پاکستان، ترکی، قطر اور انڈونیشیا کا دفاعی تعاون بڑھانے کے معاہدے پر دستخط

399324 969218575


ترکی کی وزارت دفاع کے مطابق پاکستان، ترکی، قطر اور انڈونیشیا نے بدھ کو دفاعی صنعت کو فروغ دینے کے لیے تعاون بڑھانے اور دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

روئٹرز کے مطابق ترک وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا کہ دوحہ میں طے پانے والے اس معاہدے کے تحت فوجی مشقوں اور تربیت، تحقیق و ترقی کے شعبوں میں تعاون کی حمایت بھی کی جائے گی۔

بیان کے مطابق یہ معاہدہ چاروں ممالک کی دفاعی صنعتوں کو بہتر بنانے کے لیے مشترکہ کوششوں میں بھی معاون ثابت ہوگا۔

اس نئے معاہدے کی تفصیلی شرائط سامنے نہیں آئی ہیں اور دستیاب معلومات میں اسے کسی مشترکہ دفاعی ضمانت یا کسی ملک پر حملے کی صورت میں لازمی فوجی مدد فراہم کرنے کے معاہدے کے طور پر بیان نہیں کیا گیا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ، خلیجی ممالک پر حملوں، بحیرہ احمر میں بحری سلامتی کے خدشات اور امریکہ کے سکیورٹی کردار سے متعلق سوالات کے باعث علاقائی ممالک اپنے دفاعی تعاون کے نئے راستے تلاش کر رہے ہیں۔

پاکستان کے موجودہ دفاعی معاہدے

اس سے قبل سعودی عرب، پاکستان اور ترکی نے سات اگست 2026 کو مکہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جسے مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ کہا جاتا ہے۔ اس معاہدے کی بنیادی شق کے مطابق کسی ایک رکن پر مسلح حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

مکہ معاہدے میں فریقین کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحدوں کو لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی شق شامل ہے۔ اس میں انٹیلی جنس کے تبادلے، دفاعی صنعت میں تعاون، لاجسٹک معاونت اور دہشت گردی کے خلاف تعاون کا بھی ذکر ہے۔

معاہدے میں حملے کی صورت میں مدد کی نوعیت اور دائرہ کار طے کرنے کا اختیار متعلقہ ممالک کے پاس ہے۔

ترکی نے گذشہ روز (منگل کو) مکہ دفاعی معاہدے کو توثیق کے لیے اپنی پارلیمان میں پیش کیا۔ ترکی کے آئین کے تحت بیرون ملک فوج بھیجنے کے لیے پارلیمانی اجازت درکار ہے۔ ترکی کے وزیر خارجہ حاقان فیدان نے واضح کیا تھا کہ معاہدہ جارحانہ نوعیت کا نہیں اور اس کا مقصد کسی دوسرے ملک کی سرزمین پر حملے کرنا نہیں ہے۔

مکہ کے سہ فریقی معاہدے سے پہلے پاکستان اور سعودی عرب ستمبر 2025 میں بھی باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کر چکے تھے۔ یہ دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ فوجی اور سکیورٹی تعاون کو باضابطہ شکل دینے کی ایک اہم پیش رفت تھی۔

اس معاہدے پر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے ریاض میں دستخط کیے تھے۔ معاہدے کے اعلان کے مطابق کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں ممالک کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔

روئٹرز کے مطابق یہ معاہدہ کئی برس سے جاری بات چیت کا نتیجہ تھا۔ ایک سعودی عہدیدار نے اس وقت کہا تھا کہ یہ کسی ایک ملک یا مخصوص واقعے کے ردعمل میں نہیں بلکہ دونوں ممالک کے دیرینہ تعاون کو ادارہ جاتی شکل دینے کی کوشش ہے۔

اس معاہدے کی تفصیلات میں پاکستان کی جوہری صلاحیتوں کے ممکنہ کردار پر بھی سوالات اٹھے تھے، تاہم سعودی حکام نے اسے ایک جامع دفاعی معاہدہ قرار دیا تھا اور کسی مخصوص جوہری ضمانت کی تفصیل سامنے نہیں آئی تھی۔

مکہ کے سہ فریقی معاہدے نے اس دوطرفہ شراکت داری کو ترکی تک وسعت دی ہے۔ تاہم پاکستان اور سعودی عرب کے 2025 کے معاہدے اور سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے 2026 کے معاہدے کو الگ قانونی و سفارتی دستاویزات کے طور پر سمجھنا ضروری ہے۔

مشرق وسطیٰ کی جنگ اور نئے دفاعی انتظامات

مشرق وسطیٰ میں موجودہ کشیدگی کے پس منظر میں غزہ کی جنگ، اسرائیل اور ایران کے درمیان فوجی محاذ آرائی، لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان لڑائی اور خلیجی ممالک کو درپیش میزائل اور ڈرون حملوں کے خطرات شامل ہیں۔

روئٹرز کی سات اگست 2026 کی رپورٹ کے مطابق امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملے کیے، جس کے بعد جنگ نے خطے میں وسیع تر شکل اختیار کر لی۔

ایران اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے خلیجی ممالک کو نشانہ بنائے جانے، توانائی کی تنصیبات اور بحری راستوں کو خطرات اور تیل و گیس کی ترسیل میں رکاوٹوں نے علاقائی سلامتی کے خدشات میں اضافہ کیا۔

سعودی عرب کے لیے توانائی کی برآمدات اور اہم تنصیبات کا تحفظ خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب سے گزرنے والی بحری تجارت میں خلل عالمی توانائی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

روئٹرز نے 20 اکتوبر کی رپورٹ میں بتایا کہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ سعودی عرب اور یمن کے حوثی باغیوں نے جنگ ختم کرنے کے لیے ایران کی ثالثی کی پیشکش کا جواب نہیں دیا۔ اس دوران سعودی اہداف پر حوثی حملوں میں اضافے اور مصر کی ممکنہ فوجی شمولیت سے متعلق قیاس آرائیوں نے صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ 

امریکہ کے سکیورٹی کردار پر سوالات

خلیجی ممالک طویل عرصے سے امریکہ کو اپنے دفاع اور سلامتی کا اہم شراکت دار سمجھتے آئے ہیں۔ تاہم حالیہ جنگ نے اس بات پر بحث تیز کر دی ہے کہ آیا صرف امریکی دفاعی ضمانتوں پر انحصار کافی ہے یا خطے کے ممالک کو اپنے درمیان بھی زیادہ مضبوط دفاعی انتظامات کرنے چاہییں۔

روئٹرز نے 30 ستمبر 2026 کی ایک تجزیاتی رپورٹ میں لکھا کہ خلیجی ممالک اپنے سکیورٹی انتظامات پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں قطر کی جانب سے ایسے علاقائی سکیورٹی ڈھانچے کی تجویز کا بھی ذکر تھا جس میں ایران اور عرب خلیجی ممالک شامل ہوں۔

مکہ دفاعی معاہدہ اسی وسیع تر بحث کا ایک حصہ ہے، لیکن اسے امریکہ سے مکمل علیحدگی یا کسی نئے فوجی اتحاد کے ذریعے امریکی کردار کے خاتمے کا ثبوت قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے امریکہ کے ساتھ اپنے اپنے دفاعی اور سفارتی تعلقات بھی موجود ہیں۔

کیا یہ دفاعی معاہدے نیٹو کی طرز پر ہیں؟

مکہ معاہدے میں اجتماعی دفاع کی شق اسے نیٹو کے معاہدے کی پانچویں شق سے بعض پہلوؤں میں مشابہ بناتی ہے، جس کے تحت ایک رکن پر حملے کو تمام ارکان کے خلاف حملہ تصور کیا جاتا ہے۔ تاہم دونوں انتظامات کی رکنیت، ادارہ جاتی ساخت، عملی طریقہ کار اور دفاعی ذمہ داریوں میں فرق ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے اگست 2026 میں پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ مکہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان نے یہ بھی کہا تھا کہ معاہدے کے اصولوں سے اتفاق کرنے والے دیگر ممالک کے لیے اس میں شمولیت کا راستہ کھلا ہے۔

اس کے باوجود معاہدے کو مشرق وسطیٰ کا نیٹو قرار دینا فی الحال درست نہیں ہوگا۔ اس کے عملی اثرات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ رکن ممالک حملے کی صورت میں کس نوعیت کی مدد فراہم کرتے ہیں، ان کے درمیان فوجی رابطہ کاری کس حد تک بڑھتی ہے اور معاہدے کی قانونی و عملی شرائط کیسے نافذ ہوتی ہیں۔

 





Source link

متعلقہ پوسٹ