جکارتہ: انڈونیشیائی علمائے کونسل (ایم یو آئی) نے اطالوی گلوکار اینڈریا بوچیلی کی اسرائیل کے لیے ماضی کی حمایت کا حوالہ دیتے ہوئے ملک میں ان کے دو مجوزہ کنسرٹس منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
کونسل نے وسطی جاوا کے شہر میگیلانگ میں بوروبودور مندر اور جکارتہ میں ہونے والی پرفارمنسز کی مخالفت کی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ بوچیلی کو پلیٹ فارم دینا فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کے حوالے سے انڈونیشیائی عوام کے جذبات اور کونسل کی مذہبی ہدایات سے متصادم ہے۔
ایم یو آئی نے اپنے اعتراضات میں 2010 میں لاس اینجلس میں اسرائیلی فوج کے لیے فنڈ جمع کرنے کی ایک تقریب میں بوچیلی کی شرکت اور 2022 میں تل ابیب میں ان کے کنسرٹ کا حوالہ دیا۔
کونسل کے نمائندوں نے وزارتِ سیاحت کے حکام سے ملاقات بھی کی۔ وزارت کے سیکریٹری بایو اجی نے کہا کہ حکومت فلسطین کی حمایت کرتی ہے اور کونسل کے تحفظات پر بات چیت جاری رکھے گی۔
رپورٹ کے مطابق، اسلامی تنظیموں کی بڑھتی مخالفت کے بعد میگیلانگ پولیس نے بوروبودور میں کنسرٹ کا اجازت نامہ جاری کرنے کے حق میں اپنی سفارش واپس لے لی ہے۔ تاہم، کنسرٹس کی حتمی منسوخی کا اعلان سامنے نہیں آیا۔
بوچیلی یا منتظمین کی جانب سے اعتراضات پر فوری ردعمل بھی رپورٹ نہیں ہوا۔ مجوزہ پرفارمنسز گلوکار کے ’’رومانزا‘‘ کی 30ویں سالگرہ کے عالمی دورے کا حصہ ہیں۔

