پیٹرول ریلیف اسکیم کے لیے 75 ارب روپے کی منظوری

bike petrol1774611959 0



اسلام آباد:

کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے پٹرول ریلیف اسکیم کے لیے 75 ارب روپے کی منظوری دے دی، دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کو ہفتہ وار 500 روپے کا ریلیف دیا جائے گا جو 100 روپے فی لیٹر کے حساب سے پانچ لیٹر کے برابر ہوگا، جبکہ 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے دس دن کے لیے  ایک ہزار روپے کا ریلیف مقرر کیا گیا ہے جو ماہانہ 30 لیٹر اور 100 روپے فی لیٹر کے حساب سے ہوگا۔

وزارت خزانہ کے مطابق کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اجلاس پیر کو وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت وزارت خزانہ میں ہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری، وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ، وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان، وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی کے علاوہ متعلقہ وزارتوں، ڈویژنز اور ریگولیٹری اتھارٹیز کے وفاقی سیکریٹریز اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس میں پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے وزیراعظم کی فیول ریلیف اسکیم سے متعلق سمری پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں کم آمدنی والے طبقات کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے تناظر میں ٹارگٹڈریلیف فراہم کرنے کے لیے اسکیم پر عملدرآمد کی منظوری دی گئی۔

اسکیم کے تحت دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کو ہفتہ وار 500 روپے کا ریلیف دیا جائے گا جو 100 روپے فی لیٹر کے حساب سے 5 لیٹر کے برابر ہوگا جبکہ 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے دس دن کے لیے 1000 روپے کا ریلیف مقرر کیا گیا ہے جو ماہانہ 30 لیٹر اور 100 روپے فی لیٹر کے حساب سے ہوگا۔

فیول ریلیف اسکیم کا اطلاق صرف غیر تجارتی صارفین پر ہوگا اور ہر صارف یا مالک کو صرف ایک گاڑی کے لیے ریلیف دیا جائے گا۔ وزارت آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشن فیول پاس سسٹم (ایف پی ایس) کو متعارف اور منظم کرے گی جس کے ذریعے ریلیف کی ڈیجیٹل طریقے سے شفاف فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔ اجلاس میں اسکیم پر عمل درآمد کے لیے 75 ارب روپے کے ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ (ٹی ایس جی) کی منظوری بھی دی گئی۔

ای سی سی نے پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) کی ملکیت اور انتظامی کنٹرول کی تنظیم نو سے متعلق وزارت بحری امور کی سمری پر بھی غور کیا اور نجکاری کے وزیر کی سربراہی میں قائم عملدرآمد کمیٹی کی سفارشات کے مطابق عملدرآمد فریم ورک کی منظوری دے دی۔

اجلاس میں پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی 2023 کے تحت موجودہ اور براؤن فیلڈ ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن سے متعلق ڈرافٹ اپ گریڈ معاہدے کی بھی منظوری دی گئی۔

معاہدے میں ریفائنریوں کے اپ گریڈیشن منصوبوں اور متعلقہ مراعات پر عمل درآمد اور نگرانی کا فریم ورک فراہم کیا جائے گا جبکہ منصوبوں کی تکمیل کی مدت پانچ سال مقرر کی گئی ہے۔

ای سی سی نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کے مالی معاملات کے تصفیے سے متعلق پیٹرولیم ڈویژن کی تجویز بھی منظور کرلی۔ اس کے تحت جولائی 2025 سے جون 2026 تک او ایم سیز کے غیر ایڈجسٹ شدہ ان پٹ سیلز ٹیکس کلیمز کا معاوضہ ان لینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن (آئی ایف ای ایم) کے ذریعے ادا کیا جائے گا اس انتظام کو کلیمز کے تصفیے کے لیے عبوری طریقہ کار کے طور پر استعمال کیا جائے گاجبکہ متعلقہ اتھارٹی کی جانب سے ضروری جانچ پڑتال اور تصدیق بھی یقینی بنائی جائے گی۔

سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ڈویژن کی جانب سے کمرشل بنیادوں پر استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کے معیارات اور ضابطہ جاتی تقاضوں سے متعلق ای سی سی کے سابقہ فیصلے پر نظرثانی کی سمری بھی اجلاس میں پیش کی گئی۔ ای سی سی نے معاملہ مؤخر کرتے ہوئے ہدایت کی کہ وہیکل امپورٹ انسپیکشن نظام کا جائزہ لینے کے لیے قائم کمیٹی کی سفارشات حاصل کرنے کے بعد سمری دوبارہ پیش کی جائے۔

ای سی سی نے نیشنل فوڈ سکیورٹیز اینڈ ریسرچ ڈویژن کی جانب سے 2 لاکھ میٹرک ٹن اضافی چینی برآمد کرنے کی اجازت سے متعلق سمری پر بھی غور کیا اور شوگر سے متعلق قائم اسٹیئرنگ کمیٹی کی سفارشات کی منظوری دے دی ہے اس ضمن میں مقامی مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں کے استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے مناسب حفاظتی اقدامات بھی شامل ہوں گے۔

اجلاس میں کابینہ ڈویژن کی جانب سے ستمبر 2027 میں اسلام آباد میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او)کے کونسل اجلاس کے دوران استعمال کے لیے 15 بلٹ پروف سیڈان گاڑیوں کی خریداری کے لیے 3 ارب روپے کے ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ کی فراہمی کی سمری بھی منظور کی گئی۔

ای سی سی کو بتایا گیا کہ سربراہان مملکت کی فول پروف سکیورٹی کے لیے ان گاڑیوں کی ضرورت ہے۔ کمیٹی نے اہم اجلاس کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے بروقت اور جامع تیاریوں پر زور دیا تاکہ سربراہان مملکت کے لیے محفوظ اور مناسب سفری انتظامات یقینی بنائے جاسکیں۔

اجلاس میں کرغزستان میں حالیہ سربراہان مملکت کے ایس سی او اجلاس کے دوران کیے گئے اعلیٰ سطح کے انتظامات کا بھی ذکر کیا گیا اور انہیں قابل تقلید قرار دیا گیا۔





Source link

متعلقہ پوسٹ