’جب دونوں ہاتھ ہی نہیں تو پتھراؤ کیسے کرتا‘

397630 1804937708


اسلام آباد پولیس نے اہلکاروں پر پتھراؤ اور ڈنڈے برسانے کے الزام میں ایسے شخص کو گرفتار کر لیا جس کے دونوں بازو ہی موجود نہیں، تاہم عدالت نے پیشی کے دوران ملزم کے خلاف مقدمہ خارج کر دیا۔

تھانہ کرپا میں درج مقدمے میں پولیس نے الزام عائد کیا کہ ملزم لطیف اللہ سدوزئی نے پانچ اگست کے احتجاج کے دوران پولیس پر پتھراؤ کیا اور ڈنڈے برسائے۔

پولیس نے ملزم کو گرفتار کرنے کے بعد تین روزہ جسمانی ریمانڈ بھی حاصل کیا، تاہم پیر کو معاملہ اس وقت غیر معمولی رخ اختیار کر گیا جب ملزم کو ڈیوٹی مجسٹریٹ رضوان الدین کی عدالت میں پیش کیا گیا۔

ملزم کی جانب سے وکیل سردار معروف ایڈووکیٹ نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ان کے موکل کے دونوں بازو ہی موجود نہیں، تو وہ پولیس پر پتھراؤ اور ڈنڈے کیسے برسا سکتے ہیں؟

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوران سماعت عدالت میں ملزم کے دونوں بازوؤں کا معائنہ کیا گیا۔ معائنے کے بعد عدالت نے ملزم کو مقدمے سے ڈسچارج کر دیا۔

لطیف اللہ سدوزئی نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ وہ پانچ اگست کے احتجاج کے بعد واپس تلہ گنگ جا رہے تھے کہ پولیس نے ان کی گاڑی روک کر تلاشی لی اور گاڑی میں موجود دیگر افراد سمیت انہیں بھی گرفتار کر لیا۔

انہوں نے کہا: ’جب میرے دونوں ہاتھ ہی نہیں تو میں پتھراؤ کیسے کر سکتا تھا۔‘

ان کے مطابق، ’پولیس نے ان کا تین روزہ ریمانڈ حاصل کیا۔ انہوں نے پولیس کو بار بار کہا کہ وہ بازوؤں سے محروم ہیں، انہیں گرفتار کیوں کیا جا رہا ہے، مگر پولیس نے ان کی ایک بھی نہ سنی۔‘

لطیف اللہ سدوزئی کے مطابق عدالت میں ان کے دونوں بازوؤں کا معائنہ کیا گیا، جس کے بعد عدالت نے انہیں مقدمے سے ڈسچارج کر دیا۔





Source link

متعلقہ پوسٹ