
(24 نیوز)بیلجیئم میں سیوریج لائن کی کھدائی کے دوران تعمیراتی کارکنوں کو سونے کی سلاخوں، نایاب سکوں اور دیگر قیمتی اشیا پر مشتمل ایک بڑا خزانہ مل گیا، جس کی مالیت تقریباً 90 لاکھ یورو بتائی گئی ہے۔
یہ خزانہ برسلز سے تقریباً 30 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع سینٹ گِلس ڈینڈرمونڈے میں زیرِ زمین پائپ تبدیل کرنے کے معمول کے کام کے دوران 18 سالہ طالب علم کوبے کو ملا جو موسمِ گرما میں بطور عارضی کارکن کام کر رہا تھا، اس نے منگل کے روز اپنے ساتھیوں کے ساتھ کھدائی کے دوران خزانہ دریافت کیا۔
بیلجیئم میڈیا کے مطابق مزدور نے بتایا کہ اسے اچانک زمین میں کچھ پڑا دکھائی دیا۔ ابتدا میں لگا کہ یہ ایک یورو کے سکے ہیں، لیکن بعد میں ایک سونے کی سلاخ نظر آئی اور معلوم ہوا کہ معاملہ توقع سے کہیں بڑا ہے۔
رپورٹ کے مطابق خزانے میں سونے کے سکے، سونے کے ڈلے اور سونے کی سلاخیں شامل ہیں۔ یہ خزانہ ایک تھیلے میں بند تھا جسے ایک پرانی حویلی کی دیوار کے اندر اینٹوں سے چن کر چھپایا گیا تھا۔
یہ حویلی 19ویں صدی کے اواخر میں تعمیر کی گئی تھی، حکام نے خزانہ ملنے کے فوراً بعد جائے وقوعہ کو محفوظ بنایا اور تمام قیمتی اشیا کو برسلز میں ایک محفوظ مقام پر منتقل کردیا، اب تفتیش کار اس خزانے کی اصل اور قانونی ملکیت کا تعین کر رہے ہیں۔
بیلجیئم کے قانون کے تحت خزانہ دریافت کرنے والے شخص کو کم از کم پانچ سال انتظار کرنا پڑتا ہے تاکہ اگر اصل مالک یا اس کے قانونی وارث موجود ہوں تو وہ سامنے آسکیں۔
دوسری جانب 18 سالہ کوبے نے تسلیم کیا کہ کارکنوں کو معلوم تھا کہ اتنی بڑی مقدار میں خزانہ ملنے کی صورت میں اسے حکام کے حوالے کرنا ضروری ہے تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں انہیں اس دریافت پر کسی قسم کا انعام مل سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں :محکمہ سکول ایجوکیشن کا گھوسٹ ملازمین کے خلاف بڑا فیصلہ

