کراچی:
غیریقینی معاشی صورتحال اور بھاری ٹیکسوں کے باعث پاکستان میں سیکڑوں کاٹن جننگ فیکٹریوں اور ٹیکسٹائل ملوں کے بعد 40فیصد سے زائد پاور لومز بھی غیرفعال ہوگئی ہیں،جس کے باعث پورے کاٹن سیکٹر میں اضطراب کی فضابرقرار ہے۔
جبکہ پیداواری لاگت حریف ممالک کے مساوی نہ ہونے سے مقامی کاٹن کی صنعت کی بقاکوخطرات لاحق ہوگئے ہیں۔
چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے کپاس اور کاٹن انڈسٹری کی فوری بحالی کیلیے وفاقی وصوبائی حکومتوں سے کسان دوست اور انڈسٹری فرینڈلی پالیسیاں متعارف کرانے کامطالبہ کردیاہے۔
انہوں نے بتایاکہ ناموافق موسم کے باعث روئی کامعیار متاثر ہونے سے روئی کی درآمدات اور اسکی قیمتوں میں تیزی کارحجان دیکھاجارہا ہے۔
پاکستان میں صنعتوں کیلیے بجلی و گیس ٹیرف،قرضوں کی شرح سوداور ٹیکسوں کی موجودہ شرحیں دنیابھر میں سب سے زیادہ ہیں، جس کے باعث پیداواری لاگت خطے کے حریف ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہوگئی ہے،جوگذشتہ کئی سالوں سے تواترکے ساتھ برآمدات میں کمی اوردرآمدات میں اضافے کے باعث بن گئی ہے۔
جبکہ مقامی کاٹن انڈسٹری کی مسلسل زوال پذیری سے ابتدائی طور پر 500 سے زائدکاٹن جننگ فیکٹریاں اور 200 کے لگ بھگ ٹیکسٹائل ملوں کی غیرفعالیت کے بعد اب فیصل آبادسمیت ملک کے مختلف شہروں میں 40فیصد سے زائد پاور لومزغیر فعال ہوگئی ہیں۔
ان صنعتی شعبوں میں غیر فعالیت بڑھنے سے ناصرف بیروزگاری کی شرح میں اضافہ ہوگیاہے، بلکہ مجموعی قومی پیداوار اور شرح نمو متاثر ہورہی ہے۔ مذکورہ چیلنجز سے نمٹنے کیلیے وفاقی و صوبائی حکومتوں کو ایسے ہنگامی اقدامات بروئے کار لانے کی ضرورت ہے،جس سے صنعتی پیداواری لاگت میں کمی ممکن ہو اورصنعتیں دوبارہ فعال ہوکر معاشی نمو میں اپنا کردار اداکرنے کے قابل ہوسکیں۔
انہوں نے بتایاکہ ملکی تاریخ میں پہلی بار اکتوبرکے دوسرے ہفتے تک رحیم یارخان سمیت مختلف علاقوں میں درجہ حرارت 38ڈگری سینٹی گریڈ تک رہنے سے کپاس کی فصل پر اس کے انتہائی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں ۔

