ایڈ شیرن کے ساتھ پرفارم کرنے والے چار فنکاروں نے اس وقت ٹور چھوڑ دیا ہے، جب ریپر میکلمور کو سٹیج پر فلسطین کے حق میں دیے گئے بیانات کے بعد دورے سے نکال دیا گیا۔
ایڈ شیرن کی جانب سے غزہ جنگ کے حوالے سے عوامی بحث میں شامل نہ ہونے کے بیان کے چند گھنٹے بعد آئرلینڈ کے فنکار ایرن رو اور بیوگا، ڈنمارک کے بینڈ لوکاس گراہم اور فینیئس نے انسٹاگرام پر اعلان کیا کہ وہ دورے سے دستبردار ہو رہے ہیں۔
یہ پیش رفت میکلمور کے اس اعلان کے بعد سامنے آئی ہے کہ انہیں ایڈ شیرن کے امریکہ میں باقی دورے کے پروگراموں میں بطور معاون فنکار شامل نہیں کیا جائے گا۔
میکلمور نے دعویٰ کیا تھا کہ گلوکار نے انہیں بتایا کہ گِلٹ سٹیڈیم کے مالک کرافٹ گروپ کے چیف ایگزیکٹو رابرٹ کرافٹ نے ذاتی طور پر فون کر کے کہا تھا کہ انہیں اس مقام پر پرفارم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ایرن رو امریکہ میں ایڈ شیرن کے باقی پروگراموں کے لیے میکلمور کی جگہ لینے والے فنکاروں میں شامل تھے، جبکہ بیوگا شیرن کے ساتھ بطور ٹورنگ بینڈ کام کر رہے تھے۔ بلی ایلش کے بھائی اور موسیقی میں ان کے ساتھی فینیئس رواں سال کے آخر میں جنوبی امریکہ میں ایڈ شیرن کے ساتھ دورے پر جانے والے تھے۔
فینیئس نے لکھا: ’فنکاروں کو مظلوموں کے لیے آواز اٹھانے پر خاموش نہیں کروایا جانا چاہیے۔ میں نے ایڈ شیرن کے ساتھ اپنے آئندہ دورے کے پروگراموں سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ میں فلسطین اور اس کے عوام کے ساتھ کھڑا ہوں۔‘
ایرن رو کے پیغام میں جزوی طور پر کہا گیا: ’میں یہ فیصلہ آسانی سے نہیں کر رہا۔ ایڈ میرے دوست رہے ہیں اور انہوں نے میری زندگی بدل دی ہے، میں اس کے لیے ان کا کبھی بھی کافی شکریہ ادا نہیں کر سکتا۔‘
بیوگا نے انسٹاگرام پر بتایا کہ وہ ’صہیونی لابیوں کی جانب سے میکلمور کو خاموش کروائے جانے‘ کے بعد ایڈ شیرن کے بینڈ کا حصہ نہیں رہیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ وہ 10 سال سے زیادہ عرصے سے ایڈ شیرن کے دوست ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے، ’ایسے مقامات پر پرفارم کرنا جو آزاد فلسطین کے حق میں آواز اٹھانے والوں کو خاموش کرواتے ہیں، ہمارے لیے کسی صورت قابل قبول نہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’ہم میکلمور کی پرفارمنس اور تقریر کے وقت وہاں موجود تھے۔ ہم ان کے پیغام کی مکمل حمایت کرتے ہیں، میٹ لائف سٹیڈیم میں موجود زیادہ تر شائقین نے بھی ان کے پیغام کی حمایت کی، جو لابیوں کے لیے خوفناک بات ہے۔ ہم آئرش لوگ ہیں اور نوآبادیات کو سمجھتے ہیں۔ آئرش آرٹسٹس فار فلسطین تحریک کے بانی ارکان کی حیثیت سے ہم انصاف کے لیے سرگرم کارکن ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے۔‘
دوسری جانب لوکاس گراہم نے ایڈ شیرن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے ’ایک مشکل فیصلہ‘ قرار دیا۔
بینڈ نے لکھا: ’پیسہ آپ کو گفتگو پر اختیار رکھنے کا حق نہیں دیتا۔ کسی کے بینک اکاؤنٹ میں موجود رقم سے یہ فیصلہ نہیں کرنا چاہیے کہ کس کو بولنے کا حق ملے گا یا ہمیں کس کے مصائب کو تسلیم کرنے کی اجازت ہوگی۔‘
یہ بیان بظاہر ارب پتی رابرٹ کرافٹ کے میکلمور کو دورے سے نکالے جانے میں کردار کی جانب اشارہ تھا۔
اس سے قبل منگل کو ایڈ شیرن نے میکلمور کو اپنے افتتاحی فنکار کے طور پر ہٹائے جانے کے معاملے پر بات کرتے ہوئے اس کا ذمہ دار منتظمین کو قرار دیا تھا۔
انہوں نے انسٹاگرام پر جاری بیان میں کہا: ’میکلمور کا دورے سے الگ ہونا منتظم کا فیصلہ تھا، میرا نہیں۔ میں ان مداحوں کو کبھی مایوس نہیں کروں گا جنہوں نے اس کے لیے منصوبہ بندی کی تھی، نہ ہی میں ٹورنگ عملے اور دیگر معاون فنکاروں اور موسیقاروں کو چھوڑوں گا، جو کام اور روزگار کے لیے مجھ پر انحصار کرتے ہیں۔‘
میکلمور نے سٹیج پر کیا کہا تھا؟
میکلمور نے پیر کو کہا کہ انہیں لوپ ٹور سے اس وقت نکالا گیا جب انہوں نے 5 ستمبر کو نیو جرسی کے میٹ لائف سٹیڈیم میں اپنے احتجاجی گیت ’ہندز ہال‘ پیش کرتے ہوئے ’آزاد فلسطین‘ کا نعرہ لگایا۔
شو کے دوران میکلمور نے سامعین سے کہا: ’میرے تمام یہودی بھائیوں اور بہنوں کے لیے، اسرائیل پر تنقید، نسل پرستی پر مبنی نظام کے خلاف تنقید، نسل کشی کے خلاف ہونا، کسی بھی طرح آپ پر تنقید نہیں ہے۔‘
میکلمور نے کہا کہ امریکہ کے کئی مقامات نے منتظم کو مطلع کیا تھا کہ وہ انہیں ایڈ شیرن کے افتتاحی فنکار کے طور پر پرفارم کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ اس پابندی کی قیادت این ایف ایل کی نیو انگلینڈ پیٹریاٹس ٹیم کے مالک رابرٹ کرافٹ نے کی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
کرافٹ نے پیر کو جاری ایک بیان میں کہا کہ میکلمور کو ہٹانے کا فیصلہ ان کے حالیہ بیانات ’اور یہود مخالف بیان بازی اور تصاویر کی ایک وسیع تاریخ‘ کے بعد کیا گیا، جن کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ ’یہودی برادری کے لیے انتہائی توہین آمیز اور تکلیف دہ‘ ہیں۔
ایڈ شیرن نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ انہوں نے ’پورا ہفتہ مقامات کے منتظمین سے تفصیل سے بات کی تاکہ پل بنانے کی کوشش کی جا سکے‘، تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ ’مقام اور منتظم کا فیصلہ حتمی تھا۔‘
بڑھتی ہوئی تعداد میں تنظیموں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ غزہ میں اسرائیل کے اقدامات نسل کشی کے زمرے میں آتے ہیں، تاہم اسرائیل اس الزام کو سختی سے مسترد کرتا ہے۔
میکلمور کو ایڈ شیرن کے باقی 10 میں سے 8 سٹیڈیم شوز میں پرفارم کرنا تھا، جن کا دوبارہ آغاز ہفتے کو فلاڈیلفیا میں ہونا تھا، جہاں لوکاس گراہم اور ایرن رو بھی شامل تھے۔ آئندہ پروگراموں میں گِلٹ سٹیڈیم، اٹلانٹا کا مرسڈیز بینز سٹیڈیم اور انڈیانا پولس کا لوکاس آئل سٹیڈیم شامل ہیں۔
ایڈ شیرن نے کہا کہ ان کا مقصد موسیقی کے ذریعے مختلف پس منظر رکھنے والے سامعین کو ایک ساتھ لانا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ’اس تباہ کن تنازعے‘ کے حوالے سے ان کی ذاتی رائے ہے، تاہم وہ عوامی سطح پر اس بارے میں بات نہ کرنے کا انتخاب کرتے ہیں کیونکہ کنسرٹ میں آنے والے افراد ’سیاسی فورم کی توقع نہیں رکھتے‘۔ انہوں نے مزید کہا: ’میں اس میں شریک نہیں ہوں۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’میں میکلمور کے اس مقصد کے لیے مضبوطی سے کھڑے ہونے اور اپنی رائے کے لیے آواز بلند کرنے کی قوت ارادی کا احترام کرتا ہوں۔ تاہم، ایک ہی مقصد یعنی امن کے لیے متعدد طریقے اختیار کیے جا سکتے ہیں۔ میں اپنی شہرت اور پلیٹ فارم کو ایک ایسی جگہ بنانے کا انتخاب کرتا ہوں جہاں تحفظ اور پناہ ملے، سفارت کاری برقرار رہے اور بات چیت کو بند کرنے کے بجائے کھلا رکھا جائے۔‘

