(24نیوز) بنگلہ دیش نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں بنگلہ دیش کی مفرور سیاستدان حسینہ واجد کو عوامی تقریب میں جا کر تقریر کرنے کی اجازت ملنے کی مذمت کی ہے اور اس حرکت پر بھارت کی حکومت سے احتجاج کیا ہے۔
ڈھاکہ میں بنگلہ دیش کی وزارت خارجہ نے بھارت سے احتجاج کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا ہےکہ انسانیت کے خلاف جرائم میں بین الاقوامی جرائم کے ٹربیونل سے سزا یافتہ مفرور بنگلہ دیشی سیاستدان شیخ حسینہ کو نئی دہلی میں ایک عوامی تقریب سے خطاب کی اجازت دی گئی۔
بنگلہ دیش میں سابق وزیراعظم حسینہ واجد کے بھارت فرار ہونےکے بعد ان کو عدالت نے عوام کے قتل عام کی مجرم قرار دیا تھا۔ حسینہ واجد اپنے مظالم کے خلاف عوامی احتجاج کو کچلنے کے لئے اندھا دھند طاقت استعمال کرنے کے دوران قتل عام کی مرتکب قرار دی گئی تھیں۔ عوام کا احتجاج بہت زیادہ بڑھ جانے پر حسینہ واجد کو وزارتِ عظمیٰ سے استعفیٰ دے کر بھارت بھاگ جانا پڑا تھا۔
یہ بھی پڑھیئے: اہم کام ستائیس جنوری کو دوپہر بارہ بجے سے پہلے نبٹا لیں
بنگلہ دیش مین اس وقت عبوری انتظامیہ ملک کو سنبھال رہی ہے اور ڈھائی ہفتے بعد 12 فروری کو عام انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔
23 جنوری کو حسینہ واجد نے نئی دہلی میں ایک تقریب سے بنگلہ دیش میں اپنے حامیوں سے آن لائن خطاب کیا۔
اس خطاب کو بنگلہ دیش مین انتخابات پر اثر انداز ہونے کی ایک منظم کوشش تصور کیا گیا۔
ڈھاکہ میں بنگلہ دیش کی وزارتِ خارجہ نےایک بیان میں کہا کہ حسینہ واجد نے کھلے عام بنگلہ دیش کی حکومت کو ہٹانےکا مطالبہ کیا اور اپنے وفاداروں اور عام عوام کو کھلم کھلا اشتعال دلایا کہ وہ بنگلہ دیش میں ہونے والے آئندہ عام انتخابات کو سبوتاژ کرنے کے لیے دہشت گردی کی کارروائیاں کریں۔
بنگلہ دیشی وزات خارجہ نے کہا کہ عوامی لیگ کی قیادت کی جانب سے بے لگام اشتعال انگیزی نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ عبوری حکومت کو اس کی سرگرمیوں پر پابندی کیوں لگانا پڑی ہے۔
یہ بھی پڑھیئے: وادی لیپہ کے برف زار میں پاک فوج کا ریسکیو آپریشن، مریضہ خاتون راولپنڈی ملٹری ہسپتال پہنچ گئیں
وزارتِ خارجہ کے بیان میں خبردار کیا گیا کہ الیکشن کی تیاریوں اور پولنگ والے دن تشدد اور دہشت گردی کے واقعات کا ذمہ دار یہ ‘جتھہ’ ہوگا، اس کی مذموم سازشوں کو ناکام بنانےکے لیے مناسب اقدامات کیے جائیں گے۔
بنگلہ دیشی وزارت خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا کہ انہیں حیرانی اور سخت مایوسی ہوئی ہےکہ بھارت نے مفرور سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کو نئی دہلی میں عوامی خطاب کرنے کی اجازت دی۔
یہ عمل واضح طور پر بنگلہ دیش میں جمہوری منتقلی، امن اور سلامتی کو خطرے میں ڈالتا ہے۔ بھارتی دارالحکومت میں اس تقریب کے انعقاد کی اجازت دینا اور قاتل حسینہ کو کھلے عام نفرت انگیز تقریر کرنے دینا بنگلا دیش کے عوام اور حکومت کی صریح توہین ہے۔
یہ بھی پڑھیں : آج سے منگل تک بارش اور برف باری ہو گی، میٹ ڈیپارٹمنٹ کی فورکاسٹ
بیان میں کہا گیا کہ بنگلہ دیش اس بات پر سخت مایوس ہےکہ بارہا درخواستوں کے باوجود بھارت دوطرفہ حوالگی کے معاہدے کے تحت حسینہ کو بنگلہ دیش کے حوالے کرنےکی اپنی ذمہ داریوں پر عمل کرنے میں تساہل سے کام لے رہا ہے اور دوسری طرف اسے اپنی سرزمین سے ایسے اشتعال انگیز بیانات دینے کی اجازت بھی دی گئی۔
بنگلہ دیشی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ یہ بنگلا دیش اور بھارت کے مستقبل کے تعلقات کے حوالے سے ایک خطرناک مثال ہے اور اس سے بنگلا دیش کی مستقبل کی منتخب قیادت کی جانب سے باہمی طور پر سودمند دوطرفہ تعلقات کو استوار کرنے اور آگے بڑھانے کی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ میں ٹی توینٹی ورلڈ کپ ہارنے والے 7کھلاڑی نئی ٹی ٹوینٹی ٹیم سے غائب


