پی ٹی آئی قیادت کا سخت الٹی میٹم: “آئیں سب کچھ بھلا کر آگے بڑھیں ورنہ کارکنان نکل آئیں گے، آپ کو بھاگنے نہیں دیں گے” — عمران خان کی فوری رہائی کا مطالبہ
اسلام آباد (13 فروری 2026) — پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت نے ایک انتہائی سخت بیان جاری کرتے ہوئے حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو وارننگ دی ہے کہ “آئیں سب کچھ بھلا کر آگے بڑھیں، ورنہ کارکنان نکل آئیں گے تو آپ کو بھاگنے نہیں دیں گے”۔ یہ بیان سابق وزیر اعظم اور…
اسلام آباد (13 فروری 2026) — پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت نے ایک انتہائی سخت بیان جاری کرتے ہوئے حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو وارننگ دی ہے کہ “آئیں سب کچھ بھلا کر آگے بڑھیں، ورنہ کارکنان نکل آئیں گے تو آپ کو بھاگنے نہیں دیں گے”۔ یہ بیان سابق وزیر اعظم اور پارٹی کے بانی عمران خان کی صحت کی خرابی، خاص طور پر ان کی آنکھوں کی سنگین بیماری کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
ایک سینئر رہنما نے کہا: “اگر عمران خان نابینا ہو گیا تو بہت سے لوگ نابینا ہو جائیں گے۔ ہم توقع کرتے ہیں کہ عمران خان کو فی الفور جیل سے رہا کیا جائے گا یا کم از کم انہیں مناسب علاج کے لیے منتخب ہسپتال منتقل کیا جائے”۔ پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ عمران خان کی دائیں آنکھ میں سینٹرل ریٹینل وین آکلوژن (Central Retinal Vein Occlusion) نامی مرض کی تشخیص ہوئی ہے، جس کی وجہ سے ان کی بینائی میں شدید کمی آئی ہے اور اب صرف 15 فیصد بینائی باقی رہ گئی ہے۔ پارٹی کا الزام ہے کہ جیل میں تین ماہ سے زیادہ عرصے تک شکایات کو نظر انداز کیا گیا، جس سے حالت مزید خراب ہوئی۔
سپریم کورٹ نے 12 فروری کو ایک عدالت نامزد وکیل (امیکس کیوری) کی رپورٹ پر نوٹس لیتے ہوئے فوری طور پر ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم دیا ہے تاکہ عمران خان کی آنکھ کا معائنہ کیا جائے۔ عدالت نے یہ بھی ہدایت کی ہے کہ 16 فروری تک عمران خان کو اپنے بیٹوں سے فون پر بات کرنے کی اجازت دی جائے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر مزید تاخیر ہوئی تو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
پی ٹی آئی نے مطالبہ کیا ہے کہ:
عمران خان کو فوری اور بلا روک ٹوک ان کے ذاتی ڈاکٹروں تک رسائی دی جائے۔
خصوصی آنکھوں کے علاج کے لیے انہیں کسی معتبر ہسپتال منتقل کیا جائے۔
جیل میں تنہائی اور خاندانی ملاقاتوں کی پابندی ختم کی جائے۔
یہ بیان ملک میں جاری سیاسی کشیدگی کو مزید بڑھا رہا ہے، جہاں پی ٹی آئی کارکنان کی طرف سے ممکنہ بڑے پیمانے پر احتجاج کی دھمکی دی گئی ہے۔ پارٹی کا موقف ہے کہ یہ صحت کا مسئلہ نہیں بلکہ سیاسی انتقام ہے، اور اگر مناسب اقدامات نہ اٹھائے گئے تو عوامی ردعمل شدید ہو گا۔
