
(24نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کو یمن کے حوثیوں کیخلاف اسرائیل کی ’مددگار‘ پیشکش قبول کرنے کا مشورہ دیا ۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ سعودی عرب کو یمن کے حوثیوں کے خلاف لڑائی میں مدد دینے سے متعلق اسرائیل کی پیشکش قبول کر لینی چاہیے،وائٹ ہاؤس میں صحافیوں نے ٹرمپ سے سوال کیا کہ آیا سعودی عرب کو اسرائیل کی یہ پیشکش قبول کرنی چاہیے، جس پر امریکی صدر نے جواب دیا، ہاں، بالکل، میرا خیال ہے کہ ایسا کرنا چاہیے۔
ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل سعودی عرب کے لیے بہت مددگار ثابت ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ کی روس پر نئی اقتصادی پابندیوں سے وقتی رعایت دینے کی منظوری
خیال رہے کہ رواں ہفتے کے آغاز میں ایک سفارتی ذریعے نے اسرائیلی اخبار کو بتایا تھا کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے امریکی ثالثی کے ذریعے سعودی عرب کو حوثیوں کے خلاف مدد فراہم کرنے کی پیشکش کی تھی۔
اس پیشکش کا ایک مقصد سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانا بھی تھا تاہم سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اس اقدام کی مخالفت کی کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ اس پر سعودی عوام کی جانب سے ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔
علاوہ ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے عزم کے تحت امریکا کو ایران کے ایٹمی پروگرام سے منسلک ‘پک ایکس ماؤنٹین’ نامی زیرِ زمین سائٹ کو نشانہ بنانا پڑ سکتا ہے۔
جمعرات کی رات ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ ایران کے خلاف جاری جنگ میں ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال نہیں کریں گے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ ایران کبھی ایٹمی ہتھیار حاصل نہ کر سکے ’کیونکہ اگر ان کے پاس یہ ہتھیار آ گیا تو وہ اسے لازمی استعمال کریں گے‘۔
ایران کی زیرِ زمین ایٹمی تنصیبات کا ذکر کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا ’ان کی ایٹمی صلاحیت لاکھوں ٹن وزنی پہاڑ کے نیچے دفن ہے۔ اب ہم ‘پک ایکس ماؤنٹین’ کو دیکھ رہے ہیں۔ ہمیں وہاں جانا پڑ سکتا ہے، ہم اس پر حملہ کریں گے اور اسے تیزی سے تباہ کر دیں گے۔
دوسری جانب امریکہ نے روس پر نئی پابندیوں کے نفاذ سے عارضی چھوٹ دینے کا اعلان کردیا ہے، امریکی صدرڈونلڈٹرمپ نےروس اورایران سےمتعلق گراہم ایکٹ کی متعدددفعات پراستثنیٰ دےدیا۔
ایگزیکٹو آرڈر کے تحت روسی مصنوعات پر اضافی محصولات میں چھوٹ ہو گی۔
اسکے علاوہ روسی تیل و گیس کے خریداروں سے متعلق بعض پابندیوں کےنفاذ سے بھی چھوٹ دیدی گئی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےکہا کہ فیصلہ امریکہ کے قومی مفاد میں کیا۔

