معروف اسٹریمنگ کمپنی نیٹ فلکس نے اپنے ملازمین کی تعداد میں کمی کا اعلان کرتے ہوئے تقریباً ایک ہزار افراد کو فارغ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
امریکی میڈیا ادارے سی این بی سی کے مطابق کمپنی کی جانب سے ملازمین کو بھیجے گئے ایک داخلی پیغام میں بتایا گیا کہ اس فیصلے سے مجموعی افرادی قوت کا تقریباً چھ فیصد حصہ متاثر ہوگا۔
ملازمتوں میں کٹوتی کا زیادہ تر اثر پروڈکٹ، ٹیکنالوجی، قانونی امور اور انسانی وسائل سے وابستہ شعبوں پر پڑنے کا امکان ہے۔ کمپنی کے شریک چیف ایگزیکٹوز ٹیڈ سرینڈوس اور گریگ پیٹرز نے ملازمین کو بھیجے گئے پیغام میں کہا کہ دنیا بھر کے ناظرین کو تفریح فراہم کرنا ان کا بڑا مقصد ہے، جس کے لیے افرادی قوت اور وسائل کو ترجیحات کے مطابق استعمال کرنا ضروری ہے۔
پیغام میں دونوں سربراہان نے کہا کہ نیٹ فلکس کا کاروبار مستحکم ہے اور ترقی کر رہا ہے، جبکہ کمپنی اپنی سالانہ مالی پیش گوئی کے مطابق آگے بڑھ رہی ہے۔ ان کے مطابق ادارہ اپنی سروس کو بہتر بنانے، ترقی کی رفتار بڑھانے اور جدت کے لیے اہم شعبوں میں سرمایہ کاری جاری رکھے گا، تاہم ان اہداف کے حصول کے لیے کاروبار کے مختلف حصوں میں سوچ سمجھ کر فیصلے کرنا ہوں گے تاکہ صارفین، شراکت داروں، ملازمین اور سرمایہ کاروں کے مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔
نیٹ فلکس نے سی این بی سی کو بتایا کہ شریک چیف ایگزیکٹوز کے داخلی پیغام کے علاوہ اس معاملے پر مزید تبصرہ نہیں کیا جائے گا۔ کمپنی کی سہ ماہی مالی کارکردگی کی رپورٹ 20 اکتوبر کو جاری ہونے والی ہے۔
ملازمتوں میں کمی کا یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند ہفتے قبل ٹیڈ سرینڈوس نے بلومبرگ اسکرین ٹائم کانفرنس میں اعتراف کیا تھا کہ کمپنی ان کی خواہش کے مطابق تیزی سے ترقی نہیں کر رہی۔ نیٹ فلکس حالیہ مہینوں میں ایک متضاد صورت حال سے دوچار ہے: کمپنی منافع کما رہی ہے اور اسٹریمنگ مارکیٹ میں سب سے بڑی کمپنیوں میں شامل ہے، لیکن اس کے مواد کو دیکھنے کے مجموعی وقت میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو رہا۔
نئے صارفین حاصل کرنے میں کمپنی کو پاس ورڈ شیئرنگ کے خلاف اقدامات اور اشتہارات پر مشتمل نسبتاً سستے پیکیج سے فائدہ پہنچا ہے۔ تاہم، صارفین کی توجہ حاصل کرنے کے لیے مسابقت مزید سخت ہوگئی ہے۔ نیٹ فلکس کے لیے یوٹیوب ایک بڑا حریف ہے، جبکہ مستقبل میں اسکائی ڈانس سے وابستہ میڈیا کاروبار بھی مقابلے پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔ پیراماؤنٹ اور وارنر برادرز ڈسکوری کے مشترکہ ادارے کے منصوبوں میں ان کے اسٹریمنگ پلیٹ فارمز پیراماؤنٹ پلس اور ایچ بی او میکس کو یکجا کرنا بھی شامل ہے۔
مسابقت کا مقابلہ کرنے کے لیے نیٹ فلکس نے حالیہ برسوں میں اپنے مواد کی اقسام میں توسیع کی ہے۔ کمپنی لائیو کھیلوں، دستاویزی پروگراموں اور ویڈیو گیمز سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ اس کے باوجود اسے ’اسٹرینجر تھنگز‘ اور ’اسکوئڈ گیم‘ جیسی بڑی مقبول سیریز کی کمی کا سامنا ہے، جنہوں نے ماضی میں ناظرین کی تعداد اور نئے سبسکرائبرز میں اضافے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
میڈیا انڈسٹری میں اخراجات کم کرنے کی کوشش صرف نیٹ فلکس تک محدود نہیں۔ گزشتہ ماہ ڈزنی نے بھی تقریباً 300 ملازمین کو فارغ کرنے کا اعلان کیا تھا، جن میں زیادہ تر کٹوتیاں انسانی وسائل اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں کی جانی تھیں۔
Source link

