کم نسل ہونا کوئی عیب نہیں، بس بندے کو بدفطرت نہیں ہونا چاہیے۔ ڈراما سیریل ’مٹی دے باوے‘ کا یہ طاقت ور مکالمہ ہی اس ڈرامے کی روح کو بیان کرتا ہے۔
جس ڈرامے میں ماہرہ خان اور وہاج علی شامل ہوں تو اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پرستاروں کا اس تخلیق میں کس قدر لگاؤ ہوگا۔ گو کہ ڈراما سیریل کی اب تک صرف ابتدائی اقساط نشر ہوئی ہیں لیکن انہوں نے ناظرین پر اپنی گرفت مضبوط کرلی ہے۔
عام طور پر ذات پات یا نسل پر پاکستانی ڈرامے ذرا کم ہی بنتے ہیں۔ اس تناظر میں ’مٹی دے باوے‘ کو غیر معمولی اہمیت مل رہی ہے۔ ڈرامے میں صرف ماہرہ اور وہاج علی ہی نہیں بلکہ جنید خان، امر خان، سہیل احمد، سامعہ ممتاز، نور الحسن، فضل حسین، عینا خان، افضل خان اور صاحبہ نمایاں ہیں۔
نجی ٹی وی چینل سے ہفتے میں دو دن نشر ہونے والے اس ڈرامے کو ایوارڈ یافتہ مصنفہ فائزہ افتخار نے لکھا ہے جو اس سے قبل رانجھا رانجھا کر دی، بندھے ایک ڈور سے، پریم گلی، پہلی سی محبت اور ایک محبت اور جیسے ڈرامے لکھ کر اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا اعتراف کرا چکی ہیں۔ ڈرامے کی ہدایت کاری وجاہت حسین نے کی ہے۔ ان کے دامن میں کئی شہرہ آفاق ڈرامے ہیں جن میں خدا اور محبت سیزن 3، منت مراد، خائی، فرار اور گذشتہ سال موضوع بحث بننے والا ڈراما ’کیس نمبر 9‘ نمایاں ہے۔
کہانی کیا ہے؟
غیر معمولی تخلیق ’مٹی دے باوے‘ یعنی مٹی کے پتلے کا پس منظر 80 اورپھر 90 کی دہائی اور پنجاب کے پس منظر کے گرد گھومتا ہے، جبھی اس دور کی گاڑیاں، مکانات اور بازار اور پھر ماحول نوجوان نسل کے لیے کشش کا باعث بن رہا ہے۔ کہانی ہے ایک ایسی لڑکی بلقیس یعنی بلو کی جو کم عمری میں انتہائی دل پھینک رہی، ہر تھوڑے عرصے بعد کسی سے محبت کی پتنگ کا نیا پیچ لڑانا اس کا محبوب مشغلہ تھا۔ ایسے میں ایک نوجوان اقبال اس کے پیار کا قیدی بن جاتا ہے۔ لیکن دل توڑنے کی ماہر بلقیس اسے اپنی زندگی سے یہ کہہ کر نکال دیتی ہے کہ وہ تو بس دل لگی کا کھیل کھیل رہی تھی۔ گانے بجانے کے خاندان سے وابستہ اقبال کو یہ طعنہ بھی سننا پڑتا ہے کہ اس کی اور بلقیس کی ذات میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ بہرحال اقبال خاموشی سے اس کی زندگی سےنکل جاتا ہے لیکن 16سال بعد پھر ایک ایسا موڑ آتا ہے جب اس کا سامنا اُس بلقیس سے ہوتا ہے جو مہذب، دین دار اور پاک باز بیوی ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اب تک کی اقساط کے مطابق بلقیس اور اقبال کی یہ دشمنی صرف دو کرداروں کی نجی جنگ نہیں رہی بلکہ اب خاندانی وقار، سماجی پہچان اور ذات پات کے نظام سے ٹکرا رہی ہے۔ بلقیس کا اقبال کے گھر آنا یا اقبال کا بلقیس کی زندگی میں طوفان کھڑا کرنا دراصل اس کشمکش یا معاشرتی بے حسی کی عکاسی کرتا ہے کہ جس کے ذریعے مخالف کو شکست دینے کے لیے اس کی نجی زندگی اور خاندان کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ ہی عمل درست اور غلط کے درمیان قائم لکیر کو مدھم کرتی ہے۔
جان دار اداکاری
اداکاری کی بات کی جائے تو ماہرہ خان اور اقبال کی جوانی کا کردار ادا کرنے والے فنکاروں نے فطری انداز اپنایا ہے۔ اقبال کے جوانی کے روپ میں فضل حسین چائلڈ آرٹسٹ کے طور پر شعبہ اداکاری میں آئے تھے اور اب وہ مرکزی کرداروں میں جم کر اداکاری کر رہے ہیں۔ ماہرہ خان نے کئی مناظر میں مکالمات نہ ہونے کے باوجود اپنے چہرے اور آنکھوں کے تاثرات سے بھرپور کام لیا۔ بالخصوص جب وہ اقبال کی زندگی کا راز افشاں کرتی ہیں تو ان کے چہرے جو فاتحانہ انداز واقعی قابل دید ہے۔
اسی طرح جب شوہر اور سسر گھر سے بے دخل کرنے کا حکم دیتے ہیں تو ان مناظر میں بھی ماہرہ خان کی اداکاری عروج پر رہی۔ ان مناظر میں انہوں نے اپنی اندروانی کیفیت کا اظہار اپنی آنکھوں کے ذریعے بہترین انداز میں کیا۔ وہاج علی اب تک ہلکے پھلکے رومانی کرداروں میں آچکے ہیں۔اس بار ان کا کردار منفی رخ لیے ہوئے ہے۔ پنجابی لب و لہجے اور رکھ رکھاؤ کے اعتبار سے وہ اس کردار میں فٹ بیٹھتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔
ابھی ابتدائی اقساط ہیں جن میں وہاج علی اپنی حقیقت سے قریب تر اداکاری کی بنا پر ماہرہ خان جیسی اداکارہ کے سامنے ٹکر کی فنکاری کرتے ہوئے نظر آئے بلکہ یہ کہاجائے تو بہتر ہوگا کہ اس کردار میں ان کا یہ چونکا دینے والا روپ پرستاروں کے لیے خوش گوار ثابت ہو رہا ہے۔ سہیل احمد جو حس ظرافت کے شہنشاہ ہیں اپنے سنجیدہ کردار کے ساتھ اب تک کے مناظر میں چھائے رہے ہیں۔ آنے والی اقساط میں سہیل احمد کا منفی انداز ہر ایک کے لیے دلچسپی کا باعث بنےگا۔
ڈراما ’مٹی کے باوے‘ میں افضل خان اور صاحبہ کے مختصر لیکن جان دار مناظر نے یہ ثابت کیا کہ اداکار اگر بڑے ہوں تو چھوٹے موٹے کرداروں کو بھی امر کر جاتے ہیں۔
ہدایت کاری کی بات کی جائے تو اس ڈرامے کا ٹیمپو بہت فاسٹ ہے۔ ایک کے بعد ایک منظر اس ترتیب کے ساتھ آتے ہیں کہ ناظرین ڈرامے کے ساتھ خودبخود جڑ جاتے ہیں۔ ڈرامے کی مقبولیت اور شہرت کا یہ عالم ہے کہ انڈیا میں اسے پسندیدگی کی سند حاصل ہے جبکہ یو ٹیوب پر اس تخلیق کی ہر قسط ملین ویوز حاصل کرتی ہے۔
ڈرامے کا مضبوط پہلو؟
ڈرامے کا مضبوط پہلو یہ ہے کہ بلقیس جو لڑکپن میں اپنی نادانیوں کی وجہ سے عشق کی کئی بازیاں لڑتی تھی۔ اس نے تصور نہیں کیا تھا کہ زندگی کے ایک موڑ پر یہ ہی رنگین مزاجی اس کے حال ہی نہیں مستقبل کو بھی تباہ و برباد کر دے گی۔ یہاں یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ عمر کے اس حصے میں پاک باز ہونے کے باوجود کسی عورت پر ایک ہلکا سا داغ لگے تو اس کی تمام تر خدمات پلک جھپکتے میں فراموش کر دی جاتی ہیں۔
شریک سفر کا تلخ ماضی، مرد کے خاندانی وقار پر اس قدر حاوی ہو جاتا ہے کہ وہ اسے تین بول بول کر فارغ کر سکتا ہے۔ دوسری جانب ہم ایک ایسے معاشرے میں بھی جی رہے ہیں جہاں کسی کی ذات اس کی قابلیت پر اور کسی عورت کا ماضی اس کی شخصیت حال اور مستقبل پر حاوی ہو جاتے ہیں۔ اقبال اور بلقیس کی اس محاذ آرائی کا اصل امتحان صرف یہ نہیں کہ کون کس کو زیر کرتا ہے بلکہ یہ بھی ہے کہ اس جنگ میں کون اپنی انا اور انتقام کی قربانی دیتا ہے۔

