مہنگا ڈیزل: گڈز ٹرانسپورٹروں نے کرائے میں مزید پانچ فیصد اضافہ کر دیا

398409 1288789933


آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد نے اس ہفتے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد مال برداری کے کرایوں میں مزید پانچ فیصد اضافے کے اپنے فیصلے کا اعلان کر دیا ہے۔

اس سے قبل پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد گڈز ٹرانسپورٹرز نے آٹھ ستمبر کو کرایوں میں پانچ فیصد اضافے کا اعلان کیا تھا۔

آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کے صدر ملک شہزاد اعوان نے جمعے کو ویڈیو بیان میں کہا کہ ملک بھر کے ٹرانسپورٹرز نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تازہ اضافے کی مذمت کی ہے۔ 

پاکستان نے ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 5.28 روپے کا اضافہ کر کے اسے 403.32 روپے فی لٹر جب کہ پیٹرول میں 5.02 روپے کا اضافہ کر کے اسے 375.82 روپے کر دیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق 12 ستمبر سے 14 ستمبر تک ہو گا۔ 

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

شہزاد اعوان کا کہنا تھا: ’ہم گڈز ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں مزید پانچ فیصد اضافے کا اعلان کر رہے ہیں۔‘ کیوں کہ حکومت نے گذشتہ چار دنوں کے دوران ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں بالترتیب 20 روپے اور 24 روپے فی لٹر کا اضافہ کیا ہے۔

پاکستان بھر کے گڈز ٹرانسپورٹرز نے حکام کے ساتھ معاہدہ طے پانے کے بعد احتجاج مؤخر کرنے کا اعلان کرنے سے قبل آٹھ سے 17 اگست تک ہڑتال کی تھی۔

ٹرانسپورٹرز نے ایندھن کی قیمتوں پر روزانہ نظرثانی کرنے کے حکومتی اقدام کے خلاف ہڑتال کی اور حکام پر زور دیا کہ ٹول چارجز پر نظرثانی کی جائے۔ ایک اور اہم نکتہ یہ تھا کہ ٹرانسپورٹرز نے مطالبہ کیا کہ حکومت ایکسل لوڈ مینجمنٹ سے متعلق موجودہ قواعد و ضوابط پر سختی سے عمل درآمد کرے۔

ٹرانسپورٹرز اتحاد نے 17 اگست کو 40 دن کے لیے ہڑتال موخر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت نے ان کے تمام مطالبات مان لیے ہیں، جن میں یہ بھی شامل ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر روزانہ کی بنیاد پر نظرثانی نہیں کی جائے گی۔

شہزاد اعوان نے کہا: ’اگر وفاقی اور صوبائی حکومتیں ہمارے ساتھ کیے گئے معاہدوں پر عمل درآمد میں ناکام رہیں تو پاکستان بھر کے ٹرانسپورٹرز ایک بار پھر ملک گیر ہڑتال کریں گے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ 40 دن کی مدت اگلے ہفتے ختم ہو جائے گی۔

شہزاد اعوان کے مطابق اگر حکومت کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ’ناگزیر‘ ہے تو اسے ٹرانسپورٹرز کو ود ہولڈنگ، ٹول اور دیگر ٹیکسوں میں ریلیف فراہم کرنا چاہیے۔

اس رپورٹ تک حکومت پاکستان نے اعوان کے بیان پر کوئی ردعمل جاری نہیں کیا۔





Source link

متعلقہ پوسٹ