واشنگٹن — امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو نے وائٹ ہاؤس میں تقریباً 90 منٹ ملاقات کی، جس میں ایران پر دباؤ بڑھانے کے متبادل راستوں پر تبادلۂ خیال ہوا۔ ٹرمپ جنگ کے حق میں نہیں اور وہ عالمی پابندیوں اور سفارتی چینلز کے ذریعے تہران کو دبانے کے حمایتی ہیں، جبکہ نیتن یاہو ایرانی جوہری اہداف پر حملوں کا مطالبہ کرتے رہے اور کہا ہے کہ اگر ایران اسرائیل پر حملہ کرے تو وہ امریکی منظوری کا انتظار نہیں کریں گے۔
ایک سینئر اسرائیلی اہلکار نے کہا کہ ایران شدید معاشی بحران اور محدود عوامی احتجاج سے دوچار ہے، اور ان کے اندازے کے مطابق مہنگائی تقریباََ 90 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ اہلکار نے اس بات پر زور دیا کہ توانائی منڈیوں اور عالمی معیشت کو نقصان پہنچائے بغیر ایران پر کتنا سخت دباؤ ڈالا جا سکتا ہے، یہ بڑا چیلنج ہے۔ انہوں نے بتایا کہ امریکہ ایک طرف مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے اور دوسری طرف تہران کے نیٹ ورکس کو کمزور کرنے کی کارروائیاں بھی کر رہا ہے، تاہم ملاقات کی مکمل تفصیلات عوام کے لیے جاری نہیں کی گئیں۔

