دو بار سزائے موت پر عملدرآمد کی کوشش خاتون پھر بھی زندہ بچ گئی

news 1790935282 3331



news 1790935282 3331

(ویب ڈیسک)امریکا میں سزائے موت پانے والی ایک خاتون کو زہریلا انجیکشن دے کر موت کی سزا دینے کی کوشش دومرتبہ ناکام ہوگئی جس کے بعد خاتون کو ہسپتال منتقل کردیا گیا۔
غیر ملکی میڈیاکی رپورٹس کے مطابق واقعہ امریکی ریاست ٹینیسی میں پیش آیا جہاں کرسٹا پائیک کو سزائے موت دینے کے لیےدوبار زہریلا انجیکشن دیاگیا، تاہم دونوں کوششوں کے باوجود وہ زندہ رہی۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق انجیکشن دیے جانے کے بعد بھی کرسٹا پائیک ہوش میں تھی اور اس کی سانسوں کی آواز سنائی دیتی رہی، ناکام کارروائی کے بعد اسے طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کردیا گیا۔
 کرسٹا پائیک کو 1995 میں اپنی ہم جماعت طالبہ کے قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی، اس وقت ان کی عمر 18 سال تھی جبکہ اب وہ 50 سال کی ہیں۔
واقعہ کے بعد ٹینیسی کے گورنر نے ریاست میں رواں سال ہونے والی تمام سزائے موت کی کارروائیوں کو روکنے کا حکم دے دیا ہے، گورنر نے اس ناکام کارروائی کی مکمل تحقیقات کی ہدایت بھی کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:قتل کیس کے ملزمان کی ضمانتیں خارج ہوتے ہی ہائیکورٹ میں ہنگامہ آرائی
میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی سپریم کورٹ نے ٹینیسی میں تقریباً 200 سال بعد پہلی مرتبہ کسی خاتون کو سزائے موت دینے کی اجازت دی تھی،کرسٹا پائیک کو سزائے موت دینے کی ناکام کوشش نے امریکا میں سزائے موت کے طریقہ کار اور اس کے انتظام سے متعلق ایک بار پھر سوالات اٹھا دیے ہیں۔





Source link

متعلقہ پوسٹ