وفاقی حکومت نے گریڈ-22 کے سینئر افسر اور پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے رکن راشد محمود لنگڑیال کو پاک عرب ریفائنری لمیٹڈ (PARCO) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا ممبر مقرر کرنے کی منظوری دی ہے۔ ان کی نامزدگی مومن آغا کی جگہ کی گئی ہے اور فیصلہ رسمی طور پر حکومت نے منظور کرلیا ہے۔
فی الحال راشد محمود لنگڑیال فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کے چیئرمین کے عہدے پر بھی فائز ہیں، جو کہ ٹیکس اور ریونیو کے امور میں اہم اثر و نفوذ رکھتا ہے۔ مومن آغا، جو پہلے PARCO بورڈ کے چیئرمین بھی تھے، اپنے سرکاری عہدے سے ہٹا دیے گئے تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ PARCO بورڈ کے ممبران کو ہر اجلاس کے لیے ڈالر میں فیس دی جاتی ہے جبکہ بورڈ اجلاسوں میں شرکت کے لیے دبئی تک کا ہوائی سفر اور قیام بھی فراہم کیا جاتا ہے۔
تجارتی حلقوں میں یہ سوالات اٹھائے جارہے ہیں کہ چونکہ FBR کے چیئرمین خود بورڈ میں شامل ہیں، اور PARCO کے خلاف ایف بی آر کے پاس ٹیکس کے کئی ارب روپے کے کیسز زیر التواء ہیں، اس لیے مفادِ عامہ کے تنازع کا امکان پیدا ہوسکتا ہے۔
PARCO بورڈ میں دیگر ممبران میں سیکریٹری فنانس امداد اللہ بوسل، ڈاکٹر جہانزیب، اور احد چیمہ شامل ہیں۔
اس تقرری نے ریگولیٹری نگرانی اور کارپوریٹ گورننس کے تعلق پر بحث چھیڑ دی ہے۔ تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ملک کے اعلیٰ ترین ٹیکس افسر کا ایسی کمپنی کے بورڈ میں شامل ہونا جو ان کے اپنے ادارے کے ساتھ ٹیکس تنازعات کا سامنا کر رہی ہے، ایک فطری تنازع پیدا کرتا ہے جو دونوں اداروں کی سالمیت کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ تاہم حامیوں کا کہنا ہے کہ سینئر سرکاری افسران اکثر سرکاری ملکیتی اداروں کے بورڈز میں قومی اقتصادی پالیسیوں کے ساتھ ہم آہنگی کو یقینی بنانے کے لیے خدمات انجام دیتے ہیں۔
PARCO پاکستان کی بڑی تیل ریفائنریوں میں سے ایک ہے اور ملک کے توانائی کے شعبے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ کمپنی کے بورڈ کے فیصلے ایندھن کی قیمتوں، سپلائی چین مینجمنٹ، اور پاکستان میں مجموعی توانائی کی سلامتی کے لیے اہم مضمرات رکھ سکتے ہیں۔

