کل کی پرسکون اور آج کی پریشان کن غربت

2727427 muhammadibrahimkhalil 1729272984


پاکستان اور تاجکستان کے درمیان باہمی تجارت اور زرعی تعاون بڑھانے پر اتفاق کرلیا گیا ہے۔ گزشتہ دنوں وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ نے تاجکستان کے سفیر یوسف شریف زادہ سے ملاقات کی جس میں پاکستان اور تاجکستان کے درمیان باہمی تجارت، زرعی تعاون، اقتصادی روابط اور دو طرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

تاجکستان وہ ملک ہے جو پاکستان سے انتہائی قریب واقع ہے۔ افغانستان کی ایک پٹی واخان کے نام سے ہے ،وہاں سے بتایا جاتا ہے کہ تاجکستان کا فاصلہ 20 یا 22 کلومیٹر رہ جاتا ہے۔ فی الحال موسمی حالات اور دشوار گزار راستے کے باعث اس روٹ سے تجارت نہیں ہو پا رہی ہے۔ اول افغانستان تعلقات اس راستے میں بڑی رکاوٹ ہیں، تاجکستان نے خواہش ظاہر کی ہے کہ وہ پاکستان سے اپنے تجارتی روابط بڑھانا چاہتا ہے جس کے لیے دونوں ملکوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی روابط زرعی اور غذائی شعبوں میں تعاون کے نئے مواقع کی تلاش کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں۔

ہمارے ملک کا اہم مسئلہ یہ ہے کہ تمام تر منصوبے، کہانیاں، جدوجہد حتیٰ کہ سفر یہ سب کچھ کاغذی کارروائی ہے اور ایئرکنڈیشنڈ رومز میں تشکیل دیے جاتے ہیں۔ زمینی حقائق کے حصول کے لیے جدوجہد ماہرین کی طرف سے تحقیق کے لیے سفر کرنا، مثلاً تاجکستان ایک ایسا وفد بھیجا جائے جس میں ماہرین بھی ہوں ، معیشت دان بھی ہوں، ماہر شماریات بھی ہوں، تجربہ کار آنکھیں رکھنے والے بزرگ خاندانی جدی پشتی تاجر بھی ہوں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ برصغیر میں ایک عرصہ دراز تک یہ سلسلہ جاری رہا کہ وسطی ایشیا کے بہت سے ملکوں کے تاجر ماہرین فن اور عالم حتیٰ کہ بزرگان دین، مشائخ عظام انھی ممالک سے برصغیر وارد ہوتے تھے۔ خاص طور پر مغلوں کے دور میں تجارتی علمی مراکز دہلی، آگرہ، لکھنو اور دیگر شہروں میں یہ لوگ وہیں بس گئے۔ کچھ پنجاب کے مختلف علاقوں میں آکر رہ گئے۔

قیام پاکستان کے بعد ان لوگوں کی اکثریت نے پاکستان کا رخ کیا۔ ان میں زیادہ تر تاجر تھے، اسی لیے میں ان کو جدی پشتی تاجر قرار دیتا ہوں۔ یہ تاجر جب کسی بازار سے گزر جاتے ہیں تو ان کی چھٹی حس ان کو آگاہ کر دیتی ہے کہ پاکستان سے کون سی چیز لا کر یہاں فروخت کی جائے تو ہاتھوں ہاتھ خریدی جائے گی۔ اس کے علاوہ تاجکستان زرعی تعاون پر بھی آمادہ ہے۔ دو سے تین بزرگ کسانوں اور ماہرین زراعت اور دیگر افراد پر مشتمل وفود بھی بھیجیں جو وہاں کے کھیتوں میں جا کر کسانوں سے ملاقات کریں اور معلومات کا تبادلہ خیال کریں۔

جیساکہ اس عزم کا اظہار خیال کیا گیا ہے کہ مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔ آپ ان کو پاکستان بلائیں وہ یہاں آ کر دیکھیں، مطالعہ کریں کھیتوں، کارخانوں، کھلیانوں، باغات اور دیگر مقامات کا مطالعہ کریں اور ہماری طرف کا وفد ان ملکوں میں جائے وہاں کے تاجروں، کسانوں سے ملاقات کریں، کھیتوں، باغوں، نہروں وغیرہ کا دورہ کرکے معلومات اکٹھی کریں اور عملی طور پر کچھ نہ کچھ تشکیل کرلیں۔ چاہے چھوٹے بڑے سودے ہوں، زرعی ٹیکنالوجی کی درآمد ہو یا اور بہت کچھ ہو سکتا ہے۔

بات صرف فائلوں کی حد تک رہتی ہے تو عملی اقدامات نظر نہیں آتے۔ اگر اقدامات بھی ایسے ہوں جس میں عزم نہ ہو ترجیح نہ ہو، ماہر کے ہاتھوں کئی امور کی تشکیل نہ ہو، تجربے کار افراد شامل نہ ہوں تو بس یوں سمجھیں یہ ایک تفریحی ٹور بن کر رہ جاتا ہے اور بات پھر فائلوں میں دب کر رہ جاتی ہے۔ اگر واخان کے راستے سے تجارت شروع ہو جاتی ہے، رکاوٹوں کو دور کر لیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں پاکستان کو ایک بڑی منڈی حاصل ہو جائے گی اور باآسانی تجارت کو دو سے تین ارب ڈالر تک لے جا سکتے ہیں۔ پاکستان کی زرعی پیداوار، فوڈ پروسیسنگ، لائیو اسٹاک، زرعی ٹیکنالوجی اور ویلیو ایڈیشن کے شعبوں میں تاجکستان کے ساتھ تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

تاجک سفیر نے وفاقی وزیر رانا تنویر حسین کو ستمبر میں ہونے والے اقتصادی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کی دعوت دی ہے۔ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دونوں ملکوں کے درمیان جن شعبوں میں تعاون کی نشان دہی کی گئی ہے ،اس کام کو تیزی سے آگے بڑھائیں۔ دونوں ملکوں کے وفود کے تبادلے کو آخری شکل دیں اور عملی اقدامات کو ترجیح دیں۔ سب سے اہم معاملہ واخان کی پٹی کا ہے۔ بصورت دیگر ایران کے راستے تجارت تو ہو رہی ہے لیکن اس میں کئی مسائل رکاوٹیں اور بڑھتے ہوئے اخراجات کا مسئلہ بھی درپیش ہے۔ بہرحال یہ ایک زمینی راستہ ہے جس کیلیے ایران نے ہمیں سہولت دے رکھی ہے۔

پاکستان نے وسط ایشیائی ملکوں کو گوادر سے اپنی تجارت بڑھانے کی پیش کش بھی کر رکھی ہے لیکن افغانستان کی طرف سے رکاوٹوں اور دیگر مسائل کے سبب یہ معاملہ رکا ہوا ہے یا اس میں مسائل زیادہ پیدا ہو رہے ہیں جن کا حل نکالنا بھی ضروری ہے۔ وفاقی وزیر کو تاجکستان کے دورے کے موقع پر ان تمام امور پر گفتگو کرنی چاہیے۔ نہ صرف تاجکستان بلکہ دیگر وسط ایشیائی ممالک جن کی اکثریت اسلامی ممالک کی ہے پاکستان اور دیگر ممالک بھی گوادر کی بندرگاہ کے ساتھ تجارتی روابط بڑھانا چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممالک لینڈ لاک ممالک میں شمار ہوتے ہیں۔

پاکستان تاجکستان نے 20 کروڑ ڈالر تک باہمی تجارت بڑھانے کا عزم کیا ہے۔ جون 26 میں آئندہ تین برسوں میں 20 کروڑ ڈالر تک بڑھانے کے روڈ میپ پر اتفاق کر لیا گیا تھا۔ اتنا عرصہ گزرنے کے بعد اس پر کیا پیش رفت ہوئی، اس کا بھی جائزہ لینا ضروری ہے۔





Source link

متعلقہ پوسٹ