
(ویب ڈیسک)سوڈان میں انسانی حقوق کی تنظیم ایمرجنسی لائرز نے دعویٰ کیا ہے کہ سوڈان اور مصر کی سرحد کے قریب سونے کی ایک کان پر فضائی حملے میں کم از کم 72 مزدور ہلاک ہوگئے ہیں۔
ہفتے کو ہونے والے حملے کے بعد زندہ بچ جانے والے افراد نے علاقے میں افراتفری اور تباہی کے مناظر بیان کیے ہیں،خبر رساں ادارے کے مطابق، تنظیم نے حملے کا الزام مصری فضائیہ پر عائد کیا ہے، تاہم مصری فوج نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی،یہ رواں سال جبل العقیقدات کے علاقے میں سونے کی غیر رسمی کان کنی کے مقام پر دوسرا فضائی حملہ ہے،اس سے قبل جون میں اسی علاقے میں ایک حملے کے نتیجے میں 23 مزدور ہلاک ہوگئے تھے۔
مزید پڑھیں:سمندری طوفان کے پیش نظر میکسیکو میں ایمرجنسی نافذ
ایمرجنسی لائرز کے مطابق، ابتدائی معلومات کی بنیاد پر حالیہ حملے میں 72 شہری کان کن ہلاک ہوئے، جبکہ ہلاکتوں کی درست تعداد کی تصدیق کا عمل جاری ہے،کان کن عبدالعزیز یوسف نے بتایا کہ ہفتے کی صبح تقریباً 8 بجے ایک طیارہ نمودار ہوا اور اس نے 5 مرتبہ حملہ کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک ہوگئے،ان کے مطابق، مزید حملے کے خوف سے لوگ پہاڑ کی جانب بھاگ گئے،ایک اور زندہ بچ جانے والے شخص شرف علی نے بتایا کہ حملے کے وقت دور افتادہ مقام پر ہزاروں افراد کام کر رہے تھے۔
حملے کے بعد لوگ مختلف سمتوں میں منتشر ہوگئے، جس کے باعث ہلاکتوں کی درست تعداد معلوم کرنا مشکل ہوگیا،دونوں افراد نے فرار ہوتے وقت زمین پر لاشیں دیکھنے کی تصدیق کی، جبکہ خدشہ ظاہر کیا کہ مزید افراد ملبے تلے دبے ہوسکتے ہیں،سوڈان اور مصر کے درمیان سرحدی علاقے پر تنازع ہے اور دونوں ممالک معدنی وسائل سے مالا مال حلايب مثلث پر دعویٰ کرتے ہیں۔

