امریکی صدر ٹرمپ نے ایک روز قبل ہی نئی پالیسی نافذ کی تھی جس کے تحت غیرملکی طلبا اور صحافیوں کے امریکا میں قیام کی مدت کو نمایاں طور پر کم کردیا تھا اور قیام میں توسیع کے لیے دوبارہ سے ویزا پراسس کی شرط رکھی گئی تھی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ کی اس نئی پالیسی کے خلاف غیرملکی طلبا، اساتذہ، جامعات اور صحافیوں کی نمائندگی کرنے والی یونینوں کے اتحاد نے عدالت سے رجوع کیا تھا۔
جس پر ڈسٹرکٹ جج ڈینس سیلر نے اس کیس کی سماعت کے بعد نئی پالیسی کے نفاذ کے خلاف ابتدائی حکم امتناع جاری کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے غیرملکی طلبا اور صحافیوں کے قیام کی مدت محدود کرنے والے نئے ویزا قواعد پر عمل درآمد روک دیا۔
طلبا اور صحافیوں کے قیام سے متعلق نئی پالیسی کیا تھی ؟
صدر ٹرمپ کی نئی پالیسی کے نفاذ کے بعد محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے مجوزہ قواعد کے تحت اسٹوڈینٹ ویزا رکھنے والے غیرملکی شہریوں کو زیادہ سے زیادہ 4 سال تک امریکا میں رہنے کی اجازت دی جانی تھی جس کے بعد انہیں قیام جاری رکھنے کے لیے توسیع کی درخواست دینا پڑتی۔
اس کے برعکس نئی پالیسی سے پہلے یعنی موجودہ نظام میں غیرملکی طلبا کو عموماً اپنی تعلیم کی مدت مکمل ہونے تک امریکا میں قیام کی اجازت ہوتی تھی اور جب تک تعلیم مکمل نہ ہوجائے توسیع کے لیے دوبارہ پراسس نہیں کرنا پڑتا تھا۔
اسی طرح ٹرمپ کے نئے قواعد کے تحت غیرملکی صحافیوں کو امریکا میں زیادہ سے زیادہ 240 دن، یعنی تقریباً 8 ماہ قیام کی اجازت ہوتی جس کے بعد مزید توسیع کے لیے درخواست دینا پڑتی۔
حالانکہ ٹرمپ کی نئی پالیسی کے نفاذ سے قبل غیرملکی صحافیوں کو امریکا میں کم از کم 5 سال تک قیام کرنے کی اجازت ہوتی تھی جسے اب صرف 8 ماہ کردیا گیا تھا۔
ٹرمپ کی نئی پالیسی کے تحت چین سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کے لیے مجوزہ مدت اس سے بھی کم یعنی صرف 90 دن مقرر کی گئی تھی تاہم وہ بھی مزید 90 دن کی توسیع کے لیے درخواست دے سکتے تھے۔
ٹرمپ کی اس نئی پالیسی سے دنیا بھر کے ہزاروں طلبا اور صحافی متاثر ہوئے تھے تاہم اب عدالت نے اس پالیسی کو معطل کرکے کیس کا مکمل فیصلہ آنے تک پرانی پالیسی جاری رکھنے کا فیصلہ دیا ہے۔
ڈسٹرکٹ جج ڈینس سیلر نے نئی پالیسی کے نفاذ کے خلاف ابتدائی حکم امتناع جاری کردیا یعنی حتمی فیصلہ آنے تک پرانی پالیسی نافذالعمل رہے گی جس کے تحت طلبا کو تعلیم مکمل ہونے اور صحافیوں کو پانچ سال تک قیام کی اجازت ہوگی۔
جج نے ویزا پالیسی پر کیا اعتراض کیا؟
خیال رہے کہ جج سیلر نے فی الحال قواعد کے نفاذ کو روک دیا ہے تاہم انھوں نے مقدمے کے حتمی قانونی نکات پر فیصلہ نہیں دیا۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 2 اکتوبر کو مقرر کی ہے۔
اپنے حکم کے ساتھ جاری کیے گئے تفصیلی نوٹ میں جج نے نئی پالیسی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ نظام کے ذریعے گزشتہ کئی دہائیوں میں کروڑوں غیرملکی طلبا امریکا آئے جس کے نتیجے میں سائنس، طب اور ٹیکنالوجی میں اہم تحقیق کے ساتھ ساتھ امریکی معیشت کو بھی نمایاں فوائد حاصل ہوئے۔
جج کا حکم امتناع جاری کرتے ہوئے مزید کہنا تھا کہ موجودہ نظام کو بہتر بنانے کے بجائے محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے ایسا نیا پروگرام متعارف کرانے کا فیصلہ کیا جس سے غیرملکی طلبا، محققین، پروفیسرز اور صحافیوں کی تعداد نمایاں طور پر کم ہوسکتی ہے۔
انھوں نے خاص طور پر ویزا توسیع کے طریقہ کار پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ نئی پالیسی کے تحت محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے حکام کو ویزا توسیع مسترد کرنے کا وسیع اختیار حاصل ہوگا اور ایسے فیصلے کے خلاف مؤثر اپیل کا راستہ بھی موجود نہیں ہوگا۔
جج نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس اختیار کا غلط استعمال ہوسکتا ہے خصوصاً ایسے غیرملکی صحافیوں کے خلاف جو امریکی حکومت یا محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے حکام پر تنقید کرتے ہوں۔
امریکی محکمہ ہوم لینڈ کا مؤقف
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے نئی پابندیوں کا جواز قومی سلامتی کو قرار دیا تھا تاہم جج سیلر نے اس دلیل پر بھی سخت سوالات اٹھائے۔
جج کا کہنا تھا کہ حکومت کا قومی سلامتی سے متعلق مؤقف چند محدود واقعات اور مثالوں پر بڑی حد تک انحصار کرتا ہے اور یہ دلیل نئی پابندیوں کے وسیع دائرہ کار کو ثابت کرنے کے لیے ناکافی دکھائی دیتی ہے۔
یہ ویزا پابندیاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وسیع تر امیگریشن پالیسی کا حصہ ہیں جس میں غیرقانونی امیگریشن کے خلاف کارروائیوں کے ساتھ قانونی طور پر امریکا آنے اور قیام کرنے کے راستوں پر بھی مزید پابندیاں عائد کرنے کی کوششیں شامل ہیں۔
امریکا میں کتنے غیرملکی طلبا ہیں؟
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2023-24 کے تعلیمی سال میں امریکا میں 11 لاکھ سے زائد غیرملکی طلبا زیر تعلیم تھے جو کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔
عدالت کی جانب سے نئے قواعد کا نفاذ روکنے کے بعد فی الحال غیرملکی طلبا اور صحافیوں کے لیے مجوزہ مختصر ویزا مدت نافذ نہیں ہوگی جبکہ 2 اکتوبر کی سماعت میں اس معاملے پر مزید پیش رفت متوقع ہے۔
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے امیگریشن پالیسی کو سخت کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ ان میں قانونی امیگریشن کے مختلف راستوں پر پابندیاں، ویزا نظام میں اضافی جانچ پڑتال اور امریکا میں غیرملکی شہریوں کے قیام کو محدود کرنے کی تجاویز شامل ہیں۔

