زندگی اور موت کا فیصلہ اکثر چند لمحوں کا محتاج ہوتا ہے۔ جدید طب میں ’’سی پی آر‘‘ (CPR) کو سانسیں بحال کرنے کا روایتی ذریعہ سمجھا جاتا ہے، لیکن کیا ہو جب اسپتال کی کیتھ لیب میں زندگی کی ڈور ٹوٹ رہی ہو، نبض مکمل طور پر غائب ہوچکی ہو، اور روایتی طریقوں سے دل کو حرکت میں لانا ناممکن ہوجائے؟
پاکستان کی طبی تاریخ میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا اور حیرت انگیز واقعہ ہے، جہاں نام ور کارڈیالوجسٹ ڈاکٹر عبدالسلام نے جاری ’’سی پی آر‘‘ کے دوران ہی ’’اینجیو پلاسٹی‘‘ کرنے کا ایک انتہائی دلیرانہ فیصلہ کیا اور ایک مردہ ہوچکے دل کو دوبارہ دھڑکا کر موت کے منہ سے زندگی واپس کھینچ لی۔ یہ صرف ایک میڈیکل کیس نہیں بلکہ ایک ایسا طبی کرشمہ ہے جس نے یہ ثابت کردیا کہ غیر معمولی حالات میں ماہرانہ جرأت اور پختہ عزم کس طرح موت کو شکست دے سکتا ہے۔
وہ کٹھن لمحہ اور تاریخی فیصلہ
یہ سب کچھ اس وقت شروع ہوا جب ایک مریض ایمرجنسی میں سینے کی شدید تکلیف کے ساتھ ڈاکٹر عبدالسلام کے پاس آیا۔ ڈاکٹر صاحب نے اسے مکمل تسلی دی تھی کہ وہ بالکل ٹھیک ہوجائے گا اور اہل خانہ کو بھی یقین دلایا تھا کہ وہ اپنی طرف سے بہترین کوشش کریں گے۔ لیکن تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا؛ وہ مریض چند ہی لمحوں میں کیتھ لیب کے ٹیبل پر کولیپس کر گیا اور اس کی نبض مکمل طور پر بند ہو گئی۔
پروٹوکول کے مطابق فوری طور پر سی پی آر شروع کیا گیا، وینٹریکولر فبریلیشن کی تشخیص پر برقی جھٹکے (شاکس) بھی دیے گئے، لیکن مسلسل پندرہ منٹ گزرنے کے باوجود دل نے حرکت کرنے سے یکسر انکار کردیا۔ اس ہنگامی کیفیت میں جب امید کی ہر کرن مدہم پڑنے لگی، ڈاکٹر عبدالسلام کے سامنے دو راستے تھے؛ یا تو وہ روایتی پروٹوکول کے تحت ہار مان لیتے یا پھر ایک ایسا خطرہ مول لیتے جو میڈیکل کی کتابوں سے ہٹ کر تھا۔
ڈاکٹر صاحب نے اپنے دیے گئے وعدے کا پاس رکھتے ہوئے روایتی دائرے سے باہر نکلنے کا فیصلہ کیا۔ وہ جانتے تھے کہ چوںکہ یہ ایک بڑے ہارٹ اٹیک کا کیس تھا، اس لیے جب تک بند شریان کو نہیں کھولا جائے گا، اکیلا سی پی آر کوئی مدد نہیں کر سکتا۔ انہوں نے ٹیم کے جاری سی پی آر کے باوجود خود اندر جانے اور بند شریان کو تلاش کر کے کھولنے کا تاریخی فیصلہ کیا۔
اندھیرے میں تیر چلانے جیسے شدید چیلینجز
یہ عمل بظاہر جتنا جرأت مندانہ تھا، عملی طور پر اتنی ہی شدید مشکلات اور خطرات سے گھرا ہوا تھا۔ ڈاکٹر عبدالسلام کے مطابق یہ پی سی آئی کے دوران سی پی آر کا کیس نہیں تھا، بلکہ جاری سی پی آر کے دوران پی سی آئی انجام دینا تھا۔
شریان کا فقدان: انجیوگرافی کے لیے سب سے پہلے نبض کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن مریض کی نبض بند ہونے کی وجہ سے پورا طریقہ کار بالکل اندھا دھند (blindly) شروع کرنا پڑا۔
شدید عدم استحکام: ایک طرف مسلسل چھاتی کا دباؤ (سی پی آر) جاری تھا جس کی وجہ سے کیتھیٹر اور تمام اندرونی آلات مسلسل حرکت میں تھے، اور دوسری طرف ریڈی ایشن (تابکاری) کا شدید خطرہ تھا کیونکہ آپریٹر اور ٹیم کو چیزیں صاف دکھائی نہیں دے رہی تھیں۔
محض چند سیکنڈز کا وقفہ: ڈاکٹر صاحب کو صرف دو سے تین سیکنڈ کے لیے سی پی آر رکوانا پڑتا تھا تاکہ وہ آلات کی پوزیشن کا اندازہ لگا سکیں، اور پھر فوراً دوبارہ سی پی آر شروع کرنا پڑتا تھا۔
رکاوٹوں کا طوفان اور کام یابی کا سفر
خطرات سے بھرپور اس عمل میں قدم قدم پر مشکلات نے گھیرا۔ جب ڈاکٹر عبدالسلام نے غبارے (Balloon) کی مدد سے شریان کو کھولا تو کچھ ہی دیر میں وہ دوبارہ بند ہو گئی کیوںکہ دل کی حالت انتہائی غیر مستحکم تھی۔ یہاں انہیں احساس ہوا کہ اس کے اندر سٹنٹ (Stent) لگانا ناگزیر ہے۔ کیتھیٹر شریان سے باہر ہونے کی وجہ سے سٹنٹ کو انتہائی پتلی تار کے ذریعے پورے ایورٹا میں اندھی بنیادوں پر آگے بڑھانا پڑا—جو کہ ایک ایسا مرحلہ تھا جہاں ناکامی کا امکان سو فیصد تھا، لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ اپنے مقصد میں کام یاب ہوگئے۔
مشکلات کا سلسلہ یہیں نہیں رکا۔ پروسیجر کے کچھ ہی منٹ بعد جب لگا کہ مریض کی حالت مستحکم ہورہی ہے، تو خون کے بڑے بڑے لوتھڑے (Clots) بن کر سٹنٹ کے اندر شریان کو دوبارہ مسدود کرگئے۔ ڈاکٹر صاحب کو پوری مشق دوبارہ دہرانا پڑی؛ تار اندر لے جا کر غبارے سے لوتھڑے کچلنے پڑے اور خون پتلا کرنے والی دوائیں دینی پڑیں، تب جا کر مستقل خون کا بہاؤ بحال ہوا۔
طبی دنیا کے لیے ایک نیا باب اور انمول سبق
ڈاکٹر عبدالسلام کی یہ کوشش اس لحاظ سے بھی یکسر انوکھی ہے کیوںکہ دنیا بھر کا طبی پروٹوکول ہے پہلے مریض کو ریسیسیٹ کر کے اس کی نبض اور بلڈ پریشر بحال کیا جاتا ہے (ROSC)، اور اس کے بعد انجیو پلاسٹی کی جاتی ہے۔ جب دل بالکل حرکت نہ کر رہا ہو اور سی پی آر جاری ہو، تو اس حالت میں یہ پروسیجر کرنا شاید پاکستان بلکہ کی طبی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔
نئے آنے والے کارڈیالوجسٹس اور میڈیکل کے طالب علموں کے لیے ڈاکٹر عبدالسلام کا یہ پیغام انتہائی مشعلِ راہ ہے کہ دباؤ، تھکن اور نامساعد حالات میں بھی کبھی ہمت نہیں ہارنی چاہیے، جیسا کہ ڈاکٹر صاحب نے خود کہا کہ اس رات افرادی قوت کی کمی اور شدید ذہنی تناؤ کے باوجود جب انہوں نے باہر انتظار کرنے والے پریشان اہل خانہ کے چہروں کا تصور کیا، تو ان کے پاس ہمت ہارنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔ ان کی یہی جرأت اور پیشہ ورانہ مہارت آج ایک انسان کی زندگی اور اس کے گھر والوں کی خوشیوں کی بحالی کا سبب بن گئی۔

