برکس ممالک کامشرق وسطیٰ میں کشیدگی پراظہار تشویشفریقین سے تحمل کی اپیل 

news 1789285824 4071



news 1789285824 4071

(24نیوز)برکس ممالک نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مشترکہ اعلامیے میں فریقین سے تحمل کی اپیل کردی۔
برکس ممالک کے اجلاس میں کشیدگی بڑھانے والے اقدامات سے گریز اور مذاکرات پر زوردیتے ہوئے پُرامن جوہری تنصیبات پر حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا،غزہ میں جنگ بندی، دو ریاستی حل اور سلامتی کونسل میں اصلاحات کا مطالبہ بھی کیاگیا۔
برکس ممالک نے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی سختی سے مخالفت کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں فریقین سے تحمل کرتے ہوئے کشیدگی بڑھانے والے اقدامات سے گریز اور مذاکرات پر زور دیا گیا ،اجلاس میں ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام پر زور دیا اورپُرامن جوہری تنصیبات پر حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا، اجلاس میں دو ہزار ستائیس میں چین کی برکس سربراہی کی مکمل حمایت کا اعلان بھی کیا گیا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور ابوظہبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید کے درمیان برکس کی سائیڈ لائنز پر ملاقات ہوئی جس میں ابو ظہبی کے ولی عہد نے خطے میں استحکام کے لیے کشیدگی میں کمی کی کوششوں کی حمایت کرتے ہوئے خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے فروغ کے لیے مشترکہ تعاون ناگزیر قراردیا۔
 اماراتی میڈیا آفس کے مطابق ابو ظہبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید نے ملاقات میں خطے میں استحکام کے لیے کشیدگی میں کمی کی کوششوں کی حمایت کی،دونوں رہنماؤں نے مختلف علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر گفتگو کی، خطے کی موجودہ صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلۂ خیال کیا گیاجبکہ خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے فروغ کے لیے مشترکہ تعاون ناگزیر قرار دیاگیا۔
 متحدہ عرب امارات نے یکم مارچ کو میزائل حملوں کے بعد احتجاجاً تہران سے سفارتی عملہ واپس بُلالیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے امریکا کو 7شرائط پیش کردیں
دوسری طرف ملائیشین وزیراعظم انور ابراہیم نے پاکستان پر دہشت گردی کا الزام ماننے سے صاف انکار کر دیا۔
برکس اجلاس کیلئے بھارت میں موجود ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم کے بھارتی میڈیا کو دیئے جانے والے ایک انٹرویو کے دوران میزبان نے پہلگام واقعے کا حوالہ دے کر پاکستان پر ریاستی دہشت گردی کا الزام لگوانا چاہا تو انور ابراہیم نے ایسا کرنے سے صاف اور دوٹوک انکار کر دیا،انورابراہیم نے کہا کہ بحیثیت وزیراعظم ان حقائق پر بات کر سکتے ہیں جو ریاستی اداروں نے دیئے، ملائیشیا کے انٹیلی جنس اداروں نے کبھی ایسی کوئی رپورٹ نہیں دی، جس میں ثابت ہو کہ پاکستان بھارت میں کسی ریاستی دہشت گردی میں ملوث ہے۔
انٹرویو کے دوران ملائیشین وزیراعظم نے فلسطین پر اسرائیلی قبضے اور نہتے عوام پر جاری بمباری کی شدید الفاظ میں مذمت بھی کی۔





Source link

متعلقہ پوسٹ