واشنگٹن:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اماراتی پرواز میں پیش آنے والے واقعے کے حوالے سے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو سے گفتگو کے دوران انہیں بتایا گیا کہ طیارے کا کوپائلٹ ممکنہ طور پر دہشتگرد تھا۔
اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے بتایا کہ نیتن یاہو سے ٹیلی فونک رابطے میں دبئی سے اسرائیل جانے والی پرواز کے معاملے پر تفصیلی بات ہوئی۔ ان کے مطابق نیتن یاہو نے بتایا کہ ایک اسرائیلی پلمبر نے کوپائلٹ کو قابو کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مذکورہ شخص نے کبھی طیارہ نہیں اڑایا تھا تاہم صورتحال کے دوران اس نے طیارے کا کنٹرول سنبھالنے میں مدد کی اور ممکنہ حادثے سے پرواز کو بچایا۔
بعد میں طیارے کے پچھلے حصے میں موجود اضافی پائلٹس اور سکیورٹی اہلکار کاک پٹ تک پہنچے اور انہوں نے جہاز کا کنٹرول سنبھال لیا۔
امریکی صدر نے ساتھ ہی واضح کیا کہ یہ تفصیلات انہیں نیتن یاہو نے بتائی ہیں اور وہ خود اس بات کی تصدیق نہیں کرسکتے کہ واقعے کی یہ پوری تفصیل درست ہے یا نہیں۔
ٹرمپ نے گفتگو کے دوران چینی صدر شی جن پنگ سے سیاسی قیدیوں کی رہائی کے معاملے پر ہونے والی بات چیت کا بھی ذکر کیا اور امید ظاہر کی کہ یہ رابطہ مثبت نتائج کا باعث بنے گا۔
برطانوی فوجی اڈے پر پیش آنے والے ایک الگ واقعے کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ جلد معلوم ہوجائے گا کہ برطانیہ نے زیر حراست مشتبہ افراد کو رہا کیوں کیا۔
واضح رہے کہ دبئی سے اسرائیل جانے والی فلائی دبئی کی پرواز میں مبینہ طور پر ایک پائلٹ نے دوسرے پائلٹ پر چاقو سے حملہ کرکے اسے زخمی کردیا تھا جس کے بعد طیارے کا کنٹرول حاصل کرنے اور اسے ممکنہ طور پر حادثے کا شکار بنانے کی کوشش کی گئی۔
پرواز میں 169 اسرائیلیوں سمیت مجموعی طور پر 174 افراد سوار تھے۔ واقعے کے بعد مبینہ حملہ آور کو سعودی حکام نے حراست میں لے لیا تھا۔
تاہم فلائی دبئی کی جانب سے واقعے سے متعلق حتمی حقائق سامنے آنے تک قیاس آرائیوں سے گریز کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔

