چارسدہ کی تاریخی اور بابرکت سرزمین جو صدیوں سے علم و ادب، زہد و تقویٰ، تزکیہ و احسان اور جلیل القدر علماء کرام کا درخشندہ مسکن اور تاریخی مرکز رہی ہے، کچھ عرصہ سے علماء کرام کے خون سے رنگی خون کے آنسو رو رہی ہے، ابھی شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ادریس شہید رحمہ اللہ کا خون تازہ تھا، اس میں دو رائے نہیں چارسدہ خیبر کے عظیم، غیرت مند اور تاریخی خطے کو ہمیشہ سے علماء، صلحاء اور اہلِ دانش کا مسکن کہا جاتا رہا ہے، جہاں کے عوام کی رگ رگ میں دینِ اسلام کی محبت، قرآنِ مجید سے والہانہ لگاؤ اور صاحبِ قرآن حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی عقیدت سے مزئین خون دوڑتا ہے مگر اسی مقدس، غیور اور دین دار مٹی کو دین و وطن دشمنوں کی نظر لگ گئی ہے، لکھنا تو پندرہ دن پہلے تھا مگر بیماری نے لکھنے نہیں دیا، اس روح فرسا واقعے کو تو تقریباً دو ہفتے گزر گئے ہیں مگر دل ابھی تک مضطرب تھا اور موضوعات کا انبار لگا ہے مگر قلم اس سے پہلے کچھ اور لکھنے پر راضی نہیں، چارسدہ کے گاؤں نیستہ میں مقتدی کے ہاتھوں مسجد میں امام مسجد کے قتل کے دل دہلا دینے والے روح فرسا واقعہ نے نہ صرف پاکستان بلکہ پوری ملتِ اسلامیہ کے دل و جگر کو چھلنی کر کے رکھ دیا ہے۔ میرے مرشد و مربی باباجان رحمہ اللہ فرماتے تھے جس امام کے اقتداء میں ایک بار دو رکعت نماز پڑھ لی وہ آپ کے لیے واجب الاحترام اور واجب التعظیم بن گیا وہ مقتدی جو پانچ وقت نماز جس امام کی اقتداء میں پڑھتا ہے اس کا سر امام و خطیب کے احترام میں ہمیشہ جھکا رہنا چاہیے ان کے سامنے اونچی آواز میں بات نہیں کرنا چاہیے۔
چارسدہ کے علاقے نیستہ میں نسیمِ سحر کے معطر جھونکوں اور نمازِ فجر کی روحانیت سے معظّم و معطر فضا میں جب پرندے اپنے رب کے ثنا خواں تھے، فضاؤں میں”الصلاۃ خیر من النوم” اور ذکرِ الٰہی کی متبرک صدائیں بلند ہونے اور نماز فجر ادا ہونے کے بعد اللہ رب العزت کے گھر مسجد کے دروازے پر منبر و محراب کے وارث، جلیل القدر عالمِ دین مولانا مامون الرشید کو انتہائی سفاکی، سنگدلی اور بے دردی کے ساتھ ان کے بد بخت مقتدی نے شہید کر دیا۔ اس درندگی اور سفاکانہ قتل کا سبب سن کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ امام صاحب نے مقررہ وقت سے صرف پانچ منٹ پہلے نمازِ فجر کی ادائیگی پرمعمولی اور باطل تکرار کے بعد امام صاحب کو گولی مار دی گئی۔کیا خدائے ذوالجلال کے سامنے سجدہ کروانے والے، امت کی ہدایت و مغفرت کے لیے گریہ و زاری کرنے والے اور رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی امانت سینے سے لگائے ہوئے ایک نوجوان عالم دین امام و خطیب کا خون صرف پانچ منٹ قبل از وقت نماز ادا کرنے پر بہا دیا جائے؟
یہ قتل واردات سے بہت بڑھ کر ہے یہ پختونخوا خصوصاً چارسدہ کی مٹی کی تاریخ پر وہ بدنما داغ ہے جس کی کسک قاتل کی کئی نسلیں محسوس کریں گی۔ جس سرزمین کے بارے میں یہ تصور بھی ممکن نہ تھا کہ وہاں کا کوئی شخص عالمِ دین کے سامنے اونچی آواز میں بات کرے گا، وہاں ایک مقتدی نے اپنے ہی امام کے خون میں ہاتھ رنگ لیئے۔ یہ اندوہناک واقعہ قیامت سے پہلے قیامت کی وہ ہولناک اور بھیانک نشانی ہے جس کا ذکر صادق و مصدوق آقا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ارشاداتِ گرامی میں فرمایا تھا۔ اپنوں کے ہاتھوں دین کے پاسبانوں کا اس طرح قتل ہونا، معاشرتی ضمیر کے مٹ جانے اور فتنہ و فساد کے عام ہو جانے کی صریحاً و عیاں علامت ہے۔
عالمِ دین خاص کر امام و خطیب کا مقام و مرتبہ کوئی دنیاوی منصب، سیاسی عہدہ یا عارضی حیثیت نہیں ہے بلکہ یہ انبیائے کرام علیہم السلام کی نیابت اور وراثت کی وہ مقدس ترین امانت و ذمے داری ہے جسے اٹھانے والے زمین پر اللہ رب العزت کے نور کے چراغ اور ہدایت کے روشن مینار ہوتے ہیں۔ رب العزت نے قرآنِ حکیم میں علم والوں کی رفعتِ شان کا اعلان فرماتے ہوئے واضح کر دیا کہ علم والے اور بے علم کبھی برابر نہیں ہو سکتے اور علماء ہی وہ نفوس ہیں جو خدا کا سچا اور حقیقی خوف اپنے دلوں میں رکھتے ہیں۔ جن مقدس نفوس کو رب العزت نے اپنے دین کی فہم، قال اللہ اور قال الرسول کی امانت اور محرابِ رسول کی پاسبانی کے لیے منتخب فرمایا ان کی تعظیم، احترام اور اکرام پوری امتِ مسلمہ پر فرضِ عین ہے۔
امامِ مسجد کے پیچھے صف بستہ ہو کر تکبیرِ تحریمہ کہنے والے ہر مقتدی پر یہ اخلاقی اور دینی ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے امام کو اپنا پیشوا، دینی رہنما اور واجب الاحترام مقتدا سمجھے۔ وہ امام جو دن میں پانچ مرتبہ انسانوں کو خالقِ کائنات کے سامنے جھکنے کا درس دیتا ہے جو زندگی کی تلخیوں اور مادیت کے دور میں روح کو سکون کی راہ دکھاتا ہے اور جس کی اقتداء میں پڑھی گئی نمازیں بندے کے لیے نجات کا ذریعہ بنتی ہیں، اسی امام کے حقوق اور اس کی عزت و حرمت کو محض اپنی ناپاک انا، نفسانی غیظ و غضب اور چند منٹوں کی تاخیر کی بنا پر پامال کر دینا شقاوتِ قلبی اور درندگی کی آخری حد ہے۔ جس بدبخت کے ہاتھ نے سجدہ کروانے والے امام پر گولی چلائی، اس نے صرف ایک انسان کا خون نہیں بہایا بلکہ اس نے مسجد کے قدس، قرآنِ پاک کی حرمت اور نیابتِ رسول کے شاندار مقام کا سینہ چھلنی کیا ہے۔ یہ دل دوز واقعہ ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہونا چاہیے کہ ہمارا معاشرہ عدم برداشت، طیش اور انتہا پسندی کی کس خطرناک اور تاریک دلدل میں دھنس چکا ہے۔ وہ قوم جو رحمدلی، عفو، درگزر، برداشت اور احترامِ آدمیت کی علمدار تھی، آج معمولی معمولی باتوں اور معمولی تاخیر و تعجیل پر اپنوں ہی کے خون کی پیاسی ہو چکی ہے۔ مسجد، جو امن، سلامتی، سکون، اخوت اور بھائی چارے کا عالمگیر مرکز ہونا چاہیے تھی، اگر وہاں بھی خونِ ناحق بہنے لگے اور محراب و منبر کے محافظ خود محفوظ نہ رہیں تو پھر یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ ہمارے جسم تو زندہ ہیں لیکن ہماری روحیں اور اجتماعی ضمیر مر چکے ہیں۔ انسان نما درندے ہمارے درمیان گھوم رہے ہیں جن کے دلوں سے خدا کا خوف، آخرت کی جواب دہی کا احساس اور نبوی تعلیمات کا اثر بالکل ختم ہو چکا ہے۔
اس مظلوم، بے گناہ اور شہید عالمِ دین مولانا مامون الرشید کا ایک ایک قطرۂ خون آج حاکمانِ وقت، اربابِ اقتدار اور عدل و انصاف کے ایوانوں سے چیخ چیخ کر داد خواہی کر رہا ہے۔ اس وحشی، سفاک اور درندہ صفت قاتل کوجس نے مسجد کے مقدس ماحول کو اپنے ناپاک وجود سے آلودہ کیا اور ایک جلیل القدر عالم کا خونِ ناحق بہایا، بغیر کسی تاخیر، سیاسی دباؤ یا قانونی لچک کے، شریعت اور قانون کے شکنجے میں کس کر اسی مسجد میں نماز جمعہ کے بعد تختۂ دار پر لٹکا کر عبرتناک اور خوفناک نشانِ عبرت بنایا جائے کہ آنے والی نسلیں اور معاشرے میں چھپے دیگر درندے بھی آیندہ کسی عالمِ دین، کسی نائبِ رسول اور کسی مسجد کی حرمت کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہ کر سکیں۔ اگر اس سنگین، دل دہلا دینے والے اور روح فرسا واقعہ پر روایتی مصلحت پسندی، خاموشی یا قانونی سستی کا مظاہرہ کیا گیا اور قاتل کو اس کے کیے کی سزا نہ ملی تو یاد رکھیے کہ جہالت، انتہا پسندی اور عدم برداشت کا یہ اژدہا ہر گلی، ہر محلے، ہر گھر اور ہر مسجد کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ مولانا مامون الرشید شہید کے جنازے میں ہر آنکھ اشکبار تھی درحقیقت یہ ہمارے اجتماعی ضمیر، ہماری دینی اقدار اور انسانیت کا جنازہ تھا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ معاشرے کے تمام طبقے، علمائے کرام، دانشمندانِ قوم اور حکمران مل کر اس بڑھتی ہوئی وحشت اور عدم برداشت کا سدِ باب کریں، ورنہ تاریخ اور ربِ کائنات کی عدالت میں ہمیں کبھی معافی نہیں ملے گی۔

