’ہمیں 15 برس دیجیے، ہم آپ کو ایسی نسل دیں گے جو گزشتہ 80 برس کی محرومیاں دور کر دے گی۔‘
قومی رحمۃاللعالمین و خاتم النبیین اتھارٹی کے تیسرے سالانہ سیرت فیسٹیول سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر خورشید احمد ندیم نے جب یہ کہا تو میری نگاہ سے گزشتہ پندرہ برس زوں کر کے گزر گئے جس میں ایک نسل تیار ہوئی، عقل، فہم و فراست، گہرائی اور غور و فکر سے جسے کوئی واسطہ نہیں۔
یہ ایسی نسل ہے جس کے من میں نفرت کا سمندر ٹھاٹھیں مارتا ہے۔ یہ لوگ جس سے نفرت کرتے، اسے انسان بھی تسلیم نہیں کرتے، ان کے انسانی حقوق کو تسلیم کرنا تو دور کی بات ہے۔ جن لوگوں کے لیے ان کے ہاں نفرت ہے، انھیں وہ منھ بھر کے گالی دیتے ہیں۔
صرف گالی نہیں دیتے بلکہ ان کی ماں بہن بیٹیاں بھی ماں ، بہن بیٹیوں کا مقام نہیں رکھتیں۔ ایمان، انصاف اور قانون کا پیمانہ ان کے نزدیک وہ ہے جو ان کی انا کی تسکین کا باعث بنے۔ ان کے پیمانے کے دونوں پلڑوں کا برابر ہونا، ان کے نزدیک انصاف کی توہین ہے۔
کچھ دن ہوتے ہیں، ایک صاحب زادے سے ملاقات ہوئی جو پاکستان سے فرار ہو کر برطانیہ میں قیام پذیر ہیں اور پاکستان کے لیے ان کے سینے میں ’محبت‘ٹھاٹھیں مارتی ہے، قانون اور انصاف کی ضرورت پر انھوں نے مجھے ایک زور دار بھاشن دیا جس کی تاب نہ لاتے ہوئے دبے لفظوں میں؛ میں نے ان کے سامنے ایک صورت حال رکھی کہ میں ایک یونیورسٹی میں ملازمت کر رہا تھا، میری ملازمت ختم کرا دی گئی۔
صرف اتنے پر بس نہیں کیا، میرے بینک اکاؤنٹس بھی بغیر کسی پیشگی اطلاع کے بند کر دیے گئے۔ میں نے ان سے سوال کیا:
’میرے عزیز! آپ اس طرز عمل کا کیا جواز پیش کریں گے؟‘
اس نوخیز نے ذہن پر ذرا سا بھی زور ڈالے بغیر تڑاخ سے جواب دیا:
’کچھ تو آپ نے کیا ہو گا جبھی تو ایسا کیا گیا۔‘
قانون اس ضمن میں کیا کہتا ہے اور ’ مجرم‘کے بھی کچھ حقوق ہیں کہ نہیں، یہ چیزیں ان کے نزدیک بے کار تھیں۔ میرا قصور صرف اتنا تھا مرحوم و مغفور ممنون حسین جب صدر مملکت تھے، میں ان کا مشیر تھا۔
یہ محض ایک مثال ہے، ورنہ اس ذہنیت کے نتیجے میں کیسا کیسا کارنامہ نہیں ہوا۔ سماج میں ہر قسم کے خیالات رکھنے والے لوگ موجود ہوتے ہیں۔ یہ خیالات نفرت میں خود بہ خود تبدیل نہیں ہو جاتے بلکہ بڑی محنت سے اس کی آب یاری کی جاتی ہے۔
ہمارے یہاں بھی یہی ہوا، ایک دیوتا تراشا گیا اور اس کی گنجائش پیدا کرنے کے لیے عشرے ڈیڑھ عشرے تک ذہن سازی کی گئی۔ اس کے نتیجے میں ایک یہ نسل وجود میں آئی ۔ یہ نسل نہ اخلاق اور کردار کی اہمیت کو تسلیم کرتی ہے اور نہ ملک اور قوم کا مفاد اس کے سامنے کوئی اہمیت رکھتا ہے۔ اس کا سبب کیا ہے؟
یہ معاملہ تفصیل طلب ہے۔ سیرت فیسٹیول کے ایک سیشن اور اس سے کچھ روز قبل اسلام آباد انٹرنیشنل یونیورسٹی کی سیرت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میں نے اس جانب توجہ مبذول کرائی۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہماری محبت کا معاملہ مثالی ہے۔ ہم آپ کے ایام عقیدت و احترام سے مناتے ہیں لیکن چراغاں اپنے پلے سے نہیں کرتے بلکہ بغیر اجازت بجلی کی ترسیل کے نظام میں کنڈا ڈال لیتے ہیں اور اس پر ہمیں ذرا بھی ندامت نہیں ہوتی۔
وعدہ پورا کرنے کی ضرورت تو کبھی محسوس ہی نہیں کرتے۔ وعدے کی ایک صورت وہ تھی جس پر دوحہ پراسس میں طالبان نے اتفاق کیا۔ طالبان نے دنیا سے وعدہ کیا تھا کہ افغان سرزمین دنیا کے کسی ملک خاص طور پر پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہو گی لیکن ہو رہی ہے اور وہ اپنے وعدے کا پاس کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔
انھوں نے یہ وعدہ بھی کیا تھا کہ وہ ریاست کے تمام طبقات کو حکومت میں جگہ دیں گے۔ یہ وعدہ پورا ہونے کا بھی کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔
وعدہ خلافی کی ایک تازہ مثال نے بھی بڑا مسئلہ پیدا کیا ہے۔ اس معاملے کا تعلق خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی تازہ اور بدترین لہر سے ہے۔ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان اسی موضوع پر مذاکرات ہوئے تھے۔
اتفاق رائے ہوا اور معاہدے کا متفقہ مسودہ بھی تیار کر لیا گیا لیکن ایک فریق پیچھے ہٹ گیا جس کے نتیجے میں ہنگامی حالات کے نفاذ کے علاوہ گورنر راج بھی لگانا پڑا۔ معاملات اس سطح پر اس لیے پہنچے کہ ایک فریق وعدہ خلافی کرتے ہوئے پیچھے ہٹ گیا۔
ایسا کیوں ہوا؟ اس کی وجہ تو وہی کلٹ فالوئینگ ہے جس کے سامنے اخلاق، کردار، زبان اور ملک و ملت کی کوئی اہمیت نہیں، اس کی دوسری وجہ یہ ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا دم زبان سے تو بھرتے ہیں لیکن یہ محبت ہماری روح و بدن کا حصہ نہیں بن سکی۔ ایسا کیوں نہیں ہو سکا؟
اس کی وجہ یہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے مطالعے کو بعض واقعات اور میکانکی تفصیلات یعنی تاریخ دن اور سال وغیرہ تک محدود کر دیا گیا ہے، آپﷺکے حیات آفریں پیغام کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔
مسلم معاشروں میں کلٹ فالوئینگ جیسے عوارض بھی اسی وجہ سے پیدا ہوئے۔ ڈاکٹر خورشید احمد ندیم نے جب پندرہ برس کی مہلت کی بات کی تو اس کا مطلب یہی تھا کہ پاکستان کی نئی نسل کی تربیت اسی نقطہ نظر سے کی جائے۔
رحمۃاللعالمین اتھارٹی اس ضمن میں کیا کررہی ہے؟ یہ جاننا ضروری ہے۔اس کا ایک پہلو تو یہ ہے کہ پہلی بار جب اس ادارے کے قیام کا اعلان کیا گیا،کوئی قانون سازی نہیں ہوئی، اس لیے چار مہینے کے بعد یہ ادارہ ختم ہو گیا۔ عدم اعتماد کے یہ بعد یہ ادارہ ایکٹ آف دی پارلیمنٹ کے تحت وجود میں آیا لہٰذا اب یہ ایک مستقل ادارہ ہے۔
ڈاکٹر خورشید احمد ندیم کا تقرر بھی اس کے بعد ہوا۔ وہ جب سے اس کے چیئرمین بنے ہیں، انھوں نے دینی تعلیمات اور سیرت مبارکہ کے اطلاقی پہلوؤں اور تربیت کو پیش نظر رکھا ہے۔ تربیت کے ضمن میں اس کے پر جوش ڈائریکٹر سہیل بن عزیز نے کارٹون سیریز کی طرز پر وڈیو کلپ تیار کیے ہیں جو چھوٹے بچوں کی تربیت کے لیے اہمیت رکھتے ہیں۔
اتھارٹی مالی اعتبار سے بڑی حد تک بے وسیلہ ہے، یہ مجبوری نہ ہوتی تو یہ سیریز زیادہ موثر ہوتی۔ اسی طرح انھوں نے چند اہم نصابی کتب بھی تیار کی ہیں، نیشنل بک فانڈیشن کے تعاون سے جن کی اشاعت ہوئی ہے۔
یہ کتابیں یکساں تعلیمی نصاب کی ضرورت پوری کرتی ہیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے ابھی 12 ربیع الاول کو قومی سیرت کانفرنس کے موقع پر اعلان کیا تھا کہ یہ نصاب وفاق کے زیر انتظام چلنے والے تعلیمی اداروں میں نافذ کر دیا گیا ہے۔ توقع ہے کہ بہت جلد اس کا نفاذ صوبوں میں بھی ہو جائے گا۔
یہ کتابیں محض تعلیمی نصاب کی ضرورت پوری نہیں کرتیں بلکہ ایک جامع تربیتی نظام کو تشکیل دیتی ہیں جس کے تحت دینی تعلیم محض دینیات کے ایک پیریڈ تک محدود نہیں رہے گی بلکہ تعلیم اپنے تمام تر علمی، تحقیقی اور اقتصادی مقاصد کی تکمیل کے ساتھ ساتھ اس انسان مطلوب کی تشکیل کا ذریعہ بن جائے گا جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا اصل مقصد ہے۔
نئی نسل کی تربیت کے لیے اس حکمت کے تحت کام کرنے کے علاوہ اتھارٹی نے سماج کے دیگر شعبوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا۔ اس ضمن میں ڈاکٹر محمد ریاض محمود کا کام اہمیت رکھتا ہے۔ اتھارٹی کے پلیٹ فارم سے اس برس ان کی کتاب The Holy Prophet’s Approach to Urban Planning شائع ہوئی ہے جسے قومی سیرت ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔ اس کتاب کا موضوع نام سے ظاہر ہے۔
گزشتہ برس بھی ان کی کتاب The Holy Prophet’s Approach to Disaster Management کو پہلے سیرت ایوارڈ سے نواز گیا تھا جس کا مقصد قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم سے استفادے کی روایت کو مضبوط کرنا ہے۔ ترکیے اور بعض دیگر اسلامی ممالک میں اس کتاب کا خوش دلی سے خیر مقدم کیا گیا ہے۔ توقع ہے کہ جلد ہی مختلف زبانوں میں اس کتاب کے ایڈیشن شائع ہوں گے۔
اتھارٹی نے پیشہ ورانہ اخلاقیات کے موضوع پر بھی ایک کتاب شائع کی ہے جس کے مصنفین میں ڈاکٹر ریاض کے علاوہ ڈاکٹر محی الدین ہاشمی شامل ہیں۔ صرف کتاب شائع نہیں کی بلکہ سرکاری اور پیشہ ورانہ اداروں کے کارکنوں کی تربیت کا ایک مؤثر نظام بھی وضع کر دیا ہے۔
اس کے علاوہ زندگی کے مختلف شعبوں یعنی نوجوانوں، خواتین، وکلا حتی کہ اقلیتوں کو انگیج کرنے کے لیے سیرت کلب بھی قائم کر دیے ہیں جن میں فطری طور پر یعنی غیر ناصحانہ انداز میں تربیتی سرگرمیاں سارا سال جاری رہتی ہیں۔
یہی سرگرمیاں ہیں جن کی وجہ سے ڈاکٹر خورشید احمد ندیم سمجھتے ہیں کہ اتھارٹی کی سرگرمیاں اسی نہج پر بلا تعطل جاری رہیں تو آئندہ پندرہ برس میں نئی نسل اپنے مسائل سے نجات پا کر اس ملک کو کامیابی کی راہ پر گامزن کر دے گی، ان شااللہ۔
اتھارٹی کا یہی کام ہے جس کے پیش نظر وزیر اعظم شہباز شریف نے اس کے لیے ریوالونگ فنڈ کے قیام کا اعلان کیا ہے جس کے لیے حکومت کی طرف سے فوری طور پر دس کروڑ روپے کی فراہمی کا وعدہ بھی کیا۔
سیرت فیسٹیول کے افتتاحی اجلاس سے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ جناب اسحاق ڈار نے خطاب کیا۔ یہ خطاب کئی اعتبار سے یادگار تھا۔ اتھارٹی کے نصب العین اور سرگرمیوں کے تذکرے نے انھیں پرجوش کر دیا اور دوران گفتگو وہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے۔
انھوں نے دعا کی کہ اللہ تعالی اتھارٹی اور اس کے ذمے دار اپنے مشن میں کام یاب ہوں تا کہ ہماری نئی نسل کی تربیت اسوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں کام یابی سے کی جا سکے۔

