ایران کے پاس وافر غیر ملکی کرنسی موجود ہے: مرکزی بینک کا ٹرمپ کو جواب


ایرانی مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی نے منگل کو کہا کہ امریکی پابندیوں اور بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ کے باوجود ایران کے پاس کافی مقدار میں غیر ملکی کرنسی موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دعووں کا جواب دیتے ہوئے ہمتی نے کہا، "ایران کے پاس غیر ملکی کرنسی ہے، اور اس کے پاس کافی مقدار میں ہے۔”
نیم سرکاری تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق تہران میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہمتی نے بتایا کہ مرکزی بینک زرِ مبادلہ کی منڈی میں 2 ارب ڈالر ڈالنے کے لیے تیار ہے، جبکہ ایرانی ریال کو نئے دباؤ کا سامنا ہے۔ انہوں نے امریکی دعووں کو مسترد کیا کہ ایران کی معیشت خاتمے کے قریب ہے، اور کہا کہ ملک غیر ملکی کرنسی کی آمدنی اور وصولی جمع کرنا جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ اس کے پاس ذخائر اور دیگر وسائل بھی موجود ہیں جن کی تفصیلات ظاہر نہیں کی جا سکتیں۔
ہمتی نے کہا کہ ایران کا معاشی نظام نئی پابندیوں کے باوجود کام کرتا رہے گا، اور ریال کی حالیہ گراوٹ کو بڑی حد تک نفسیاتی عوامل سے منسوب کیا۔ انہوں نے اس تجویز کو بھی مسترد کیا کہ ایران ہائپر انفلیشن کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے تسلیم کیا کہ جنگ اور بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کی وجہ سے بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے، اور بتایا کہ ایرانی سال کے دوسرے نصف میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو ترجیحی بنیادوں پر مالی امداد دی جائے گی۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایرانی ریال کو امریکی پابندیوں میں شدت اور امریکہ-اسرائیل جنگ کے معاشی اثرات کے باعث ڈالر کے مقابلے میں نئے دباؤ کا سامنا ہے۔ واشنگٹن نے حال ہی میں ایران کے خلاف اپنی معاشی دباؤ کی مہم مزید وسیع کی ہے، جس میں ایرانی آمدنی اور بین الاقوامی تجارت کے کلیدی ذرائع کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ واضح رہے کہ ایران اور امریکہ نے جون میں 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے جس کا مقصد جنگ ختم کرنا تھا، تاہم یہ عبوری معاہدہ جلد ہی ناکام ہو گیا۔

متعلقہ پوسٹ