ترقی کی ضمانت – ایکسپریس اردو

2727437 toseefahmedkhannew 1729273230


سندھ اسمبلی نے صوبہ سندھ میں نیا صوبہ بنانے کے خلاف قرارداد منظور کرلی۔ سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے سندھ اسمبلی میں بحث کو سمیٹتے ہوئے اپنی جذباتی تقریر میں یہ ضرور کہا کہ بلدیاتی اداروں کو مزید اختیارات دینے پر غور کرسکتے ہیں مگر یہ عمل ارتقائی طور پر ممکن ہوگا۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد میں نئے صوبوں کے بارے میں اپنے نظریے کی دوبارہ وضاحت کرتے ہوئے یہ کہا کہ وہ رہیں یا نہ رہیں یا تو نئے صوبے بنیں گے یا انتظامی یونٹ قائم ہونگے اور اب نئی قیادت لندن کے میئر صادق خان اور نیویارک کے میئرزہران ممدانی کی طرح ابھرے گی۔ منصوبہ بندی کے وفاقی وزیر احسن اقبال نے بھی نئے صوبوں کی بحث میں اپنا حصہ ڈالتے ہوئے کہا کہ 12 سے 15 نئے صوبے قائم ہونے چاہئیں، انھوں نے اسلام آباد میں انتظامی یونٹ کے قیام کے بارے میں اپنی 20 سے زائد تجاویز کو افشا کردیا ہے۔ انھوں نے وزیر اعظم میاں شہباز شریف کو تجویز پیش کی کہ وہ ملک میں انتظامی اصلاحات کے لیے اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی تشکیل دیں۔

وفاقی وزراء کا اس پوری بحث سے ایک نکتے پر کسی حد تک اتفاق نظر آتا ہے کہ ہر شہر میں ایک مکمل بااختیار بلدیاتی نظام جس میں کونسلر اور یونین کونسل بااختیار ہوں ملک میں موجودہ طرزِ حکومت کو تبدیل کرسکتا ہے۔ اس وقت صوبہ سندھ کے سوا دیگر صوبوں میں منتخب بلدیاتی نظام قائم نہیں ہے(سندھ کا بلدیاتی نظام بیوروکریسی کے سائے میں ہے)۔ الیکشن کمیشن نے گزشتہ ایک عشرہ کے دوران اسلام آباد اور پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے لیے وفاقی وزارت داخلہ اور حکومت پنجاب کو شکایتی خطوط بھیجے ہیں۔

اسلام آباد میں گزشتہ 10 برسوں کے دوران بار بار بلدیاتی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان ہوا ہے اور بار بار بلدیاتی قانون کے نئے مسودے تیار کیے گئے ہیں۔ ان تمام مسودوں میں بیوروکریسی کے سائے میں بلدیاتی نظام کا خاکہ تیار ہوا۔ پروفیسر احسن اقبال کی نئی تجاویز میں نچلی سطح تک کے اختیارات کی منتقلی کا نظام قائم نہیں ہوگا۔ ان کی تجاویز میں اس سوال کا جواب نہیں ملتا۔ کچھ صحافی تو کہتے ہیں کہ اسلام آباد میں کوئی بھی نظام ہو، بیوروکریسی کی ہی بالادستی ہوگی۔

اسی طرح اب گزشتہ ماہ حکومت پنجاب نے بلدیاتی انتخابات کے لیے رقم مختص کی ہے اور نیا بلدیاتی قانون نافذ کیا گیا ہے۔ اس قانون میں منتخب اراکین کو ڈپٹی کمشنر اور کمشنر کی چھتری کے نیچے کھڑا کردیا گیا ہے۔ اس بلدیاتی قانون کا دنیا کے جدید ممالک میں نافذ بلدیاتی نظام سے دور تک کا بھی کوئی تعلق نہیں ہے، اگر حکومت واقعی سمجھتی ہے کہ ملک میں اچھی طرزِ حکمرانی کے بحران کا چاروں صوبوں سے تعلق ہے تو اسے اسلام آباد میں نچلی سطح تک اختیارات کا بلدیاتی نظام قائم کرنا چاہیے اور اسلام آباد کے میئر کو ویسے ہی اختیارات دینے چاہئیں جیسے اختیارات لندن اور نیویارک کے میئر کو حاصل ہیں۔ اسلام آباد کی جن حساس عمارتوں میں ملک کے مستقبل کے بارے میں فیصلے ہوتے ہیں ،ان عمارتوں میں ہونے والے اجلاسوں سے واقفیت رکھنے والے سینئر صحافی اس ساری بحث کو این ایف سی ایوارڈ کے فارمولے میں تبدیلی سے منسلک کرتے ہیں۔

اگرچہ نئے صوبوں کی بحث تو پورے ملک میں ہورہی ہے مگر سندھ میں صورتحال خاصی سنجیدہ ہے۔ اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہیے کہ صوبہ سندھ میں شہری اور دیہی تضاد جو پہلے سے موجود تھا وہ پیپلز پارٹی کی طرز حکمرانی سے زیادہ شدید ہوگیا ہے۔ پیپلز پارٹی کی بری طرز حکمرانی کی سیکڑوں مثالیں ہیں۔ ایک معروف صحافی نے ایک سیمینار میں سندھ حکومت کی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں کئی ہزار ایسے افراد کو استاد کے عہدوں پر تعینات کیا گیا جو ملازمت کا انٹری ٹیسٹ پاس کیے بغیر استاد کے عہدے پر تعینات ہوئے تھے۔

سندھ کے وزیر تعلیم سردار علی شاہ سوشل میڈیا پر گن گرج کے ساتھ اس الزام کی تردید کررہے ہیں اور پیپلز پارٹی کے کچھ حامی سوشل میڈیا پر اس الزام کو سازش قرار دے رہے ہیں۔ جب 2008ء میں پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہوئی تو پیر مظہر الحق سندھ میں وزیر تعلیم کے عہدے پر فائز ہوئے۔ پیر مظہر الحق نے ایم آر ڈی کی تحریک میں خاصی قربانیاں دی تھیں۔ ان کے دور میں ہزاروں افراد کو استاد کے عہدے پر فائز کیا گیا۔ ان افراد نے اہلیت کا کوئی امتحان نہیں دیا تھا، سندھ کے تعلیمی پروجیکٹ کو عالمی بینک امداد فراہم کرتا تھا۔ عالمی بینک نے محکمہ تعلیم سندھ کی امداد بند کرنے کی دھمکی دی۔ اس دھمکی کے بعد سندھ حکومت میں تبدیلیاں کی گئیں۔ پیپلز پارٹی قیادت کے قریبی عزیز کو تعلیم کا سیکریٹری مقرر کیا گیا۔

اساتذہ کے عہدوں پر تقرر کیے گئے افراد کو برطرف کردیا گیا۔ ان افراد نے کراچی پریس کلب، حیدرآباد پریس کلب میں دھرنے دیے اور ریڈ زون میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ پولیس نے کئی دفعہ آنسو گیس ، ہوائی فائرنگ اور فائر بریگیڈ کی گاڑی سے پانی کے شدید دباؤ سے ہجوم کو منتشر کرنے کی کوشش کی مگر کچھ لوگ سندھ کی بیوروکریسی کی سازش یا کسی قانونی کمزوری کی بناء پر اپنی ملازمتوں پر بحال ہوگئے۔ حکومت سندھ نے آئی بی اے سکھر سے اساتذہ کے تقرر کے لیے ٹیسٹ پاس کرنے کو لازمی قرار دیا۔ سندھ پہلا صوبہ ہے جہاں استاد کی اہلیت کے لیے لائسنس کا نظام لازمی قرار دیا گیا ہے جوکہ ایک بڑی مثبت تبدیلی ہے۔

کراچی میں سانحہ گل پلازہ پر حکومت سندھ نے جس بے حسی کا مظاہرہ کیا اس پر کتنا ماتم کیا جائے، اگرچہ اس سانحہ کی تحقیقات کرنے والے عدالتی کمیشن نے تمام بلدیاتی اداروں پر اس سانحے کی ذمے داری عائد کی ہے مگر حکومت نے نئے بلدیاتی ادارہ کے سربراہ کا احتساب نہیں کیا۔ پولیس نے گل پلازہ کی انتظامی کمیٹی کے صدر، سیکریٹری اور 11 سالہ بچے پر مقدمات قائم کرکے اپنی ذمے داری پوری کردی، کچھ عرصہ بعد یہ مقدمات داخل دفتر ہوںگے۔

 اسی طرح کراچی میں یونیورسٹی روڈ کی تعمیر اور آبنائے ہرمز کے کھولنے کے معاملات سوشل میڈیا پر اب تک ٹاپ ٹرینڈ بنا ہوا ہے۔ سندھ حکومت کا سرکاری ملازمتوں کے لیے ایک مسلمہ اصول ہے۔ ہر ضلع میں گریڈ 1 سے گریڈ 16 تک کی آسامیاں اس ضلع میں رہنے والوں کو دی جائیں گی، مگر اس کی مستقل خلاف ورزی سے سندھ کی سیاست میں نئے تضادات پیدا ہوئے۔

 اگرچہ حکومت سندھ نے ایک نیا بلدیاتی نظام قائم کیا ہے جس میں میئر کراچی کے ساتھ ٹاؤنز چیئرمین بھی ہیں مگر اس نظام میں کونسلر، یونین کونسلر، ٹاؤن ناظم اور میئر کراچی مکمل طور پر بااختیار نہیں ہیں، اگرچہ حکومت نے اربوں روپوں کی لاگت سے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ قائم کیا ہے جس کے افسروں کو لاکھوں روپے کی تنخواہیں اور دیگر مراعات دی گئی ہیں مگر سندھ میں صفائی کی صورتحال ناگفتہ بہ ہے جس سے صحت اور ماحولیات متاثر ہورہے ہیں، اگر کونسلر اور یونین کونسل کو بااختیار بنادیا جائے تو کچرے اور سیوریج کے مسائل یونین کونسل کی سطح پر ہی حل ہوسکتے ہیں۔ بلدیہ کراچی کی پورے شہر میں حدود صرف 32 فیصد کے قریب ہیں جب کہ باقی علاقے میں دیگر اداروں کی اجارہ داری ہے۔ بھارت میں انگریز سامراجی دور کی نشانی کنٹونمنٹ بورڈ کو ختم کردیا گیا ہے۔ کراچی کے مسائل کا حل لندن اور نیویارک کے میئر جیسے اختیارات والے میئر کے عہدے میں ہی مضمر ہے ۔ ایک سپر بلدیہ کراچی قائم ہونی چاہیے اور سارا شہر اس کی حدود میں ہونا چاہیے۔

سندھ اسمبلی کو فوری طور پر نچلی سطح تک کے بااختیار بلدیاتی نظام کے قیام کے لیے قانون سازی کرنی چاہیے تاکہ جمہوریت کو تقویت ملے اور کوئی قوت جمہوریت کو ڈی ریل نہ کرے۔ وفاقی وزیر داخلہ کی یہ خواہش درست ہے کہ اب نئی قیادت بلدیاتی اداروں سے ابھرنی چاہیے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں منتخب طلبہ یونین کے ادارے کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔ طلبہ یونین کے عہدیدار جب عملی زندگی میں آتے ہیں تو وہ ہر شعبہ میں بہتر قیادت مہیا کرسکتے ہیں۔ صدر زرداری یورپ کا دورہ مکمل کرکے واپس آگئے ہیں۔ ممکن ہے کہ اسلام آباد سے اٹھنے والے بحران کے حل کے لیے کسی فارمولے پر اتفاق ہوجائے،مگر نچلی سطح تک اختیارات کا بلدیاتی نظام ترقی کی ضمانت ہے۔





Source link

متعلقہ پوسٹ