
(ویب ڈیسک) سٹیٹ بینک آف انڈیا کا ڈیٹا چوری کر کے بیچنے والے ہیکروں کا گروپ سامنے آ گیا۔ گروپ نے دعویٰ کیا کہ ان کے ساتھ تین لاکھ 75 ہزر بینک اکاؤنٹ ہولڈرز کی حساس ذاتی عملومات موجود ہیں جو فروخت کے لئے دستیاب ہیں۔
ایس بی آئی کے ڈیٹا کی خلاف ورزی کا دعویٰ سریوسم کے نام سے خود کو متعارف کروانے والے ہیکرز نے کیا ہے۔ ان کا دعویٰ 3.75 لاکھ اکاؤنٹس کی پرسند انفارمیشن فروخت کے لئے دستیاب ہونے پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔
سائبرسیکیوریٹی اکاؤنٹ CyberPulse56 نے X پر انکشاف کیا کہ ‘Siriusim’ کے نام سے سامنے آنے والے ایک گمنام ہیکر گروپ نے SBI کے 3.75 لاکھ صارفین کا خفیہ ڈیٹا حاسل کر لیاہے۔
ہیکرز کے اس گروپ کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس 3,75,000 اکاؤنٹس اور 2,722 پی ڈی ایف فائلیں ہیں۔ جبکہ سائیبر سکیورٹی کمپنی CyberPulse56 نے کہا ہے کہ ڈیٹا میں صارفین کی ذاتی معلومات، قرض کی درخواستیں، معاون دستاویزات، اکاؤنٹ کھولنے کی درخواستیں، پتے اور درخواست سے متعلق دیگر تفصیلات شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیئے: بھارت کا سٹیٹ بینک ہیکنگ میں لٹ گیا، اکاؤنٹ ہولڈرز کی حساس معلومات ڈارک ویب میں برائے فروخت
SBI کے ڈیٹا افشا ہونے کے معاملے میں ہیکر گروپ کا دعویٰ ایکس (X) پر سامنے آیا تھا۔ گروپ نے اپنا نام Siriusim بتایا تھا۔ یہ دعویٰ 16 اکتوبر 2026ء کو سائبر سکیورٹی مانیٹرنگ اکاؤنٹ CyberPulse56 نے رپورٹ کیا۔ بعد میں اس معاملے کی تفصیلات بھارتی میڈیا میں بھی شائع ہوئیں۔
ہیکرز کے گروپ نے ڈیٹا حاصل کرنے کا دعویٰ کیا، تو کچھ وقت خاموشی رہی۔ اس کے بعد ہیکرز کے دعویٰ کے صحیح ہونے کی اس وقت تصدیق ہو گئی جب خوس سٹیت بینک آف اندیا SBI نے بعد میں "کچھ صارفین کی معلومات” ڈارک ویب پر موجود ہونے کی اطلاع سٹاک ایکسچینج کو دی۔ SBI نے یہ تصدیق نہیں کی کہ Siriusim ہی اس واقعے کا ذمہ دار ہے یا ڈیٹا اس کے اپنے مرکزی نظام سے چوری ہوا تھا۔
دعوے کی تفصیل: 3 لاکھ 75 ہزار ریکارڈز
ہیکرز کے گروپ کے دعوے کے مطابق اس کے پاس تقریباً 375,000 CSV ریکارڈز اور 2,722 PDF دستاویزات موجود ہیں۔ہیکرز نے ان میں قرض کی درخواستیں، اکاؤنٹ کھولنے کے فارم، معاون دستاویزات اور صارفین کے پتے شامل ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔
چار نمونہ ریکارڈز کی جانچ
فری پریس جرنل Free Press Journal نے 17 اکتوبر کو ڈارک ویب میں ہیکر فورم پر دستیاب چار نمونہ ریکارڈز کا جائزہ لیا۔ رپورٹ کے مطابق فون نمبرز درست تھے، اور ایک صارف کی واٹس ایپ پروفائل تصویر اس کی دستاویز پر موجود تصویر سے ملتی تھی۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ نمونے حقیقی تھے۔
اصل ذریعہ نامعلوم
یہ ابھی ثابت نہیں کہ ڈیٹا SBI کے اپنے سرورز سے نکالا گیا، کسی تیسرے فریق یا قرض کی درخواستیں سنبھالنے والے ادارے سے آیا، یا کسی اور ذریعے سے حاصل ہوا۔ SBI کی تحقیقات اسی سوال کا جواب تلاش کر رہی ہیں۔
ہیکرز کی اصل ایکس پوسٹ کہاں ہے؟
یہ رہا CyberPulse کے اکاؤنٹ کی وہ پوسٹ جس کا حوالہ رپورٹ میں دیا گیا ، اب ایکس پر دستیاب نہیں ہے۔ ایکس نے اس اکاؤنٹ کو سسپینڈ کر دیا ہے۔ اب اس پوسٹ کا لنک کھولیں تویہ پیغام ملتا ہے کہ یہ پوسٹ اس اکاؤنٹس سے کی گئی ہے جسے سسپینڈ کر دیا گیا ہے۔
اس پوسٹ کا حوالہ اور لنک Secure Blink کی رپورٹ میں موجود ہیں۔
3,897 یا 375,000؟
سٹیٹ بینک SBI کی 21 اکتوبر کی سٹاک ایکسچینج کو بھیجی گئی اصل اطلاع کے مطابق، ڈارک ویب پر موجود تقریباً 375,000 ریکارڈز کے ابتدائی جائزے میں 3,897 ریکارڈز میں صارفین کی ذاتی شناختی معلومات پائی گئیں۔ بینک نے ڈیٹا کی اصلیت اور مکمل حجم کی تحقیقات جاری ہونے کی بات کی ہے۔
ایس بی آئی نے آج 21 اکتوبر تک یہ تصدیق نہیں کی کہ واقعی اس کے 3 لاکھ 75 ہزار صارفین کے اکاؤنٹس ہ سے جڑی حساس معلومات ہیک ہوئی ہیں۔ لیکن ہیکرز کا مواد ڈٓرک ویب پر بدستور موجود ہے۔ اور وہ دستیاب معلومات تین لاکھ 75 ہزار افراد کی ہی بتا رہے ہیں۔

