(24نیوز) متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا ہے کہ اس نے یمن میں تعینات اپنی فوج کے انسدادِ دہشت گردی یونٹس کا مشن رضاکارانہ طور پر ختم کر دیا ہے۔
سرکاری خبر رساں ادارے وام کے مطابق متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ "فیصلہ حالیہ پیش رفت” کے بعد ایک جامع جائزے کے نتیجے میں کیا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے 2019 میں یمن سے اپنی بیشتر فوج واپس بلالی تھی تاہم انسداد دہشت گردی کے لیے کچھ خصوصی یونٹس یمن میں تعینات تھے۔
اس سے قبل یمن کی صدارتی کونسل (پی ایل سی) کے سربراہ رشاد العلیمی نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدہ منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اور یمن کے فوجیوں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔
سعودی عرب نئے یواےای سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ یمن میں کسی بھی فریق کوعسکری یا مالی معاونت کا عمل فوری بند کرے۔
عرب میڈیا میں سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق رشاد العلیمی نے کہا تھا کہ یمن میں موجود یو اے ای کی تمام فورسز کو 24 گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑنا ہوگا۔انہوں نے بتایا تھا کہ یمن کی تمام بندرگاہوں اور زمینی و بحری گزرگاہوں پر 72 گھنٹوں کے لیے مکمل فضائی، زمینی اور بحری ناکہ بندی نافذ کی جا رہی ہے۔ سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں بھی کہا گیا تھا کہ یو اے ای یمنی حکومت کے مطالبے کے مطابق 24 گھنٹے میں اپنی فوج یمن سے واپس بلائے اور کسی بھی فریق کو عسکری یا مالی معاونت کا عمل فوری بندکرے۔
یمن کی صدارتی کونسل کی جانب سے یہ احکامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب سعودی قیادت میں قائم ملٹری اتحاد نے یمن میں محدود فضائی کارروائی کی، جس میں مکلا بندرگاہ کو نشانہ بنایا گیا۔
سعودی اتحاد کے مطابق یہ کارروائی یو اے ای کی حمایت یافتہ جنوبی علیحدگی پسند تنظیم، ساؤدرن ٹرانزیشنل کونسل (STC)کو فراہم کی جانے والی غیر ملکی فوجی معاونت کے خلاف کی گئی۔ متحدہ عرب امارات نے کسی بھی گروپ کو اسلھہ فراہم کرنے یا کسی بھی طرح کی معاونت کرنے کے الزامات سے انکار کیا تاہم اس کے بعد انہوں نے یمن مین اپنی باقی ماندہ یونٹس کو واپس بلانے کا اعلان کر دیا ہے۔


