پاکستان کی وفاقی حکومت نے پیر کو تصدیق کی ہے کہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کئی رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حکومت کی معطلی اور صوبے میں ہنگامی حالت کے نفاذ کے بعد حراست میں لیا گیا ہے۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے گفتگو میں تصدیق کی کہ ’وزیراعلیٰ اور ان کی کابینہ کے بعض ارکان کو حفاظتی تحویل میں لیا گیا ہے۔‘
انہوں نے کہا اگر ان میں سے کسی کے خلاف مقدمات کی سماعت ہونی ہے تو ان پر فرد جرم عائد کر کے مقدمات چلائے جائیں گے جبکہ دیگر افراد کو رہا کر دیا جائے گا۔
طلال چوہدری کے مطابق یہ گرفتاریاں اتوار کو پشاور میں وزیراعلیٰ ہاؤس میں کی گئیں۔
عینی شاہدین اور حکام نے بتایا کہ وزیراعلیٰ ہاؤس اور اس کے آس پاس واقع دیگر اہم تنصیبات کو گھیرے میں لے لیا گیا تھا، جہاں پولیس کی بھاری نفری، نیم فوجی دستے اور مال بردار کنٹینرز تعینات تھے۔
پی ٹی آئی رہنما شوکت یوسفزئی نے ان حراستوں کی مذمت کرتے ہوئے زیر حراست افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پولیس نے پی ٹی آئی کے سینکڑوں ارکان کو حراست میں لے لیا ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پولیس کے دو اہلکاروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا کہ اتوار کو ہنگامی حالت کے اعلان کے بعد سے خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے 278 ارکان کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔
ایک انتظامی عہدے دار نے بھی نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا کہ سہیل آفریدی کو ان کی سرکاری رہائش گاہ پر ’حفاظتی تحویل‘ میں رکھا گیا تھا، تاہم بعد میں انہیں کسی دوسری جگہ منتقل کر دیا گیا۔
انہوں نے سہیل آفریدی کی نئی رہائش گاہ یا مقام کے بارے میں بتانے سے انکار کیا۔
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے اتوار کو خیبر پختونخوا میں ہنگامی حالت نافذ کرتے ہوئے صوبائی حکومت معطل کر دی تھی۔
وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ صوبے میں ہنگامی حالت اس لیے نافذ کی گئی کیوں کہ صوبائی حکومت افغانستان سے متصل صوبے میں عسکریت پسندی پر قابو پانے میں ناکام رہی۔
تاہم پی ٹی آئینے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہنگامی حالت کے نفاذ کا مقصد ان کے حامیوں کو اسلام آباد کی جانب مارچ کرنے سے روکنا ہے۔ پی ٹی آئی کے مطابق اس مارچ کا مقصد عمران خان کی رہائی کے لیے حکومت پر دباؤ ڈالنا تھا۔
پاکستان کا آئین ہنگامی حالت کے دوران وفاقی حکومت کو صوبائی حکام سے انتظامی اختیارات سنبھالنے کی اجازت دیتا ہے۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری کی جانب سے ہنگامی حالت کے اعلان کے بعد صوبے کا انتظامی اختیار گورنر سنبھال لیں گے۔
گذشتہ چند ماہ کے دوران خیبر پختونخوا میں عسکریت پسندوں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔
وفاقی حکومت اور فوج پی ٹی آئی پر عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں پر قابو پانے میں ناکامی کا الزام عائد کرتی ہیں، تاہم جماعت اس الزام کو مسترد کرتی ہے۔
گذشتہ ماہ اسلام آباد کی جانب مارچ کی کال دیے جانے کے بعد حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کے کئی دور ہوئے۔
وفاقی وزیر کے مطابق حکومت پی ٹی آئی کے تمام مطالبات تسلیم کرنے کے لیے تیار تھی، جن میں مارچ کی اجازت دینا بھی شامل تھا۔
انہوں نے کہا، ’ہم نے صرف ایک بات کہی تھی کہ جماعت عسکریت پسندی کی عوامی سطح پر مذمت کرے اور عسکریت پسندوں کے خلاف لڑائی میں ہمارا ساتھ دے۔‘
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی اس مطالبے پر متفق نہیں ہوئی، اسی لیے مذاکرات ناکام ہو گئے۔

