چین نے مئی کے پاک بھارت تنازع پر ثالثی کی تھی چین کی پہلی بار تصدیق

news 1767193127 7228



news 1767193127 7228

(24نیوز) عوامی جمہوریہ چین کی جانب سے پہلی بار تصدیق کی گئی ہے کہ چین نے حالیہ پاک بھارت تنازع پر ثالثی کی تھی۔

بیجنگ میں عوامی جمہوریہ چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے  آج بتایا کہ اس سال پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی علاقے کے اُن کشیدہ مسائل میں سے ایک تھی جن پر چین نے ثالثی کی کوشش کی۔

وزیرِ خارجہ وانگ یی نے پہلی مرتبہ یہ انکشاف کیا کہ  چین نے پاکستان اور بھارت کے درمیان سنگین حد تک بڑھ چکی کشیدگی کو کنٹرول کرنے مین اہم کردار ادا کیا تھا۔ 

میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر خارجہ وانگ یی نے بتایا، نہ صرف بھارت پاکستان بلکہ شمالی میانمار، ایرانی جوہری مسئلہ، فلسطین اسرائیل اور حالیہ کمبوڈیا تھائی لینڈ تنازعات میں بھی ثالثی کا کردار ادا کیا۔

واضح رہے کہ پاکستان نے دس مئی کو بھارت کے ساتھ جنگ بندی کے فوراً بعد ہی تفصیلات بتائے بغیر یہ واضح کر دیا تھا کہ پاکستان نے بھارت کی اپنی فوجی تنصیبات  (ائیر بیسز) کو براہ راست میزائل حملے کا نشانہ بنانے کے بعد جو منہ توڑ جوابی حملے کئے تھے ان کو انتہائی قلیل وقت میں مکمل کرتے ہی پاکستان نے اہم ملک کے ذریعہ  پیغام دیا تھا کہ پاکستان کے جوابی حملوں کا جواب انتہائی شدید ہو گا اور بھارت کو پاکستان کے جوابی حملوں سے ہونے والی تکلیف کو خاموشی سے برداشت کرنا ہو گا۔

 دس مئی کی صبح پاکستان کے انتہائی تباہ کن حملوں کے جواب میں بھارت خاموش رہا تھا اور اس کے کئی گھنٹے بعد دس مئی کی شام کو واشنگٹن میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اچانک یہ انکشاف کیا تھا کہ ان کی ثالثی سے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی طے پا گئی ہے۔

نریندر مودی کی حکومت نے بار بار اپنے عوام کو یہ بتایاہے کہ 7 تا 10 مئی کے دوران بھارت اور پاکستان کے درمیان جو فوجی تصادم ہوا، اس کا حل دونوں ملکوں کی فوجی قیادت (DGMOs) کے درمیان براہِ راست رابطے سے نکلا تھا، اور اس میں کسی تیسرے فریق کی مداخلت کا کوئی کردار نہیں تھا۔ پہلے صرف ٹرمپ ہی پاکستان اور بھارت کی جنگ رکوانے میں ثالث کا کردار ادا کرنے کا کریڈٹ لیتے تھے، اب عوامی جمہوریہ چین کے وزیر خارجہ  وانگ یی نے بھی تصدیق کر دی ہے کہ چین نے پاکستان بھارت تنازعہ میں ثالثی کی تھی۔ 

وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا کہ اس سال مقامی جنگیں اور سرحدی ٹکراؤ دوسری عالمی جنگ کے بعد سب سے زیادہ شدت کے ساتھ دیکھنے میں آئے ہیں، اور جیو پولیٹیکل عدم استحکام پھیلتا رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ چین نے پائیدار امن قائم کرنے کے لیے ایک منصفانہ اور معروضی پالیسی اختیار کی ہے، جس میں علامات کے علاج کے ساتھ ساتھ بنیادی وجوہات پر بھی توجہ دی گئی ہے۔

 وانگ یی نے مزید کہا کہ اسی پالیسی کے تحت چین نے نہ صرف بھارت پاکستان تنازع میں بلکہ شمالی میانمار، ایران کے جوہری مسئلے، فلسطین-اسرائیل، اور کمبوڈیا-تھائی لینڈ کے حالیہ تنازعات میں بھی ثالثی کی کوششیں کی ہیں۔

وزیر خارجہ وانگ یی نے چین کی مشرقی پالیسی کے بارے میں بات کرتے ہوئے بھارت-چین تعلقات میں بہتری کی اچھی رفتار کا ذکر بھی کیا اور کہا کہ بیجنگ نے سال کے دوران شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن کے ٹینجین سمٹ میں بھارتی وزیر اعظم کو مدعو کیا تھا، جسے انھوں نے کامیاب قرار دیا۔ وانگ یی نے برکس ممالک کے تعاون میں اضافہ اور معاشی گلوبلائزیشن میں درییش چیلنجز پر بھی گفتگو کی، اور امریکا کے ساتھ چین کے تعلقات کو بہت اہم دوطرفہ تعلق قرار دیا۔





Source link

متعلقہ پوسٹ