ہندوتوا تنظیموں کی دھمکی کے بعد مسلمان انفلوئنسر کے گربا پروگرام رد

Social media influencer Javed Ali Khan


گنیش چترتھی مناتے سوشل میڈیا انفلوئنسر جاوید علی خان ۔ تصویر:انسٹاگرام

انسٹاگرام پرتقریباً 9 لاکھ فالوور والے جئے پور کے انفلوئنسر جاوید علی خان کے گربا پروگراموں میں سیلیبرٹی گیسٹ کے طور پر دو مجوزہ پروگرام ہندوتوا تنظیموں کے اعتراض کے بعد رد کر دیے گئے۔ منتظمین کو دھمکی دی گئی تھی کہ اگر انہوں نے خان کے ساتھ پروگرام کیا تو وہاں توڑ پھوڑ کی جائے گی۔

نئی دہلی:جئے پور میں نوراتری کے دوران منعقد ہونے والے گربا پروگراموں میں سوشل میڈیا انفلوئنسر جاوید علی خان کے دو  مجوزہ پروگرام رد کر دیے گئے۔ الزام ہے کہ ہندوتوا تنظیموں نے خان کے ’ہندو نہ ہونے‘کی وجہ سے ان کے پروگراموں میں شامل ہونے پر اعتراض کیا تھا اور منتظمین کو دھمکی  دی تھی۔

منتظمین نے بتایا کہ انہیں وارننگ دی گئی تھی کہ اگر انہوں نے خان کے ساتھ مجوزہ پروگرام منعقد کیا تو وہاں توڑ پھوڑ کی جائے گی۔

جئے  پور کے مولس کلب کے مالک روی پٹیل نے اتوار (18اکتوبر)کو دی وائر کو بتایا،’وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) اور بجرنگ دل سمیت کئی تنظیموں کے اعتراض کے بعد جاوید خان کا پروگرام ردکر دیا گیا۔ مجھے کئی فون کال اور پیغامات موصول ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر پروگرام رد نہیں کیا گیا تو وہ توڑ پھوڑ کریں گے اور کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ اب کون ہنگامہ اور پراپرٹی کا نقصان چاہتا ہے؟ خان کو آج اپنے اہل خانہ کے ساتھ سیلیبرٹی کے طور پر پروگرام میں شامل ہونا تھا۔‘

پٹیل نے دعویٰ کیا کہ بعد میں پولیس نے بھی ان سے کہا کہ اگر خان کو مدعو کیا گیا تو ہندوتوا گروپ پریشانی کھڑی کر سکتے ہیں۔

پٹیل نے مزید کہا، ’ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔‘

دی وائر کےرابطہ کیے جانے پر مالویہ نگر کے اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس (اے سی پی)شیو دیال میگھوال نے کہا کہ انہیں خان کے مجوزہ پروگرام کی مخالفت کے بارے میں کوئی جانکاری نہیں تھی۔

اس سے پہلے، سنیچر (17اکتوبر)کو ونایا ریزورٹ اینڈ ری ٹریٹ میں منعقد ڈانڈیا پروگرام میں بھی خان کی مجوزہ موجودگی  ہندوتوا تنظیموں کی دھمکیوں کے بعد ردکر دی گئی تھی۔

Poster
جئے پور میں منعقد ہونے والے گربا پروگرام کا پوسٹر، جس میں جاوید خان کا نام ’سیلیبریٹی گیسٹ‘کے طور پر درج تھا۔ ہندوتوا تنظیموں کی دھمکیوں کے بعد یہ پروگرام ردکر دیا گیا۔ تصویر:اسپیشل ارینجمنٹ

جئے پور کے 31 سالہ سوشل میڈیا انفلوئنسر اور اداکار خان نے دی وائر کو بتایا،’پروگرام کے منتظمین نے مجھے ایک آڈیو ریکارڈنگ بھیجی تھی، جس میں سناتن سرکشا دل کے لوگ انہیں مجھے مدعو نہ کرنے کی وارننگ دیتے ہوئے سنائی دے رہے تھے۔ جب منتظمین نے مجھے حالات کے بارے میں بتایا تو میں نے ان کی پیشگی رقم لوٹا دی اور ان سے کہا کہ وہ پروگرام کو کامیاب بنانے پر توجہ دیں۔ میں نہیں چاہتا کہ میری وجہ سے کسی کو نقصان ہو۔ میں ان تنظیموں سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر تہواروں میں ڈیوٹی پر مسلمان پولیس اہلکار تعینات ہوں تو کیا آپ انہیں بھی روکیں گے؟‘

انہوں نے بتایا کہ مولس کلب میں ہونے والا پروگرام بھی ہندوتوا تنظیموں کی اسی طرح کی دھمکیوں کے بعدرد کر دیا گیا۔

’کیا سرکار کمیونٹی  کے درمیان یہ تقسیم چاہتی ہے؟‘

انسٹاگرام پر تقریباً 9 لاکھ فالوور والے خان نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر اس واقعہ کے بارے میں کئی اسٹوریز بھی پوسٹ کی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے پروگرام اس لیے ردکر دیے، کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ ان کی وجہ سے کسی کو پریشانی ہو یا مالی نقصان اٹھانا پڑے۔

خان نے دی وائر سے کہا،’میں کئی بار ویشنو دیوی جا چکا ہوں اور نوراتری اور کرسمس جیسے الگ الگ کمیونٹی کے کئی تہواروں میں باقاعدگی سے حصہ لیتا ہوں۔ لیکن آج عوامی طور  پر ایسے ہورڈنگ لگائے جا رہے ہیں، جن میں کہا جا رہا ہے کہ کوئی بھی غیر ہندو گربا پروگراموں میں شامل نہیں ہو سکتا۔ یہ سب کھلے عام ہو رہا ہے۔ ہندوتوا تنظیموں کے لوگ پولیس تھانوں میں بھی فون کر رہے ہیں اور انہیں بتا رہے ہیں کہ کون کون سے مسلمان ایسے پروگراموں میں شامل ہو رہے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا،’میں ریاست کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)حکومت سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ اس معاملے میں کیا کارروائی کی جا رہی ہے؟ کیا حکومت کمیونٹی کے درمیان یہ تقسیم چاہتی ہے؟‘

خان نے اپنے انسٹاگرام پر موجود ان ویڈیو کا بھی ذکر کیا، جن میں وہ گنیش چترتھی جیسے تہوار مناتے نظر آتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال تک وہ باقاعدگی سے نوراتری کی تقریبات میں شرکت کرتے تھے۔

خان نے کہا،’ان تنظیموں کو پتہ  ہے کہ اس طرح کے تنازعات کی وجہ سے سرخیوں میں آنے سے انہیں سیاست میں جگہ بنانے میں مدد ملتی ہے۔ انہیں امید ہوتی ہے کہ شاید انہیں اسمبلی انتخابات کا ٹکٹ مل جائے یا کسی مورچے کا چیف بنا دیا جائے۔ میں جولائی میں دہلی میں سی جے پی کے احتجاج میں بھی گیا تھا اور وہاں ابھجیت دیپکے، نہا بورا اور دیگر مظاہرین سے ملا تھا۔ وہاں ہر کمیونٹی کے لوگ موجود تھے۔ ہم معاشرے میں مذہب یا ذات کی بنیاد پر کسی بھی طرح کی تقسیم کے خلاف ہیں۔ ‘

’ہم نے منتظمین کو خبردار کیا تھا‘

دوسری جانب، ہندوتوا تنظیم سناتن سرکشا دل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی جانب سے منتظمین کو خبردار کیے جانے کے بعد ہی خان کے پروگرام رد کیے گئے۔

سناتن سرکشا دل کے بانی روی گوتم نے کہا،’منتظمین نے جاوید خان کی موجودگی  کا اعلان کرتے ہوئے پوسٹر بھی جاری کر دیا تھا۔ ہم نے انہیں خبردار کیا کہ اگر جاوید خان آئے تو ہمارے کارکن پروگرام میں پہنچیں گے، ان کی موجودگی کی مخالفت کریں گے اور پروگرام نہیں ہونے دیں گے۔ اس کے بعد پروگرام رد کر دیا گیا۔‘

انہوں نے مزید کہا،’نوراتری کے دوران منعقد ہونے والے گربا اور ڈانڈیا پروگرام ہندو دیویوں کی پوجا سے وابستہ ہیں۔ ہم نے ہر گربا پنڈال کے پاس ہورڈنگ لگائے ہیں، جن میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی غیر ہندو وہاں داخل ہوتا ہوا پایا گیا تو سناتن سرکشا دل اپنی مرضی کے مطابق کارروائی کرے گا۔‘

گوتم نے بتایا کہ وہ پہلے فوٹو جرنلسٹ تھے اور چھ ماہ قبل انہوں نے سناتن سرکشا دل قائم کیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تنظیم کے ارکان گربا پنڈالوں میں داخل ہونے والے ہر شخص کی پہچان کی جانچ کر رہے ہیں۔

گوتم نے کہا،’ہم داخل ہونے والے تمام لوگوں کے ماتھے پرتلک لگا رہے ہیں، ان کی کلائیوں پر مقدس دھاگے (کنگن)باندھ رہے ہیں اور گنگا جل سے انہیں شدھ بھی کر رہے ہیں۔ کوئی مسلمان ایسا کرنے کے لیے تیار نہیں ہوگا۔ ہماری ٹیم اب تک 70 سے 80 پنڈالوں میں جا چکی ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا،’یہ ہندوؤں کا تہوار ہے تو کوئی غیر ہندو یہاں کیسے آ سکتا ہے؟ اگر کسی کو گربا کھیلنے کا اتنا ہی شوق ہے تو اسے اپنی مسجد میں ایسا کرنا چاہیے یا پھر اپنی بہنوں اور بیویوں کے ساتھ ہندو پنڈالوں میں آنا چاہیے۔ وہاں انہیں تلک لگوانا ہوگا اور کنگن بھی بندھوانے ہوں گے۔ ‘

گوتم نے یہ بھی بتایا کہ سناتن سرکشا دل اس طرح کی سرگرمیوں کے سلسلے میں بجرنگ دل کے ساتھ بھی تال میل قائم کر رہا ہے۔

Sanatan Suraksha Dals Warning
گربا پنڈالوں میں ’غیر ہندوؤں‘کے داخلے کے خلاف سناتن سرکشا دل کی جانب سے جاری کی گئی دھمکی۔تصویر: فیس بک

کارکنوں کا حکومت سے مداخلت کا مطالبہ

حقوق کے لیے کام کرنے والے سماجی کارکنوں نے اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔

پیپلز یونین فار سول لبرٹیز (پی یو سی ایل)کی قومی صدر کویتا شریواستو نے کہا، ’ ہم اس بات کی مذمت کرتے ہیں کہ ان تنظیموں کے دباؤ کے بعد خان کو گربا پنڈالوں میں جانے کا پروگرام رد کرنا پڑا۔ یہ انتہائی افسوس ناک ہے کہ خان کی پہچان کو صرف ان کے مذہب تک محدود کر دیا گیا اور ان کے کام کو کوئی اہمیت نہیں دی گئی۔‘

انہوں نے کہا، ’یہ حیران کن ہے، کیونکہ جئے پور کی ثقافت انتہائی جامع ،ہمہ گیر اور سب کو ساتھ لے کر چلنے والی رہی ہے۔ ہم نے پہلے کبھی ایسی صورتحال  کا مشاہدہ نہیں کیا، جب یہ کوشش کی جا رہی ہو کہ صرف ایک ہی برادری کے لوگ گربا تقریبات میں شرکت کر سکتے ہیں۔‘

شریواستو نے کہا کہ راجستھان کی بی جے پی حکومت کو مستقبل میں ایسے واقعات کو روکنے کے لیے مداخلت کرنی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا،’خوف کا ماحول پیدا کرنے کے لیے تنظیموں کی جانب سے ہورڈنگ لگانا اور لوگوں کے شناختی کارڈوں کی جانچ کرنا حیران کن ہے۔ اس کی مذمت کی جانی چاہیے۔ حکومت کو مداخلت کرکے اسے روکنا چاہیے۔ ہندوستان میں تہوار ہمیشہ سے لوگوں کو ایک ساتھ لاتے رہے ہیں اور ان میں تمام برادریوں کے لوگ شرکت کرتے ہیں۔‘

انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔





Source link

متعلقہ پوسٹ