پیرس: یورپی یونین نے 13 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی تجویز پیش کردی ہے جبکہ 15 سال کی عمر تک بچوں کو سوشل میڈیا کے محدود اور والدین کی نگرانی میں استعمال کی اجازت دینے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لاین نے یورپی پارلیمنٹ میں یہ تجاویز پیش کیں۔ ان کا مقصد بچوں کو سوشل میڈیا کے ایسے فیچرز سے محفوظ رکھنا ہے جو صارفین کو پلیٹ فارم پر زیادہ وقت گزارنے پر آمادہ کرتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں 20 سے زائد ممالک بچوں اور نوجوانوں کے سوشل میڈیا استعمال کو محدود کرنے کے لیے اقدامات کرچکے ہیں۔ آسٹریلیا نے 2025 کے آخر میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی نافذ کی تھی۔
برازیل میں 16 سال سے کم عمر صارفین کے اکاؤنٹس کو والدین کے اکاؤنٹس سے منسلک کرنے اور عمر کی تصدیق کے اقدامات کیے گئے ہیں جبکہ چین نے بھی کم عمر افراد کے سوشل میڈیا اور اسٹریمنگ پلیٹ فارمز کے استعمال پر مختلف پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔
یورپی یونین کے بعض رکن ممالک پہلے ہی اپنی سطح پر اقدامات کر رہے ہیں۔ یونان نے 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا محدود کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، جبکہ آسٹریا اور سلووینیا میں بھی کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی سے متعلق قانون سازی زیر غور ہے۔
یورپی یونین کی نئی تجویز ابھی حتمی قانون نہیں بنی۔ اس پر مزید غور اور رکن ممالک کے درمیان قانونی و سیاسی عمل مکمل ہونا باقی ہے۔

