چین کی ثالثی میں پاک افغان مذاکرات؛ پاکستان نے خوارج کی پناہ گاہوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا
اسلام آباد (1 اپریل 2026): چین کی ثالثی میں پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان سہ فریقی مذاکرات ہوئے، جن میں پاکستان نے افغانستان سے دہشت گردوں (خوارج) کی پناہ گاہوں کو مکمل طور پر ختم کرنے کا سخت مطالبہ کر دیا۔اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت ایڈیشنل سیکرٹری خارجہ نے کی، جبکہ افغان طالبان…
اسلام آباد (1 اپریل 2026): چین کی ثالثی میں پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان سہ فریقی مذاکرات ہوئے، جن میں پاکستان نے افغانستان سے دہشت گردوں (خوارج) کی پناہ گاہوں کو مکمل طور پر ختم کرنے کا سخت مطالبہ کر دیا۔
اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت ایڈیشنل سیکرٹری خارجہ نے کی، جبکہ افغان طالبان کا 6 رکنی وفد بھی شرکت کرتا رہا۔ دونوں فریقوں نے سرحد پار دہشت گردی، باہمی تحفظ اور علاقائی استحکام کے مسائل پر تفصیلی گفتگو کی۔
پاکستانی وفد نے واضح کیا کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گرد کارروائیوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔ پاکستان نے بار بار تاکید کی کہ افغانستان میں موجود خوارج اور ان کی پناہ گاہوں کا خاتمہ ضروری ہے تاکہ سرحد پار حملوں کو روکا جا سکے۔
تینوں ممالک (پاکستان، افغانستان اور چین) نے سہ فریقی اجلاس کے سلسلے کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا تاکہ جاری تناؤ کو کم کیا جا سکے اور علاقائی امن و استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔ چین نے دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے فریقین پر زور دیا کہ وہ بات چیت کے ذریعے مسائل حل کریں۔
