پیپلزپارٹی کا پارلیمان میں حکومت کو ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ
یپلزپارٹی قومی اسمبلی میں قانون سازی کے عمل پر اثر انداز ہونے کی حکمت عملی اپنائے گی
پاکستان پیپلزپارٹی نے قومی اسمبلی کے آئندہ اجلاس کے حوالے سے حکمت عملی تیار کرتے ہوئے پارلیمان میں حکومت کو ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی قومی اسمبلی میں حکومت سے عدم تعاون کی پالیسی جاری رکھے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی قومی اسمبلی میں قانون سازی کے عمل پر اثر انداز ہونے کی حکمت عملی اپنائے گی اور حکومتی یکطرفہ قانون سازی کی مخالفت کی جائے گی۔
پیپلزپارٹی ذرائع کے مطابق پارٹی قومی اسمبلی میں حکومتی بلوں کی ازخود حمایت نہیں کرے گی تاہم حکومت کی جانب سے مناسب مشاورت کی صورت میں قانون سازی کی حمایت کرنے پر غور کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران کورم کی نشاندہی کے معاملے پر نیوٹرل رہے گی اور کورم پورا کرنے کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر مسلم لیگ (ن) کے اراکین ایوان میں موجود نہ ہوئے تو پیپلزپارٹی کے ارکان بھی قومی اسمبلی سے باہر چلے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی نے حکومت کے ساتھ پارلیمانی معاملات میں تعاون کو مشاورت اور باہمی اتفاق سے مشروط رکھنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ یکطرفہ قانون سازی کی صورت میں اپوزیشن کا کردار مزید مؤثر بنانے کی حکمت عملی اختیار کی جائے گی۔

