برلن ): جرمنی کی بائیں بازو کی جماعت ‘دی لیفٹ’ کی لیڈر ایلف ایرالپ نے جرمن حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل فلسطین تنازع کے حوالے سے فلسطینیوں، مسلمانوں اور یہودیوں کے مختلف نقطۂ نظر کو زیادہ توجہ دی جائے۔ برلن میں ایک پریس بریفنگ میں انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حکومت پر تنقید اور سام دشمنی کے درمیان واضح فرق قائم رہنا چاہیے، اور مسلمانوں و فلسطینیوں کو بلا ثبوت قصوروار ٹھہرانا ناقابل قبول ہے۔
ایرالپ نے کہا کہ اگر وہ برلن کی میئر بنتی ہیں تو مختلف طبقات کو قریب لانا اور تعمیری مکالمہ ان کی ترجیح ہوگی۔ انہوں نے سی ڈی یو پر الزام لگایا کہ وہ تنقید اور سام دشمنی کے فرق کو سمجھنے میں ناکام رہی ہے۔
پریس بریفنگ میں ‘دی لیفٹ’ کی شریک چیئرپرسن انیس شویرٹنر نے بھی اسرائیلی حکومت پر تنقید کو سام دشمنی قرار دینے کی مخالفت کی اور جنگی جرائم کے الزامات پر بات کی ضرورت پر زور دیا۔ واضح رہے کہ مارچ 2026ء میں ایرالپ نے اپنی جماعت کی لوئر سیکسنی کی قرارداد پر بھی تنقید کی تھی جس میں 7 اکتوبر 2023ء کے حماس حملے اور یہودیوں کے تحفظ کے حق کو مناسب اہمیت نہیں دی گئی تھی، ساتھ ہی انہوں نے فلسطینیوں کے حق خود ارادیت کو بھی تسلیم کیا تھا

