پیٹرولیم لیوی اور مہنگائی کے خلاف جماعت اسلامی کی ہڑتال؛ ملک بھر میں مارکیٹیں بند

مارکیٹیں.webp


جماعت اسلامی کی اپیل پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی کے خلاف آج ملک بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جارہی ہے۔ مختلف شہروں میں بعض مارکیٹیں بند ہیں جبکہ کئی علاقوں میں کاروباری مراکز معمول کے مطابق کھلے ہوئے ہیں۔

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے پیٹرولیم لیوی کو عوام پر اضافی بوجھ قرار دیتے ہوئے ملک بھر کے تاجروں سے آج مارکیٹیں بند رکھنے کی اپیل کی ہے۔

ہڑتال کے معاملے پر تاجر تنظیموں میں اختلافات بھی سامنے آئے ہیں۔ بعض تاجر تنظیموں نے ہڑتال کی حمایت کرتے ہوئے اسے عوامی اور قومی مسئلہ قرار دیا ہے جبکہ دیگر تنظیموں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ پہلے ہی مشکلات کا شکار ملکی معیشت کو مزید نقصان پہنچانا مناسب نہیں۔

صدر انجمن تاجران پاکستان اجمل بلوچ نے ہڑتال کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ کمزور معیشت کو مزید کمزور کرنا درست نہیں تاہم ان کی قیادت میں انجمن تاجران پاکستان نے مارکیٹیں کھلی رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

دوسری جانب کاشف چوہدری کی زیر قیادت تنظیم تاجران پاکستان نے ہڑتال کی حمایت کی ہے تاہم تنظیم نے حتمی فیصلہ تاجروں پر چھوڑ دیا ہے۔  تاجر ہڑتال کریں یا نہ کریں، یہ ان کی اپنی مرضی ہے۔

کراچی میں بھی ہڑتال کا ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ شہر کی بعض مارکیٹوں میں صبح سویرے سے ہی شٹر ڈاؤن ہے جبکہ کچھ کاروباری مراکز کھلے ہوئے ہیں۔

کراچی تاجر اتحاد کے چیئرمین عتیق میر نے ہڑتال کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں تاجر اتحاد کے تحت آنے والی مارکیٹیں بند رہیں گی۔ حکومت عوام سے پیٹرولیم لیوی کی مد میں اضافی رقم وصول کر رہی ہے جس کے خلاف آواز اٹھانا ضروری ہے۔

الیکٹرونکس اور موبائل مارکیٹوں کی جانب سے بھی ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا گیا ہے۔ موبائل مارکیٹ سے وابستہ نمائندوں کا کہنا ہے کہ موبائل مارکیٹیں بھی بند رہیں گی۔ یہ کسی ایک سیاسی جماعت کا نہیں بلکہ پوری عوام کا مسئلہ ہے اور اسی بنیاد پر ہڑتال کی حمایت کی جا رہی ہے۔

کراچی سندھ تاجر اتحاد نے بھی جماعت اسلامی کی ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا ہے اور بعض مارکیٹیں آج دوپہر 3 بجے تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

تاجر رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مہنگائی میں کمی اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ حکومت عوام اور کاروباری طبقے کے مسائل کو سمجھتے ہوئے ایسے اقدامات کرے جن سے عام شہریوں کے لیے مشکلات کم ہوسکیں۔

ملک کے مختلف حصوں میں ہڑتال کی صورتحال مختلف ہے۔ کہیں مکمل شٹر ڈاؤن ہے تو کہیں معمول کے مطابق کاروباری سرگرمیاں جاری ہیں۔ ہڑتال کی مجموعی کامیابی یا ناکامی کا اندازہ مارکیٹیں کھلنے کے معمول کے اوقات کے بعد ہی ہوسکے گا۔



Source link

متعلقہ پوسٹ