خامنہ ای کی شہادت کا سبب بننے والی سیکوریٹی خامیاں ختم نہیں ہوئیں: عباس عراقچی

khsli 21726 d 1


ایران کے وزیر خارجہ نے انٹرویو میں کہا کہ جنگ کے دوران تمام مواصلاتی نظام متاثر تھے، ہم خوفزدہ تھے اور بس یہ جاننا چاہتے تھے کہ کون زندہ ہیں اور کون مارے جا چکے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کا سبب ایک "سیکوریٹی خلا” بنا اور یہ خلا اب بھی موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ۲۸ فروری کو ہونے والے اُس حملے، جس میں خامنہ ای شہید ہوئے، نے اقتدار کے اعلیٰ ترین حلقوں میں ایک ایسے سیکوریٹی خلا کو بے نقاب کیا جو غالباً آج بھی برقرار ہے۔
عراقچی نے اتوار کو قدامت پسند اور حکومت نواز میڈیا شخصیت جواد مقائی کے ساتھ ایک تفصیلی ٹی وی انٹرویو میں انکشاف کیا کہ چند ہی سیکنڈز میں تہران کے پاستور علاقے میں واقع کمانڈ سینٹر، جہاں سپریم لیڈر کے دفاتر اور ہیڈکوارٹرز واقع ہیں، کو تین حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ ان کے بقول "سب سے اہم بات یہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کو ان اجلاسوں کی مکمل معلومات تھیں۔ یہ ممکنہ طور پر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایک سیکوریٹی خلا موجود تھا، اور غالب امکان ہے کہ وہ اب بھی موجود ہے۔”
وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ مسئلہ صرف دراندازی تک محدود نہیں تھا بلکہ کبھی کبھار فیصلہ سازی کے عمل کی سمت پر اثرانداز ہونا بھی اس میں شامل ہو سکتا ہے، تاہم انہوں نے اس بارے میں مزید تفصیلات دینے سے گریز کیا۔ عراقچی نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے ذاتی طور پر ملاقات نہیں کی، اور صرف چند ہی افراد کو ان تک رسائی حاصل ہوئی ہے۔ ان کے مطابق حملے کے وقت قریبی مقام پر اعلیٰ فوجی قیادت اور وزارتِ انٹیلی جنس کے اجلاس بھی جاری تھے۔
عباس عراقچی نے بتایا کہ ۴۰ روزہ جنگ کے دوران وہ اور ان کے ساتھی وزارتِ خارجہ کی عمارت سے باہر نہیں نکلے کیونکہ کوئی محفوظ جگہ دستیاب نہیں تھی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ جنگ شروع ہونے کے۳ روز بعد صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات ہوئی، ۵ روز بعد علی لاریجانی سے مشاورت کی گئی، جبکہ چھٹے روز ایک محفوظ مقام پر باضابطہ اجلاس منعقد کیا گیا۔ وزیر خارجہ کے مطابق "جنگ کے آغاز کے دنوں میں صورتحال اس قدر خراب تھی کہ حکومت اور فوج کے اعلیٰ حکام کا رابطہ بھی منقطع ہو گیا تھا۔ تمام مواصلاتی نظام متاثر تھے۔ ہم خوف زدہ تھے اور بس یہ جاننا چاہتے تھے کہ ہمارے کون کون ساتھی زندہ ہیں اور کون مارے جا چکے ہیں۔”

متعلقہ پوسٹ