جیسا کرو گے ویسا بھرو گے ، برائی اور اچھائی دونوں پلٹ کر آتی ہیں۔ہمسائے میں لگی آگ ہمسائے تک نہیں رہتی وغیرہ وغیرہ۔یہ خالی خولی بے جان کتابی محاورے نہیں بلکہ صدیوں کے انسانی تجربات کا نچوڑ ہیں۔ آس پاس دھیان سے دیکھئے۔ایک ایک محاورہ اور ضرب المثل پیاز کی طرح کھلتے چلے جائیں گے۔
اسرائیل نے بظاہر غزہ کو ہر طرح سے برباد کر کے رکھ دیا۔ملبے کے ڈھیر ، ان میں دبی ہزاروں لاشیں اور پھر لاکھوں زندہ لاشیں۔مگر اسرائیل اس قدر خوفزدہ ہے کہ فوج کو اب نئے احکامات دیے گئے ہیں کہ لکیر کے دوسری جانب کوئی بچہ پتنگ بھی اڑائے تو اس پر بمباری کر دو۔جانے اس پتنگ کے پیچھے کیا سازشی شرارت ہو ؟
لیکن اب جو کچھ بھی غزہ سے اسرائیل کی جانب دھیرے دھیرے بڑھ رہا ہے اسے کسی ہتھیار سے فی الحال نہیں روکا جا سکتا۔ وہ شے ہے کچرہ اور ملبہ۔ زخمی قدرت کی خاموش پیش قدمی خود اسرائیلیوں کی صحت محاصرے میں جکڑ رہی ہے۔
غزہ اور اسرائیل بحیرہ روم کے کنارے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔یعنی ان کا ساحل ، موسم اور زیرِ زمین قدرتی پانی کے ذخائر باہم پیوست ہیں۔غزہ کے برقی اور صحت و صفائی نظام کی مکمل بربادی کے بعد اب روزانہ لگ بھگ ایک لاکھ مربع میٹر کچرہ اور فضلہ براہِ راست سمندر میں جا رہا ہے۔چونکہ بحیرہ روم کی اس ساحلی پٹی پر ہوا عموماً جنوباً شمالاً چلتی ہے لہذا یہ کچرہ غزہ سے اسرائیل کی جانب بہہ رہا ہے۔
حالات اتنے دگرگوں ہو چکے ہیں کہ غزہ سے بیس کیلومیٹر پرے قائم اسرائیلی ساحلی شہر عشقلان کے پانی صاف کرنے والے ڈی سلینیشن پلانٹ کے فلٹریشن پائپوں کی صفائی کے لیے پلانٹ کو زہریلے بیکٹیریائی پانی اور کیچڑ سے بچانے کے لیے بار بار بند کرنا پڑ رہا ہے۔اس کچرے اور فضلے نے ساحل کے نزدیک جا بجا ایسے آلودہ زون بنا دیے ہیں جہاں مچھلی بھی سانس نہیں لے سکتی اور جو مچھلیاں اس زون کے باہر ہیں ان کی قدرتی خوراک بھی اس دھاتی و غیر دھاتی تیزابی آلودگی سے نہیں بچ پا رہی۔لہذا ان مچھلیوں کو انسانی خوراک کا حصہ بنانا بھی خطرے سے خالی نہیں رہا۔
بڑھتی ہوئی آلودگی کے اثرات تل ابیب اور حیفہ کے ساحل کو بھی رفتہ رفتہ اپنی لپیٹ میں لے رہے ہیں۔ آلودگی کا رساؤ زیرِ زمین پانی تک بھی پہنچ رہا ہے۔وقت کے ساتھ ساتھ یہ آلودگی اور زہریلا مواد نمکیات کی شکل میں زیرِ زمین آبی ذخائر میں اس قدرت سرایت کر جاتے ہیں کہ ایسے پانی کا زرعی و انسانی استعمال مضرِ صحت قرار پاتا ہے۔
اس وقت غزہ میں چھ کروڑ ٹن سے زائد عمارتی ملبہ پھیلا پڑا ہے۔لگ بھگ ایک سو اسرائیلی ٹرک روزانہ اس ملبے کو اسرائیل اور مقبوضہ مغربی کنارے کی غیر اعلانیہ جگہوں پر ڈمپ کر رہے ہیں۔
یہ کوئی معمولی ملبہ نہیں۔ اس میں سیسہ ، پارہ ، کیڈمیئم ، استعمال شدہ گولا بارود، گولیوں کے لاکھوں خالی شیل ، نہ پھٹنے والا ایمونیشن ، سفید فاسفورس کے ذرات ، صنعتی کیمیکلز ، تباہ شدہ عمارات سے اڑنے والے ازبسٹوس کے ٹکڑے ، دھاتوں اور مردہ انسانوں اور جانوروں کے باقیات سے اٹی زمینی گرد ، غرض ماحولیاتی و انسانی صحت برباد کرنے والا کون سا عنصر ہے جو اس ملبے اور کچرے کا حصہ نہیں۔
ایسا آلودہ ملبہ منتقل کرنے کے لیے بین الاقوامی حفاظتی پروٹوکولز پر سختی سے عمل ضروری ہے۔نیز یہ بات سب کو معلوم ہونی چاہئیے کہ اس نوعیت کا ملبہ ایک سے دوسرے علاقے میں کس طرح منتقل کیا جا رہا ہے اور کہاں اور کیسے ٹھکانے لگایا جائے گا۔اس علاقے میں انسانی سرگرمیاں کس قدر ہمہ گیر ہیں اور انھیں ملبے سے پھوٹنے والے ممکنہ طبی مسائیل سے کیسے تحفظ دیا جا سکتا ہے وغیر ہ وغیرہ۔ملبے کی صفائی کے بہانے اسرائیلی بلڈوزر فلسطینیوں کی اجتماعی قبروں کے نشانات بھی مٹا رہے ہیں تاکہ مستقبل میں کسی قانونی چارہ جوئی کے لیے بنیادی ثبوتوں کا وجود ہی نہ رہے۔مزید براں اگر ایسے آلودہ ملبے کی منتقلی کے عمل میں طے شدہ بنیادی احتیاطوں کا خیال نہ رکھا جائے تو سب سے پہلے ملبہ اٹھانے اور ڈھونے والے ، منتقل کرنے اور دوبارہ ڈمپ کرنے والے انسان ہی متاثر ہوتے ہیں۔ہمیں یہ بھی نہیں معلوم کہ اس کام کے کس کس مرحلے میں غزہ کے فلسطینیوں یا قیدیوں سے خطرناک جبری مشقت لی جا رہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق غزہ کا کچھ ملبہ جنوبی اسرائیل کے صحرائی علاقے اور زیادہ تر مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف مقامات پر ڈمپ کیا جا رہا ہے۔ اس حکمتِ عملی کے پیچھے یہ شیطانی خیال بھی ہو سکتا ہے کہ ملبے کی آلودگی کے براہِ راست اثرات سے اگر فلسطینی آبادی کی صحت متاثر ہوتی ہے تو بھلے ہو۔ ویسے بھی اسرائیلی انھیں کھلم کھلا نیم انسان ہی کہتے اور سمجھتے ہیں۔
مگر مغربی کنارے پر اس وقت سات لاکھ یہودی آبادکار بھی تو بستے ہیں اور لاکھوں مزید بسانے کی تیاری ہو رہی ہے۔ان غاصب بستیوں کے مکینوں کی صحت کے اردگرد لاکھ طبی و احتیاطی قلعہ بندیاں کھڑی کر دی جائیں مگر مشکل یہ ہے کہ آبی ، فضائی و زمینی آلودگی کسی یہودی ، مسلمان اور مسیحی میں تمیز کرنے سے عاری ہے۔
بین الاقوامی کنونشنز کے مطابق مقبوضہ علاقوں میں صحتِ عامہ کا تحفظ بھی قابض طاقت کی قانونی ذمے داری ہے۔ اب سے چھتیس برس قبل ٹیڈی کولک مقبوضہ یروشلم کے مئیر تھے۔انھوں نے کئی برس بعد اعتراف کیا کہ ہم نے فلسطینی اکثریتی مشرقی یروشلم میں ترقیاتی کام کے نام پر صاف پانی کی فراہمی اور سیوریج کے اخراج کے لیے کچھ لائنیں بچھانے کے سوا کوئی بڑا ترقیاتی کام نہیں کیا۔
یہ بنیادی منصوبے بھی فلسطینی آبادی کی بھلائی کا سوچ کر نہیں بلکہ اس لیے مکمل کیے گئے کہ کل کلاں مشرقی یروشلم میں اگر آلودہ پانی کے سبب کوئی وبا پھوٹ پڑتی ہے تو اس کی لپیٹ میں کہیں مغربی یروشلم کی یہودی آبادی نہ آ جائے۔
اس ذہنیت کی مالک قوم اور قیادت کو یہ تک نہیں معلوم کہ دنیا میں ان کے خلاف نفرت پہلے سے زیادہ کیوں ہے؟
(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)

