کنیڈا کا امریکہ پر جوابی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان، تجارتی جنگ میں شدت


اوٹاوا: کنیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے واشنگٹن کی جانب سے ۲۰؍ ارب ڈالر مالیت کی کنیڈین مصنوعات پر ۵۰؍ فیصد محصول عائد کیے جانے کے بعد امریکہ کے خلاف جوابی محصولات کا اعلان کر دیا ہے۔
کارنی نے سنیچر کو اوٹاوا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نئے کنیڈین محصولات امریکی اسٹیل، ڈیری اور الیکٹرانکس سمیت دیگر صنعتوں کو نشانہ بنائیں گے اور ۸؍ ستمبر سے نافذ العمل ہوں گے۔ انہوں نے کہا: ’’کنیڈا واشنگٹن کے نئے محصولات کا ڈالر بہ ڈالر جواب دے گا تاکہ کنیڈین مزدوروں، کسانوں، خاندانوں اور کاروباروں کا تحفظ کیا جا سکے۔‘‘
یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب جمعہ کو کئی روزہ سخت مذاکرات ناکام ہو گئے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے نئے محصولات میں شراب، فرنیچر، ڈیری مصنوعات، سیمنٹ، ملبوسات اور کھیلوں کا سامان شامل ہے، جو تقریباً ۲۰؍ ارب ڈالر مالیت کی اشیاء پر محیط ہیں۔
ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’’کنیڈا ریاست ہونے کے فوائد چاہتا ہے، بغیر ریاست بنے،‘‘ اور دعویٰ کیا کہ کنیڈا برسوں سے امریکی کسانوں سے بھاری محصولات وصول کرتا رہا ہے۔
کارنی نے واضح کیا کہ کنیڈا امریکی اسٹیل، ڈیری، زرعی آلات، گودا و کاغذ اور الیکٹرانکس سمیت متعدد شعبوں کو نشانہ بنائے گا، جبکہ متاثرہ صنعتوں کے لیے امدادی اقدامات کا اعلان بھی اگلے ہفتے متوقع ہے۔ کنیڈا میں رائے عامہ کے سروے کے مطابق ۵۶؍ فیصد کنیڈین سخت موقف کی حمایت کرتے ہیں۔ دوسری جانب امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے کہا ہے کہ کنیڈا کے ساتھ فی الحال نئے مذاکرات کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

متعلقہ پوسٹ