WhatsApp Image 2026 09 11 at 09.33.01 1 e1789117362617

جرمنی میں تعینات ہونے والے سفارت کاروں کو خوش امدید

جرمنی اور پاکستان کے درمیان ڈپلومیٹک تعلقات کا آغاز 15 اکتوبر 1951 کو ایک دستاویز پر دستخط کے ساتھ ہوا تھا ۔ جب اس دستاویز کی گولڈن جوبلی کا وقت آیا اس کے لئے منعقد ہونے والی تقریب میں اس دور کے وزیر اعظم جناب شوکت عزیز بھی شریک ہوے تھے ۔ یہ تقریب فرینکفرٹ میں ڈوئچے بنک کے ہیڈ کواٹر کے ایک فلور پر منعقد ہوئی تھی ۔ بھلا ہو فواد حسن فواد کا جنہوں نے مجھے اس تاریخی تقریب میں شرکت کا موقع فراہم کیا ۔ وہ ان دنوں جرمنی میں حکومت پاکستان کی طرف سے بطور کمرشل قونصلر خدمات بجا لا رہے تھے ۔ اس دستاویز پر 75 سال گزر گئے ۔ ان پچھتر سالوں کی ابتداء میں پاکستان نے جرمنی کو قرضہ بھی دیا ۔ جرمنی کو قرضہ دینے والا ملک اکیلا پاکستان نہی تھا بلکہ ان دنوں جرمنی دوبارہ سر اٹھانے کی کوشش کر رہا تھا اس لئے جدھر سے جو ملتا ، جتنا ملتا  قبول کر کے ملک کی بنیادیں از سر نو مضبوط کرنے پر صرف کر دیتا ۔ قرضہ کے نیک نیتی اور درست استعمال کی بدولت جرمنی نے ترقی کی منازل تیزی سے طے کر کے دنیا کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا ۔ جب میں 1972 میں جرمنی آیا تو جناب سید سجاد حیدر جرمنی میں پاکستان کے سفیر تھے اور اپنی ذات میں اسقدر حلیم الطبع تھے کہ ہم سب نوجوانوں کو بیٹا بیٹا کہہ کر مخاطب کیا کرتے تھے ۔ سفارت خانہ بون میں تھا 

اور پاکستانیوں کی تھوڑی بہت تعداد فرینکفرٹ میں موجود تھی ۔ اس لئے وہ اکثر فرینکفرٹ آ جاتے اور یوتھ ہوسٹل کے چھوٹے ہال میں پاکستانیوں سے مل کر ان کا حال احوال دریافت کر لیتے ۔ فرینکفرٹ میں Bethman بنک کی مالک فیملی کے فرد Dr. Krnanan اعزازی قونصلر جنرل آف پاکستان تھے ۔ انہوں نے پاکستانی امور سے متعلق ایک بڑی عمر کی خاتون Frau Huban ملازم رکھی ہوئی تھیں ۔ جنہوں نے اپنے ملحقہ کمرے کے ساتھ ایک کمرہ میں پاکستانیوں کو مل بیٹھنے کے لئے جگہ فراہم کر رکھی تھی۔ پردیس میں ہم پاکستانیوں کے لئے وہ جگہ اس لئے بھی بڑی غنیمت تھی کہ ایک دوسرے کی زبانی احوال وطن سے آگاہی حاصل ہو جاتی ۔ 

وقت نے کروٹ لی ۔ جرمنی کا دارالحکومت بون سے برلن چلا گیا ۔ فرینکفرٹ جہاں ہمیشہ پاکستانیوں کی قابل ذکر تعداد رہی ہے وہاں با اختیار قونصل خانہ کام کرنے لگا ۔ اس اعتبار سے بون ۔ برلن اور فرینکفرٹ خوش نصیب رہے ہیں کہ یہاں انے والے صاحب اختیار ہمدرد ، مشکل کو سلجھانے والے اور موبائل قونصل سروس مہیا کر کے پاکستانی کمیونیٹی کی خدمت پر تیار رہے ہیں ۔ ابھی آجکل میں نئے سفیر پاکستان جناب سلمان شریف کی برلن میں آمد ہوئی ہے ۔ اسی طرح جناب علی انصر زیدی فرینکفرٹ میں بطور قونصل جنرل تعینات ہو کر فرینکفرٹ تشریف لاۓ ہیں ۔ ہم ناظرین وائس آف جرمنی ، ممبران اردو جرمن کلچرل سوسائٹی ، اراکین ہومیونیٹی فرسٹ ارگنائزیشن محترم سفیر پاکستان جناب سلمان شریف اور قونصلر جنرل جناب علی انصر زیدی کو جرمنی میں خوش امدید کہتے ہیں ۔ اور اپنے بھر پور تعاون کا یقین دلاتے ہیں ۔ 

جرمنی میں رہنے والی پاکستانی کمیونیٹی یہ محسوس کرتی ہے کہ برلن اور فرینکفرٹ کا قونصلر سٹاف ضرورت کے مطابق مہیا نہی ۔ جس کے سبب وہ دباؤ کا شکار رہتے ہیں ۔ خصوصا فرینکفرٹ قونصلیٹ میں جگہ کی کمی کا سامنا رہتا ہے جس سے خواتین زیادہ متاثر ہوتی ہیں ۔ ان تکالیف کے باوجود قونصلیٹ سٹاف کا کمیونیٹی سے تعاون قابل قدر ہے ۔ 

جب سے پاکستان ویزہ کا طریق کار نادرا کے ہاتھ میں دے دیا گیا ہے ۔ ویزہ کا حصول مشکل ترین ہو گیا ہے ۔ date of travel کے روز تک ویزہ نہی اتا اور لوگوں کے ٹکٹ ضائع ہو جاتے ہیں ۔ یا پھر ایکسٹرا ادائیگی کر کے نئی بکنگ کروانی پڑتی ہے – ابھی منگل کے روز تین افراد کی فیملی جس نے بیس روز قبل ویزہ کے لئے اپلائی کیا تھا پاکستانی قونصلیٹ میں سفر کے سامان سمیت موجود ویزہ کے حصول کی منتظر تھی جبکہ دوپہر ایک بجے ان کی فلائٹ تھی ۔ ممتاز سیال صاحب اپنا کام چھوڑ کر فیملی کی مدد میں مصروف رہے ۔ سوموار کے روز بھی مجھے دو بار اسی غرض سے قونصلیٹ جانا پڑا ۔ محترم علی انصر زیدی صاحب کو پاکستانیوں کی اس تکلیف کے احساس کے ساتھ آگے بڑھنا ہو گا ۔ محترم نئے سفیر صاحب کی خدمت میں بھی بصد احترام گزارش ہے کہ آن لائن ویزہ دو روز کے اندر جاری ہونے کا بندوبست فرمائیں ۔ 

سفیر محترم سے ایک گزارش جرمن پاکستان فورم کو دوبارہ سے متحرک کرنا ہے ۔ یہ واحد پاکستانی ارگنائزیشن ہے جس کے ممبران میں سنیر جرمن سفارت کار اور کمپنیوں کے مالکان شامل ہیں ۔ اسد درانی صاحب کے  زمانہ سفارت میں یہ ارگنائزیشن بہت متحرک تھی ۔ عبدالباسط صاحب کے بعد کسی نے اس طرف اتنی توجہ نہی دی جس کے باعث یہ زمین پر لیٹ گئی ۔ اس کو جرمنی میں پروان چڑھنے والی نسل کو ساتھ ملا کر دوبارہ متحرک کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس کے لئے پہلا قدم سفیر محترم کو اٹھانا پڑے گا ۔ 

ہم سیدہ ثقلین صاحبہ کو الوداع کہتے ہوے ان کی اس خوبی کا تہہ دل سے اعتراف کرتے ہوے ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ وہ اپنے دور سفارت میں جرمنی کے طول و عرض میں پاکستانی کمیونیٹی سے رابطہ میں رہیں اور جس نے بھی بلایا اس کی دلجوئی کے لئے حاضر ہوتی رہیں ۔ ہم ان کی فعال اور صحت مند زندگی کے لئے دعا گو ہیں ۔ 

متعلقہ پوسٹ