نیدرلینڈز میں ڈونالڈ ٹرمپ کی شکل والی ایکسٹیسی گولیوں پر ’ریڈ الرٹ‘ جاری: ’ہرگز استعمال نہ کریں،

Inquilab 20260829 182855 0000 d


ڈچ ادارے کا انتباہ: گولیوں میں خطرناک کیمیائی مادہ PMMA شامل، اوور ڈوز کا خدشہ
ایمسٹرڈیم: منشیات اور دماغی صحت سے متعلق ایک سرکردہ ڈچ ادارے، ٹرمبوس انسٹیٹیوٹ، نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے چہرے کی شکل میں بنی ایکسٹیسی گولیوں پر ’ریڈ الرٹ‘ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ گولیاں ممکنہ طور پر جان لیوا ثابت ہو سکتی ہیں۔
ادارے نے جمعہ کے روز بتایا کہ حال ہی میں نیدرلینڈز میں منشیات کے معائنے کے مراکز کے نیٹ ورک میں ایسی متعدد گولیاں جمع کرائی گئیں، جہاں صارفین استعمال سے پہلے اشیاء کی جانچ کروا سکتے ہیں۔ ادارے نے واضح الفاظ میں خبردار کیا: ’’ان گولیوں کو ہرگز استعمال نہ کریں۔‘‘
ٹرمبوس کی جانب سے جاری کردہ تصاویر میں گولیوں کے ایک طرف ٹرمپ کے چہرے کا خاکہ نمایاں ہے، جبکہ دوسری طرف عمودی لکیر سے الگ کیے گئے الفاظ ’’NL‘‘ اور ’’Trump‘‘ کندہ ہیں۔ یہ گولیاں فی الحال سبز اور پیلے رنگوں میں پائی گئی ہیں۔
ادارے کے مطابق ان گولیوں میں پیرا میتھوکسی میتھ ایمفیٹامائن (PMMA) کی زیادہ مقدار شامل ہے، جو کیمیائی طور پر ایکسٹیسی کے بنیادی فعال جزو ایم ڈی ایم اے (MDMA) سے مشابہت رکھتی ہے۔ ٹرمبوس نے خبردار کیا کہ پی ایم ایم اے کو اپنا اثر دکھانے میں ایم ڈی ایم اے کے مقابلے زیادہ وقت لگ سکتا ہے، اور یہ تاخیر صارفین کو یہ سمجھ کر مزید گولیاں لینے پر مجبور کر سکتی ہے کہ پہلی خوراک نے اثر نہیں دکھایا — جس سے جان لیوا اوور ڈوز کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ادارے کے مطابق ان گولیوں کا استعمال جسم کے درجہ حرارت میں شدید اضافے (اوور ہیٹنگ) کا سبب بن سکتا ہے، جس کے مہلک نتائج بھی نکل سکتے ہیں۔
تاہم اس انتباہ کے باوجود ٹرمبوس کی ترجمان انیک گروتھوئس نے واضح کیا کہ اب تک ان گولیوں سے متعلق کسی شدید بیماری یا موت کی تصدیق شدہ رپورٹ موصول نہیں ہوئی۔ انہوں نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا: ’’ہمیں ایسے کسی متاثرہ شخص کا علم نہیں جس کے خون میں پی ایم ایم اے پایا گیا ہو۔‘‘
واضح رہے کہ نیدرلینڈز میں ایکسٹیسی بدستور غیر قانونی ہے، تاہم اس کا استعمال بالخصوص نائٹ کلبوں اور میوزک فیسٹیولز میں بڑے پیمانے پر پایا جاتا ہے۔ ۲۰۲۴ء کی ایک حکومتی رپورٹ کے مطابق اس سال تقریباً ۵۵۰,۰۰۰ صارفین کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔ واضح رہے کہ یہ ایسی گولیوں کا پہلا واقعہ نہیں؛ ۲۰۱۷ء میں جرمن پولیس نے ٹرمپ کے سر کی شکل میں ڈھلی ہوئی ہزاروں نارنجی رنگ کی ایکسٹیسی گولیاں ضبط کی تھیں۔

متعلقہ پوسٹ