عراق: امریکی پرچم کی بے حرمتی پر گرفتاریاں، وزیراعظم کا تحقیقات کا حکم؛ النجباء کا رہائی کا مطالبہ


بغداد،): بغداد میں امریکی اور اسرائیلی پرچموں کو فوجی گاڑیوں تلے روندنے کے ویڈیوز سامنے آنے کے بعد عراقی حکومت نے ملوث افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ وزیراعظم اور مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف علی فالح الزیدی نے واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی قائم کرنے کا حکم دیا ہے۔ ایران نواز گروپ النجباء نے گرفتار افراد کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ واقعہ یکم اکتوبر کو بغداد میں ہونے والی پریڈ کے دوران پیش آیا، جو امریکی زیرقیادت اتحادی مشن کے خاتمے کے بعد "یومِ خودمختاری” کی تقریبات کا حصہ تھی۔ سوشل میڈیا ویڈیوز اور اے ایف پی کی تصاویر میں پاپولر موبلائزیشن فورسیز (پی ایم ایف) سے وابستہ فوجی طرز کی گاڑیاں سڑک پر بچھائے گئے امریکی اور اسرائیلی پرچموں پر سے گزرتی دکھائی دیں۔ پریڈ میں حزب اللہ اور ایران کے پرچم بھی نظر آئے، جبکہ بعض شرکا کے پاس ایران کے سابق رہبر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تصاویر تھیں۔
وزیراعظم کے ترجمان صباح النعمان کے مطابق الزیدی نے مکمل تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کی ہدایت کی ہے۔ حکومت نے کہا کہ دوست ممالک اور ان کے سفارتی مشنز کی علامتوں کا احترام "قانونی اور سفارتی ذمہ داری” ہے۔ حکام نے گرفتار افراد کی تعداد یا وابستگی نہیں بتائی۔
عراق نے ۳۰؍ ستمبر ۲۰۲۶ء کو امریکی زیرقیادت اتحادی مشن کے فوجی کردار کے خاتمے کے بعد قومی تقریبات منعقد کیں، جب آخری امریکی اور اتحادی فوجی اربیل ایئر بیس سے روانہ ہوئے۔ یہ مشن بنیادی طور پر ۲۰۱۴ء میں داعش کے بڑے علاقوں پر قبضے کے بعد اس کے خلاف کارروائیوں سے متعلق تھا۔
پی ایم ایف مختلف مسلح گروہوں کا اتحاد ہے جو ۲۰۱۴ء میں داعش کے خلاف جنگ کے دوران بنا اور ۲۰۱۶ء میں قانون کے ذریعے ریاستی سیکوریٹی ڈھانچے میں شامل ہوا۔ رسمی طور پر یہ وزیراعظم کے اختیار میں ہے، لیکن اس کے کئی طاقتور گروہوں کے ایران سے قریبی تعلقات ہیں۔
امریکی رکن کانگریس جو ولسن نے تصاویر شیئر کرتے ہوئے پی ایم ایف پر پرچم کی بے حرمتی کا الزام لگایا اور عراقی حکومت کی پالیسی پر تنقید کی۔ ادھر حرکت حزب اللہ النجباء کے فوجی نائب عبدالقدیر الکربلائی نے گرفتار نوجوانوں کے اقدام کو امریکہ اور اسرائیل کے خلاف اظہارِ رائے قرار دیا اور گرفتاریوں کو "خطرناک نظیر” کہتے ہوئے رہائی کا مطالبہ کیا۔ گروپ نے عراق میں امریکی کارروائیوں اور خودمختاری کی خلاف ورزی کے الزامات بھی عائد کیے۔ بعد ازاں النجباء کے سربراہ اکرم الکعبی کی ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں وہ ساتھیوں کے درمیان امریکی اور اسرائیلی پرچموں پر چلتے نظر آتے ہیں؛ اس کی ریکارڈنگ کی تاریخ واضح نہیں۔
الزیدی حکومت نے ریاستی کنٹرول سے باہر مسلح گروہوں کے ہتھیار ۳۰؍ جون ۲۰۲۷ء تک حکومت کے اختیار میں لانے کی آخری تاریخ مقرر کی ہے، جس کی النجباء سمیت بعض ایران نواز گروہوں نے مخالفت کی ہے یا شرائط رکھی ہیں۔

متعلقہ پوسٹ