غزل
تنزلی پہ یہ اپنا نصیب لگتا ہے
مجھے تو اُس سے بچھڑنا قریب لگتا ہے
میں راستی کے نہ رستے کو چھوڑ پاؤں گا
نتیجہ اس کا تو گرچہ صلیب لگتا ہے
طلب کرے جو سخی بھیک ہم فقیروں سے
عجیب لگتا ہے کتنا غریب لگتا ہے
یہ آنکھ میری کیوں یکدم جھکی سی جاتی ہے
افق سے آگے دیارِ حبیب لگتا ہے
میں اس لئے ترے ہجراں میں شاد رہتا ہوں
کہ دور ہونے کا مطلب قریب لگتا ہے
چہک پرندے کی آغازِ صبح ہے لیکن
یہ اختتامِ ملن کا نقیب لگتا ہے
ستم جو راہِ محبت میں مل رہے یارو
مجھے تو اوج پہ اپنا نصیب لگتا ہے
خمارِ مے ہے نہ اِک قربِ ناز بھی ساجدؔ
یہ شام ڈھلنے کا منظر عجیب لگتا ہے
(شیخ محمد ساجد۔ لاہور)
غزل
مٹا کہاں ہے یہ حیلے ہزار کرنے سے
کہ زخم اور نمایاں ہوا ہے بھرنے سے
سنو! یہ ترکِ تعلق ہزار بہتر ہے
یوں روز روز اذیت کی موت مرنے سے
ذرا سا حوصلہ منظر بدلنا ہے تجھ کو
بلائیں ٹل نہیں جاتی ہیں یار ڈرنے سے
لباسِ فاخرہ چہرے پہ رنگ و روپ نیا
کہ دل کا میل بھی چھپتا ہے یوں سنورنے سے
میں اپنی ہار کو تسلیم کرنے والا ہوں
مگر تُو جیت نہ پائے گا میرے ہرنے سے
یوں بات بات کو ایسے گھما دیا اس نے
میں اس کو روک بھی پایا نہیں مکرنے سے
ہے عمر بھر کی اسیری عذابِ جاں ارشدؔ
ہمیں تو موت ہی بہتر ہے پَر کُترنے سے
(ارشد محمود ارشد۔ سرگودھا)
غزل
نہیں ہے سہل مگر انتظام کرتا ہوں
منافقین کا قصہ تمام کرتا ہوں
جو کٹ رہی ہے ابھی تک وہ رائیگانی ہے
جو بچ گئی ہے اسے تیرے نام کرتا ہوں
یہ مجھ سے کہتا ہے غصے میں گھر کا سناٹا
تو آ گیا!! تیرا جینا حرام کرتا ہوں
ہوا کا بین عدو کو مرا پتا دے گا
میں اپنی تیغ اگر بے نیام کرتا ہوں
بڑے تپاک سے ملتا تھا میں گلے جن سے
اب اتنی دور سے ان کو سلام کرتا ہوں
اترنے لگتے ہیں کردار سب بغاوت پر
جہاں کہانی کا میں اختتام کرتا ہوں
( نحریر جاوید۔بہاولپور)
غزل
لوگوں سے وہ مت گھبرائے
میری دھڑکن سنتا جائے
میں بنتا ہوں گہرا جنگل
اور وہ بادِ صبا بن جائے
دھوپ کڑی تھی جس کی تپش میں
میرے تازہ گل مرجھائے
کیسی کیسی دنیا دیکھی
کیسے کیسے دھوکے کھائے
زخموں کی باراتیں دیکھیں
خود کو کتنے روگ لگائے
چھوٹا سا تھا دل کا گھروندا
جس میں لاکھوں درد چھپائے
ہجر کی تیز ہوا میں فیصلؔ
ہم نے یاد کے دیپ جلائے
(فیصل امام رضوی۔ مظفرگڑھ)
غزل
اے دوست! سرِ دشت جو مقبول ہوا ہے
وہ عشق مجھے قیس سے موصول ہوا ہے
دالان کے سبزے پہ فقط میں نہیں بدلا
پہلو میں، کوئی خار، کوئی پھول ہوا ہے
مت کوس مجھے میرے رویے کی بنا پر
اک شخص مرے بعد بھی معزول ہوا ہے
دے، دشت ذرا دیر مجھے اپنی قومیت
ذرہ بھی تو ضم ہو کے تری دھول ہوا ہے
بہتے ہی مرے جسم میں کاٹا ہے جگر کو
مشروب مرے نام کا، محلول ہوا ہے
اس بار تو محفل میں کوئی شور نہیں تھا
سچ مان کہ اظہار، نامعقول ہوا ہے
چھل جاتی ہے یہ پشت کہاں ٹیک لگاؤں
دیوار کا ہر کونا ہی ترشول ہوا ہے
سنتے ہی مرا شعر بھری بزم یہ بولی
یہ قول کہیں اور بھی منقول ہوا ہے
قدغن تو ملاقات میں رونے پہ تھی ساگر ؔ
مابعد تو ان آنکھوں کا معمول ہوا ہے
(ساگرحضورپوری۔قطر)
غزل
نئی فضا میں بناتا ہوں رقص کرتا ہوں
چراغِ زیست جلاتا ہوں رقص کرتا ہوں
اسی وجہ سے زمانہ بھی ساتھ دیتا ہے
نئے کمال دکھاتا ہوں رقص کرتا ہوں
کہاں پڑی ہیں دراڑیں تمہارے لہجے سے
کہاں بجھا ہوں دکھاتا ہوں رقص کرتا ہوں
ہمارا شہر بھی اجڑا ہے تیرے جانے سے
بجھے گلاب دکھاتا ہوں رقص کرتا ہوں
خیالِ زرد سے آنکھیں سکڑ بھی سکتی ہیں
خیال ِسبز اگاتا ہوں رقص کرتا ہوں
قدیم نقش سے دنیا قدیم لگتی ہے
نئے میں نقش بناتا ہوں رقص کرتا ہوں
وہ لوٹ آئے گا اک دن مرے لیے احسن ؔ
یقیں میں دل کو دلاتا ہوں رقص کرتا ہوں
(شکور احسن ۔گوجر خان)
غزل
بسایا دل میں تھا ہیرا جسے سمجھتے ہوئے
اسے گنوایا ہے ہاتھوں سے خود بکھرتے ہوئے
تمھاری یاد کے چاقو سے کاٹ لوں اس کو
یہ نبض شور مچاتی ہے جو دھڑکتے ہوئے
تمھاری بزم میں غیروں پہ دیکھ لطف و کرم
نکلتے جاتے ہیں باہر یونہی سرکتے ہوئے
ہر ایک سمت خزاں رت کا دور دورہ ہے
شجر اداس سے رہتے ہیں اب سسکتے ہوئے
جلا رہے ہیں میرے دل کو آؤ دیکھ تو لو
وفا کے پیار کے شعلے بہت بھڑکتے ہوئے
ترا جو پیٹ بھرا ہے تو بھول سب کو گیا
نگاہ ڈال کہ کتنے ہیں یاں ترستے ہوئے
ہر ایک شخص کمانے چلا ہے دنیا کو
یہ دنیا ساتھ نبھاتی نہیں سمجھتے ہوئے
خزاں کا خونی شکنجہ دبوچ لے گا اسے
یہ بھول جاتا ہے ہر گل یہاں نکھرتے ہوئے
ہمارے دل پہ قیامت گذر رہی ہے معانؔ
وہ شوخ ڈھائے قیامت بہت سنورتے ہوئے
(عامرمعان۔ کوئٹہ)
غزل
دو گھڑی کے لیے وہ ہنسنے ہنسانے آتے
پھر کوئی تازہ غزل مجھ کو سنانے آتے
کھڑکیاں بند بھی ہوتی تھیں تو کھلنے کے لیے
کاش پھر لوٹ کے وہ گزرے زمانے آتے
گفتگو انجم و مہتاب سے ہوتی شب بھر
خواب اس کے مجھے سوتے سے جگانے آتے
جن سے بچپن کے شب و روز مہکتے تھے بہت
یاد اک بار تو وہ نام پرانے آتے
دوستی کے اگر احباب روادار نہ تھے
دشمنی اور بڑھانے کے بہانے آتے
رشتہ رکھتے نہ تعلق کوئی رکھتے لیکن
وہ مجھے بھول چکے ہیں یہ بتانے آتے
جن کے ہمراہ بہت دور نکل جاتا تھا
پھر وہ لمحے مجھے اے نورؔ بلانے آتے
(سید محمد نورالحسن نور۔ ممبئی)
غزل
خالی دماغ میں مرے اک خواب بھر گیا
وہ شخص اپنا کام سہولت سے کر گیا
میرا اِدھر درود کا پڑھنا تھا اور اُدھر
اک دم دل و نگاہ کا منظر نکھر گیا
تیرہ شبی کے دور میں تھے کتے بھونکتے
نکلا جو چاند ان کا بھی چہرہ اتر گیا
بامِ فلک سے کھینچ کے پٹخا زمین پر
جونہی ہمارے ذہن سے اس رب کا ڈر گیا
یاران خوش خصال تو تیراک تھے مگر
اک موج تیز گام میں ہر ایک مر گیا
دل سے خیال یار نکلنے پہ یوں لگا
جیسے کسی نواب کا بچہ سدھر گیا
شائق وہ جوئے شیر کی محنت کئے بغیر
بے وجہ یوں نصیب پہ الزام دھر گیا
(شائق سعیدی ۔ڈسکہ)
غزل
جڑ کاٹ رہے ہیں یا شجر کاٹ رہے ہیں
یا پھر کسی انسان کا سر کاٹ رہے ہیں
کل تک جو میرے ساتھ تھے مشکل کی گھڑی میں
وہ آج تعلق کے بھی در کاٹ رہے ہیں
سورج کو بھی زنجیر پہننے کی سزا ہے
ظلمت کے پجاری ہے قمر کاٹ رہے ہیں
ہم سوچ رہے تھے کہ سحر ائے گی اک دن
وہ رات کے ہاتھوں سے سحر کاٹ رہے ہیں
جو لوگ آندھیروں میں چراغوں کے امیں تھے
وہ خود ہی چراغوں کا شرر کاٹ رہے ہیں
کل تک جو محافظ تھے وہ آب دشمنِ جاں ہے
دیوار کے سائے میں وہ گھر کاٹ رہے ہیں
خاموش نا رہ وقت کی آواز سمجھ لے
یہ بھوکے دردندے تو بشر کاٹ رہے ہیں
یہ کیسا زمانہ ہے کہ انصاف ہے زخمی
منصف بھی حقیقت کا اثر کاٹ رہے ہیں
ہم اہل وفا کس سے شکایت کریں آخر
اپنے ہی تو اب اپنا جگر کاٹ رہے ہیں
کہنے کو چمن کے یہ محافظ تو ہے لیکن
یہ لوگ تو تتلی کے بھی پر کاٹ رہے ہیں
یہ کیسی صحافت ہے یہ قانون ہے کیسا
ہر بار تو یہ حق کی خبر کاٹ رہے ہیں
آواز اٹھانا تو یہاں جرم ہے ارسلؔ
گویا کہ زباں والے ہنر کاٹ رہے ہیں
(ارسل شیر ۔کابل ریور، نوشہرہ)
غزل
زیست پر بھار ہو گیا آخر
دل، دلِ زار ہو گیا آخر
میں تجھے یارِ غار سمجھا تھا
تو بھی بیزار ہو گیا آخر
جانے کس غم پہ قہقہے پھوٹے
ہجر کا وار ہو گیا آخر
چاہتوں کی ہی سج گئی تربت
غم ہی غم خوار ہو گیا آخر
زاہدا کیا ہوا تجھے ایسا
کیوں تو مے خوار ہو گیا آخر
(طلحہ بن زاہد۔ اوکاڑہ)
سنڈے میگزین کے شاعری کے صفحے پر اشاعت کے لیے آپ اپنا کلام، اپنے شہر کے نام اورتصویر کے ساتھ ہمیں درج ذیل پتے پر ارسال کرسکتے ہیں۔ موزوں اور معیاری تخلیقات اس صفحے کی زینت بنیں گی۔
انچارج صفحہ ’’کوچہ سخن ‘‘
روزنامہ ایکسپریس، 5 ایکسپریس وے، کورنگی روڈ ، کراچی
موزوں اور معیاری تخلیقات اس صفحے کی زینت بنیں گی۔انچارج صفحہ ’’کوچہ سخن ‘‘ روزنامہ ایکسپریس، 5 ایکسپریس وے، کورنگی روڈ ، کراچی

