کے لیے کیا گیا تھا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں