جے ڈی وینس کا ایچ-ون بی پروگرام ختم کرنے کی حمایت کا اعلان، ”مکمل طور پر ناکارہ“ قرار دیا
واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایچ-ون بی ویزا پروگرام کو ”مکمل طور پر ناکارہ“ قرار دیتے ہوئے اسے ختم کرنے کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا ہے۔ جمعرات کو ’ریئل امریکہز وائس‘ کو دیئے گئے لائیو اسٹریم انٹرویو میں انہوں نے الزام لگایا کہ امریکی کمپنیوں نے امریکی ورکرز کی جگہ سستے…
واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایچ-ون بی ویزا پروگرام کو ”مکمل طور پر ناکارہ“ قرار دیتے ہوئے اسے ختم کرنے کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا ہے۔ جمعرات کو ’ریئل امریکہز وائس‘ کو دیئے گئے لائیو اسٹریم انٹرویو میں انہوں نے الزام لگایا کہ امریکی کمپنیوں نے امریکی ورکرز کی جگہ سستے غیر ملکی لیبر کو دینے کیلئے پروگرام کا غلط استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک یہ پروگرام موجود ہے، امریکی ورکرز کا تحفظ یقینی بنانا ہوگا۔
وینس کے مطابق ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ اکاؤنٹنگ فرمز اور دیگر ادارے بھی اس کا ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے فرضی مثال دی کہ ۶۰ ہزار ڈالر کے امریکی اکاؤنٹنٹ کو ۴۵ ہزار ڈالر کے غیر ملکی ملازم سے بدلا جاتا ہے، جو ان کے بقول امریکی عوام کے ساتھ دھوکہ ہے۔
ایک لاکھ ڈالر کی فیس کا دفاع کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ ان کے، صدر ٹرمپ اور مشیر اسٹیفن ملر کے درمیان اس نتیجے پر پہنچنے کے بعد ہوا کہ کانگریس اصلاحات نہیں کرے گی۔ ٹرمپ جونیئر نے ایکس پر انٹرویو شیئر کرتے ہوئے اس سے اتفاق کیا۔
اس فیس کو قانونی چیلنجز کا سامنا ہے۔ یکم اکتوبر کو ایک وفاقی مجسٹریٹ نے قواعد سازی کے طریقہ کار پر عمل نہ کرنے پر اسے روک دیا، جبکہ آکلینڈ کے جج ہی ووڈ گیلیم نے بھی بدھ کو یونینوں، آجروں اور غیر منافع بخش تنظیموں کے مقدمے میں اس پر روک لگائی۔ ۱۸ ستمبر کے صدارتی حکم نامے میں اداروں کو ہدایت ہے کہ درخواستوں کے جائزے میں امریکی کارکنوں کی حالیہ یا متوقع برطرفیوں کو مدنظر رکھیں۔
ایچ-ون بی سے مستفید ہونے والوں میں ہندوستانی شہریوں کا بڑا تناسب ہے، اس لیے کسی بھی تبدیلی سے امریکی ٹیکنالوجی اور انجینئرنگ کے شعبوں میں کام کرنے والے بھارتی پیشہ ور افراد سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔
