ایس آئی آر  کے خلاف احتجاج کے تیسرے دن راج گھاٹ پہنچے اپوزیشن کے ارکان پارلیامنٹ، گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ

protest PTI10 08 2026 000171B scaled 1 e1791460443915


جمعرات، 8 اکتوبر 2026 کو نئی دہلی کے راج گھاٹ پر کانگریس کارکنان چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

اپوزیشن کے ارکان پارلیامنٹ نے جمعرات کو الیکشن کمیشن کے خلاف اپنے احتجاج کے تیسرے دن تاریخی راج گھاٹ کی جانب مارچ کیا، جہاں 31 جنوری 1948 کو مہاتما گاندھی کی آخری رسومات ادا کی گئی تھیں۔ اس سے پہلے منگل کو دہلی پولیس نے انہیں جنتر منتر پر احتجاج کرنے سے روک دیا تھا۔

نئی دہلی: کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے کی جانب سے جمعرات (8 اکتوبر) کو سینٹرل دہلی کے موئٹس میں منعقد لنچ  اور بیٹھک میں شامل ہونے کے بعد اپوزیشن کے ارکان پارلیامنٹ راج گھاٹ کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ اس سے پہلے انہیں الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) کے خلاف اپنا احتجاج جاری رکھنے کے لیے جنتر منتر جانے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔

لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا کہ اپوزیشن کو احتجاج کرنے سے روکا جا رہا ہے ، انہوں نے  الزام لگایا کہ پارٹی کے ارکان کے ساتھ مارپیٹ کی گئی ہے۔

انہوں نے میڈیا سے کہا،’انہوں نے ہمیں الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاج کرنے سے روکا، انہوں نے ہمیں جنتر منتر پر بھی احتجاج کرنے سے روک دیا۔ سچائی  یہ ہے کہ نریندر مودی، امت شاہ، گیانیش کمار اور موہن بھاگوت نے ایک مجرمانہ سازش کے ذریعے ہندوستان کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے، آئین کو تباہ کر دیا ہے اور ووٹ چوری کیے ہیں۔ ہم، اپوزیشن کے لوگ، آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ ان چاروں لوگوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔‘

کانگریس، راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی)، سماج وادی پارٹی (ایس پی) اور دیگر سیاسی جماعتوں کے ارکان پارلیامنٹ اور کارکن منگل سے احتجاج کر رہے ہیں۔ لنچ کے بعد تیسرے دن بھی ان کا احتجاج دوبارہ شروع ہوا، تاہم اس بار جگہ بدل  کر تاریخی راج گھاٹ کر دیا گیا۔ اسی جگہ پر 31 جنوری 1948 کو مہاتما گاندھی کی آخری رسومات ادا کی گئی تھیں۔

منگل کو پارلیامنٹ سے الیکشن کمیشن کے ہیڈکوارٹر، نرواچن سدن تک نکالے گئے احتجاجی مارچ کو پولیس نے منزل سے کچھ فاصلے پر آل انڈیا ریڈیو کی عمارت کے پاس روک دیا تھا۔ بدھ کو جب اپوزیشن رہنماؤں نے جنتر منتر پر احتجاج کرنے کی کوشش کی تو پولیس انہیں گھسیٹ کر وہاں سے لے گئی۔

کھڑگے نے کہا کہ ارکان پارلیامنٹ راج گھاٹ میں واقع یادگار پر پرامن احتجاج کریں گے۔

انڈیا بلاک کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ ملک بھر میں جاری ایس آئی آر کے دوران الیکشن کمیشن نے طریقہ کار میں بے ضابطگیاں برتی ہیں۔ ایس آئی آر کے عمل میں مبینہ خامیوں کا معاملہ حال ہی میں انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے توسط سے سامنے آیا ہے۔

کانگریس کے راجیہ سبھا اور لوک سبھا ارکان کے ساتھ سماج وادی پارٹی اور دیگر جماعتوں کے رہنما اور کارکن بھی احتجاجی مظاہرے میں شامل ہیں۔ وہ سینٹرل دہلی میں سخت حفاظتی انتظامات اور پولیس کی بھاری تعیناتی کے درمیان اپنا احتجاج دوبارہ شروع کرنے کے لیے آگے بڑھ رہے ہیں۔

راجیو چوک اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں ریپڈ ایکشن فورس (آر اے ایف) اور سینٹرل آرمڈ پولیس فورس کے اہلکار بڑی تعداد میں تعینات کیے گئے ہیں۔

اس کے باوجود پارٹی کارکن نرواچن سدن کے پاس کی اہم سڑکوں پر اکٹھا ہو رہے ہیں۔ وہ جھنڈا لہرا رہے ہیں اور گیانیش کمار کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں۔

جمعرات کو ایک غیر متوقع پیش رفت میں دہلی پولیس نے الزام لگایا کہ اپوزیشن مظاہرین کے ساتھ جھڑپ کے دوران اس کے اہلکاروں پر حملہ کیا گیا اور وہ زخمی ہوئے۔ اس سے پہلےاحتجاج میں شامل ہونےکے بعد لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی، رکن پارلیامنٹ پرینکا گاندھی واڈرا اور دیگر لوگوں کے خلاف پولیس معاملے درج کیے گئے تھے۔

اس کے علاوہ، سپریم کورٹ نے انڈین یوتھ کانگریس کی اس عرضی پر سماعت کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے، جس میں جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت دینے کی درخواست کی گئی ہے۔ اس سے پہلے ارکان پارلیامنٹ، ان کی جماعتوں کے کارکنوں اور حامیوں کو وہاں احتجاج کرنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔

سات اکتوبر کو دہلی پولیس کمشنر انوراگ کمار کو دیے گئے ایک میمورنڈم میں صحافیوں کی متعدد تنظیموں نے مطالبہ کیا کہ صحافیوں کو پولیس کی سختی کے خوف کے بغیر اپنا کام کرنے دیا جائے۔ میمورنڈم دینے والی تنظیموں میں انڈین ویمنز پریس کارپس، پریس کلب آف انڈیا، دہلی یونین آف جرنلسٹس، پریس ایسوسی ایشن اور کیرالہ یونین آف جرنلسٹس شامل ہیں۔

گیانیش کمار کے خلاف احتجاجی مظاہرہ ملک کے دیگر حصوں میں بھی پھیل گیا ہے۔ ان میں بنگلورو بھی شامل ہے، جہاں کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک پروگرام منعقد کیا۔

وزیر اعظم نریندر مودی پر ’جمہوریت کا قتل‘ کرنے اور ’ووٹ چوری‘ کا الزام لگاتے ہوئے سی جے پی کے ابھیجیت دیپکے نے کہا کہ جب تک چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اپنے عہدے سے استعفیٰ نہیں دیتے، تب تک احتجاج جاری رہے گا۔

اپوزیشن کے ارکان پارلیامنٹ کو جمعہ، 9 اکتوبر کو صدر جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کا وقت دیا گیا ہے۔



Source link

متعلقہ پوسٹ