پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے منگل کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے کہا ہے کہ وہ لانگ مارچ اور دھرنے ختم کریں تو حکومت بیٹھ کر بات کرنے کے لیے تیار ہے۔
شہباز شریف نے مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’ابھی بھی آپ کو یہ گزارش کروں گا کہ آپ ہوش کے ناخن لیں، آپ اپنے لانگ مارچ کو، دھرنوں کو آپ اس کو ختم کریں، اور ختم کریں گے تو ہم یقیناً آپ کے ساتھ بیٹھیں گے، بیٹھ کے بات کریں گے تاکہ پاکستان باہمی ہمت، محنت، امانت اور دیانت کے ساتھ آگے چلے۔‘
تحریک انصاف ’پی ٹی آئی‘ نے 4 اکتوبر سے لکی مروت سے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا آغاز کیا ہے۔
حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان گذشتہ ہفتے اسلام آباد میں مذاکرات ہوئے لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب میں کہا کہ حکومت نے پی ٹی آئی سے بامعنی اور بامقصد مذاکرات کیے تاکہ ان کو یہ سمجھایا جائے کہ اس راستے کو وہ ترک کریں لیکن انہوں نے ایسے نہیں کیا۔
انہوں نے ایک مرتبہ پھر پی ٹی آئی سے کہا کہ ’آپ اب بھی ہوش کے ناخن لیں، کیا آپ کی یہ کارروائی پاکستان کو نقصان پہنچائے گی یا فائدہ پہنچائے گی؟ یہ پوری قوم اس بات سے آگاہ ہے، اگر آپ کو اس کا ادراک نہیں ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک بہت افسوس کی بات ہے۔
’آج اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ دھرنے اور اس لانگ مارچ کی جو سیاست ہے اس کے نتیجے میں سب سے پہلا نشانہ آپ کی معیشت ہوگی۔‘
انہوں نے کہا کہ ملک کی معیشت اور ترقی کو نقصان پہنچانا ’ملک دشمنی کے مترادف‘ ہے۔
’آپ نقصان پچانا چاہتے ہیں تو اس کو ہم انشااللہ نہیں ہونے دیں گے کسی صورت نہیں ہونے دیں گے قانون اپنے راستہ اختیار کرے گا۔‘
اسی مقصد کے لیے دن رات کاوشیں کی گئیں۔ پی ایم ایل این اور پیپلز پارٹی کی مشترکہ کمیٹی نے پی ٹی آئی کے ساتھ سپیکر صاحب کے چیمبر میں دو دن دن رات مذاکرات کیے۔
’وقفوں کے ساتھ بات چیت جاری رہی اور پوری امید کی جا رہی تھی کہ ان شا اللہ ان مذاکرات کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے، دھرنوں کی سیاست کو خیرباد کہا جائے گا اور سیاسی مذاکرات کے ذریعے معاملات کو حل کیا جائے گا۔ بدقسمتی سے ایسا نہ ہو سکا۔‘
وزیراعظم نے کہا باوجود اس کے کہ پیپلز پارٹی اور پی ایم ایل این نے پوری سنجیدگی کے ساتھ پی ٹی آئی کو مذاکرات میں شامل کیا، ’انہوں (پی ٹی آئی) نے آخری لمحات میں طے شدہ معاملات میں نہ صرف دوبارہ تبدیلیوں کا مطالبہ کیا بلکہ ایسا محسوس ہوا کہ ان کا مقصد ہی یہ تھا کہ یہ بات چیت کسی طرح بھی کامیاب نہ ہو سکے۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس سے قبل وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کہا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات میں تقریباً تمام اہم سیاسی معاملات پر اتفاق ہوگیا تھا، تاہم خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل کی جانب سے آخری وقت میں رکھی گئی شرائط اور ’دہشت گردی‘ کے خلاف تعاون کی یقین دہانی نہ ہونے کے باعث مذاکرات ناکام ہوئے۔ اس بار مارچ کے بعد آئندہ کوئی اسلام آباد کی طرف مارچ نہیں کر پائے گا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے سیاسی معاملات پر لچک کا مظاہرہ کیا اور دوسرے روز بانی پی ٹی آئی کی صحت، ان سے ملاقاتوں اور مقدمات سمیت دیگر سیاسی امور پر بھی اتفاق ہوگیا تھا، تاہم دہشت گردی کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
تحریک انصاف کا مطالبہ ہے کہ پارٹی کے بانی عمران خان سے ملاقات اور ان تک رسائی کے معاملات حل کیے جائیں۔ مذاکرات کے دوران اپوزیشن نے مؤقف اختیار کیا کہ عمران خان سے ملاقات کے بغیر لانگ مارچ واپس لینے کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
مذاکرات میں اتفاقِ رائے نہ ہونے کے بعد وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی قیادت میں چار اکتوبر کو مارچ شروع ہوا جو آج شب پشاور پہنچے گا اور پھر وہاں سے آگے بڑھے گا۔

