یمن کی حکومت کے مطابق سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فورسز نے پیر کو باب المندب آبنائے کے اطراف سے موکا شہر تک تیزی سے پیش قدمی کرتے ہوئے ان علاقوں کا دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی اور حوثیوں کو پیچھے دھکیل دیا گیا۔
اس کے ردعمل میں حوثیوں نے کہا کہ انہوں نے سعودی عرب میں اہم مقامات کو نشانہ بنایا، جن میں ریاض کا کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ، رابغ میں آرامکو کی ریفائنری، ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور خمیس مشیط فوجی اڈہ شامل ہیں۔
ان دعوؤں کی فوری طور پر آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ سعودی عرب اور آرامکو نے تبصرے کے لیے بھیجی گئی روئٹرز کی درخواست کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔
حکومت کے چار ذرائع نے بتایا کہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی فورسز نے سعودی فضائی حملوں کی بھاری حمایت کے ساتھ پیر کو رات دیر گئے موکا کے مضافات تک رسائی حاصل کر لی جبکہ حوثی جنگجو پہاڑی علاقوں کی جانب پیچھے ہٹ رہے تھے۔
یمنی وزارت دفاع کے مطابق شہر پر قبضہ کر لیا گیا ہے۔
اگر اس پیش قدمی کی تصدیق ہو جاتی ہے تو اس سے بحیرہ احمر کے تیل کی ایک اہم گزرگاہ پر حوثیوں کی گرفت کمزور ہو جائے گی، جو پہلے ہی آبنائے ہرمز کی ایران کی جانب سے بندش کے ساتھ توانائی کی منڈیوں میں ہلچل پیدا کر رہی ہے، تاہم حوثی دیگر مقامات سے ڈرونز کے ذریعے بحری جہازوں کو اب بھی نشانہ بنا سکتے ہیں۔
یمن میں کئی ہفتوں سے مختلف محاذوں پر لڑائی جاری ہے۔ یہ خانہ جنگی امریکہ اور ایران کی جنگ کے نتیجے میں دوبارہ شروع ہوئی۔ حوثی باب المندب آبنائے پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور سعودی شہروں اور تنصیبات پر میزائل اور ڈرونز فائر کر رہے ہیں۔
حوثیوں کے خلاف لڑنے والے سعودی قیادت میں فوجی اتحاد نے بھی پیر کو رات دیر گئے کہا کہ بحیرہ احمر سے متصل یمن کے صوبے حدیدہ میں بحری افواج نے ایک فوجی کارروائی کی ہے۔
حکومتی فورسز اس سے قبل آبنائے کے دہانے پر واقع ضلع ذباب میں ایک فضائی پٹی سمیت اہم مقامات پر قبضہ کر چکی تھیں، جس پر گذشتہ ماہ حوثیوں کے قبضے نے توانائی کی منڈیوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی تھی۔
روئٹرز حکومتی فورسز کی پیش قدمی کی مکمل حد کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔
حوثی، جو 2014 سے دارالحکومت صنعا سمیت یمن کے کئی گنجان آباد علاقوں پر قابض ہیں، نے کہا کہ سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت کے دعوے بے بنیاد ہیں۔
دوسری جانب یمن کے حکومتی فوجی ذرائع کے مطابق حوثیوں نے تیسرے بڑے شہر تعز کے قریب بھی اہم پیش قدمی کی اور پہاڑی سڑک کے کچھ حصوں پر قبضہ کر لیا، جس سے حکومتی فورسز کا محاصرہ مزید سخت ہو گیا، تاہم حکومت کے ایک ذریعے نے اس سڑک کے منقطع ہونے کی تردید کی۔
حوثیوں نے سعودی فضائی حدود میں آمدورفت کو نشانہ بنانے کی دھمکی بھی دی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بڑھتے ہوئے تنازع کے باعث ریاض کے اتحادیوں نے بھی اقدامات کیے ہیں۔ سعودی عرب، ترکی اور پاکستان نے پیر کو ریاض میں ایک ہنگامی اجلاس کے دوران مکہ دفاعی معاہدے کے تحت مملکت میں فوجی دستے اور دفاعی صلاحیتیں فوری طور پر تعینات کرنے پر اتفاق کیا۔
اس لڑائی نے یمن میں انسانی بحران کو مزید سنگین کر دیا ہے، جو عرب خطے کی غریب ترین ریاست ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین نے پیر کو کہا کہ جنگ دوبارہ شروع ہونے کے بعد سے ایک لاکھ 84 ہزار افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
یمن کے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ صدر رشاد العلیمی نے اتوار کو ملک کو ’دہشت گرد ملیشیا کے شکنجے سے آزاد کروانے تک‘ لڑنے کا عزم ظاہر کیا۔
سعودی عرب نے پیر کو کہا کہ اس نے باب المندب آبنائے اور یمنی زمینی فورسز کو فضائی تحفظ فراہم کرنے کے لیے سینکڑوں اہداف کو نشانہ بنایا ہے جبکہ یمنی حکومت نے کہا کہ اس نے صنعا صوبے سمیت کئی محاذوں پر حملے شروع کیے ہیں۔
دوسری جانب حوثیوں کے زیر انتظام وزارت صحت نے کہا کہ صوبے کے صنحان اور سعوان اضلاع پر حملوں میں دو افراد جان سے گئے اور سات زخمی ہوئے۔
جنوب مغربی یمن میں شدید ترین لڑائی
جنگ کئی محاذوں پر جاری ہے، تاہم شدید ترین لڑائی جنوب مغربی علاقے میں، آبنائے کے قریب ساحلی علاقے اور تعز کے اطراف پہاڑی علاقوں میں ہو رہی ہے۔
حکومت کے پانچ فوجی ذرائع نے بتایا کہ حوثیوں نے تعز عدن شاہراہ پر ایک نالے کو نقصان پہنچایا جس کے باعث یہ راستہ ناقابل استعمال ہو گیا، جبکہ اتوار کو ان کے جنگجوؤں نے التربہ شہر میں بھی نئی پیش قدمی کی۔ تاہم حکومت کے ایک اور ذریعے نے اس کی تردید کی۔
حوثیوں کے زیر انتظام خبر رساں ادارے نے پیر کو ایک فوجی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ گروپ نے تعز صوبے کے ضلع المویسط سے حکومتی فورسز کو نکال دیا اور یمن کی عبوری صدارتی کونسل کے سربراہ العلیمی کے گھر تک پہنچ گیا۔
حکومت کے فوجی ذرائع کے مطابق ان پیش قدمیوں کے نتیجے میں پانچ لاکھ سے زائد آبادی والا شہر تعز، جہاں ہزاروں حکومتی جنگجو تعینات ہیں، حوثیوں کے محاصرے میں آ گیا ہے۔
تعز کے بالکل باہر مگر حوثیوں کے محاصرے میں آنے والے علاقے المظفر میں ایک پیٹرول سٹیشن کے باہر لوگوں کی طویل قطار لگی ہوئی تھی، جہاں وہ ایندھن اور کھانا پکانے والی گیس کے سلنڈر لینے کے لیے انتظار کر رہے تھے۔
شہاب حزعہ نے کہا: ’تعز میں روزانہ یہی صورت حال ہے۔‘
مکہ دفاعی اتحاد کا سعودی عرب میں فوجی دستے تعینات کرنے پر اتفاق
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت ملاقات کے بعد جاری کیے گئے بیان میں سعودی عرب، ترکی اور پاکستان نے حوثیوں پر اسلام کے مقدس ترین مقامات مکہ اور مدینہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کا الزام عائد کیا۔
بیان میں کہا گیا: ’فریقین نے مکہ اور مدینہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کے ساتھ ساتھ مملکت کے شہروں اور شہری و اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے مسلسل حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی اور مملکت کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کے خلاف کسی بھی حملے یا دھمکی کو واضح طور پر مسترد کرنے کا اعادہ کیا۔‘
اگست میں دستخط کیے گئے ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ کا مقصد جارحیت کی کسی بھی کارروائی کے خلاف اجتماعی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔ معاہدے کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

