(ویب ڈیسک) بھارت میں ووٹرز لسٹ دھاندلا کا خالق گیانیش کمار اب بھی چیف الیکشن کمشنر ہے اور اتر پردیش میں ووٹرز لسٹ میں ایک اور دھاندلا سامنے آ گیا ہے۔
لکھنؤ سے بریک ہونے والی خبروں میں بتایا جا رہا ہے کہ اتر پردیش میں ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کو لے کر کانگریس نے الیکشن کمیشن پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ پارٹی نے پیلی بھیت صدر اسمبلی کےحلقے میں 13150 ووٹروں کے نام بدلنے، 884 ووٹروں کے نام ہٹانے اور 2600 نئے ووٹروں کے نام شامل کرنے کا الزام لگایا ہے۔ کانگریس کا دعویٰ ہے کہ ان تینوں زمروں میں مجموعی طور پر 16554 ووٹروں سے متعلق گڑبڑیاں سامنے آئی ہیں۔ پارٹی نے معاملے کی جانچ کرانے اور ووٹر لسٹ میں گڑبڑیوں کے خلاف قانونی لڑائی لڑنے کا اعلان کیا ہے۔
اتر پردیش کانگریس کمیٹی کے لکھنؤ میں واقع مرکزی دفتر میں بدھ کو منعقدہ پریس کانفرنس میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے ریاستی انچارج راجندر پال گوتم، ریاستی کانگریس صدر آرادھنا مشرا مونا، کانگریس کی قومی ترجمان اور سوشل میڈیا شعبے کی چیئرپرسن سپریا شرینیت اور ریاستی کانگریس کمیٹی کے کارگزار صدر و رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے ووٹر لسٹ میں گڑبڑیوں کا معاملہ اٹھایا۔
راجندر پال گوتم نے الزام لگایا کہ ووٹر لسٹ کے حتمی مسودے میں نام درج ہونے کے باوجود ووٹروں کی تفصیلات تبدیل کر دی گئیں۔ ان کے مطابق، پیلی بھیت صدر اسمبلی حلقے میں 13,150 ووٹروں کے انتخابی شناختی کارڈ (ای پی آئی سی) نمبر اور سیریل نمبر یکساں رہنے کے باوجود ان کے نام بدل دیے گئے۔ اس کے علاوہ 884 ایسے ووٹروں کے نام ہٹان دئیے گئے جو کانگریس کے مطابق اب بھی متعلقہ علاقے میں رہتے ہیں۔ پارٹی نے 2600 ایسے ووٹروں کے نام شامل کرنے کا بھی دعویٰ کیا جو مبینہ طور پر اس علاقے میں نہیں رہتے۔
سپریا شرینیت نے آج بدھ کے روز لکھنئی میں اپنی پریس کانفرنس میں ایک مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ ای پی آئی سی نمبر 4G-MCM-4746 پر پہلے 35 سالہ محمد یوسف کا نام درج تھا، لیکن اب اسی نمبر پر 35 سالہ حسرت ولد رمضان علی کی تفصیلات درج ہیں۔ ان کے مطابق، شناختی کارڈ نمبر، عمر اور جنس یکساں ہیں، لیکن ووٹر اور والد کا نام الگ ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کانگریس نے اس نوعیت کے 13,150 معاملات کی نشاندہی کی ہے۔
شرینیت نے سوال اٹھایا کہ ووٹر لسٹ میں اس طرح نام بدلنے اور نام شامل کرنے یا ہٹانے کا عمل کیسے ہوا، یہ کس کے حکم پر کیا گیا اور اس کے لیے ذمہ دار کون ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکام کی جانب سے سافٹ ویئر تک رسائی نہ ہونے کی بات کہی جا رہی ہے، اس لیے پورے معاملے کی جانچ ضروری ہے۔
کانگریس رہنماؤں نے پیلی بھیت صدر اسمبلی حلقے کے 2022 کے انتخابی نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کے رکن اسمبلی اور ریاستی وزیر سنجے گنگوار نے 6930 ووٹوں کے فرق سے کامیابی حاصل کی تھی۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ اسی حلقے میں 16 ہزار سے زیادہ ووٹروں سے متعلق گڑبڑیاں سامنے آنا سنگین معاملہ ہے۔
ریاستی کانگریس صدر آرادھنا مشرا مونا نے کہا کہ ووٹر شناختی کارڈ ہونے کے باوجود پولنگ کے دن ووٹر لسٹ میں نام نہ ملنا تشویش ناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اس معاملے میں قانونی مشورہ لے گی اور ایس آئی آر سے متعلق اعتراضات پر تنظیمی اور قانونی سطح پر لڑائی لڑے گی۔
یہ بھی پڑھیئے: امریکہ کے پاکستان کےساتھ تعلقات بھارت کے ہی کام آتے ہیں، امریکہ وزیر خارجہ کی بمبئی میں بھارتی میڈیا کو طفل تسلیاں
سپریا شرینیت نے ووٹر لسٹ میں گڑبڑیوں کی جانچ کا مطالبہ کرتے ہوئے ووٹروں سے اپیل کی کہ وہ الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر اپنا ای پی آئی سی نمبر ڈال کر نام اور دیگر تفصیلات کی جانچ کریں۔ انہوں نے ضلع مجسٹریٹوں اور سب ڈویژنل مجسٹریٹوں سے بھی ان گڑبڑیوں پر وضاحت دینے کا مطالبہ کیا۔
یوپی کانگریس کے کارگزار صدر اور رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے کہا کہ ووٹر لسٹ کی درستگی اور ووٹ دینے کے حق کا تحفظ تمام شہریوں کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے پیلی بھیت میں پارٹی کارکنوں کی جانب سے ووٹر لسٹ کی جانچ کرکے گڑبڑیوں کی نشاندہی کرنے کی کوششوں کی تعریف کی۔ مسعود نے کہا کہ کانگریس اس معاملے میں عدالت سے رجوع کرے گی۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اپنی ووٹر لسٹ میں نام اور دیگر تفصیلات کی جانچ کریں اور کسی بھی گڑبڑی کی صورت میں متعلقہ حکام کو مطلع کریں۔ پریس کانفرنس میں کانگریس رہنماؤں نے ووٹر لسٹ میں گڑبڑیوں کی جانچ اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
یہ بھی پڑھیئے: بھارت کا سٹیٹ بینک ہیکنگ میں لٹ گیا، اکاؤنٹ ہولڈرز کی حساس معلومات ڈارک ویب میں برائے فروخت
بھارت میں ووٹرز لسٹوں میں صفایا کرنے کے عمل کے دوران 13 کروڑ ووٹروں کے نام خارج کر دیئے جانے کے دھاندلا میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے کیونکہ الیکشن کمیشن کے گیانیش سمیت تین ارکان مین سے دو ارکان بول پڑے ہیں اور ان کے حوالے سے تفاصل میڈیا میں آ گئی ہیں کہ انہوں نے گیانیش کے ووٹرز لسٹ دھاندلا کی اول روز سے سخت مخالفت کی۔ ان دو ارکان نے الیکشن کمیشن کی ساکھ تباہ ہونے اور جہموریت کو شدید نقصانات پہنچنے کی شکایات کیں لیکن گیانیش ان دو ارکان کو بائی پاس کر کے دھاندلا کرتے چلے جا رہے ہیں۔

اب اتر پردیش کے صرف ایک انتخابی حلقہ میں مزید ہزاروں ووٹروں کو ووٹ کے ھق سے مھروم کرنے اور غیر موجود افراد کو ووٹرز ڈیکلئیر کرنے کی نئی تفصیل نے 13 کروڑ ووٹرز کے ساتھ دھاندلے کی ایک اور تصدیق کر دی ہے۔
آج کل بھارت میں ایک مقبول نعرہ یہ ہے "گیانیش کمار کہاں ملیں گے؟ بی جے پی کے دفتر میں!”

