پی ٹی آئی کی داخلی کشمکش

2726760 SalmanAbid 1729190119


پی ٹی آئی کی داخلی کشمکش ، باہمی انتشار ، تنظیمی بحران سمیت ان کی سیاسی حکمت عملی نے ان کو سیاسی طور پر کمزور کردیا ہے۔لانگ مارچ جس کی بھی حکمت عملی تھی وہ کافی ناقص ثابت ہوئی۔پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت لانگ مارچ کی ناکامی کا سارا ملبہ صوبہ کے سابق وزیر اعلی سہیل آفریدی پر ڈال کر خود کو بچانے کی کوشش کررہی ہے۔اگر سہیل آفریدی اس مہم جوئی کے ذمے دار تھے تو خود مرکزی قیادت کیسے اس ناکامی پرخود کو بری الزمہ قرار دیتی ہے۔کیونکہ یہ ساری قیادت تو لانگ مارچ کی حمایت کررہی تھی۔

اسی طرح لانگ مارچ کے دوران پی ٹی آئی کی قیادت اور حکومت کے درمیان ہونے والے مذاکرات کی ناکامی جہاں حکومت پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے وہیں پی ٹی آئی کی قیادت کے غیر لچک دار رویے نے بھی مذاکرات کو ناکام بنایا۔پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت سے لے کر خیبر پختون خوا کی صوبائی قیادت میں جو ایک دوسرے کے خلاف مختلف گروپ بندیاں ہیں اس نے بھی پارٹی کے معاملات کو نقصان پہنچایا ہے۔ایسے لگتا ہے کہ پارٹی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کے پاس بھی جماعت کی سطح پر پارٹی فیصلوں کا وہ اختیار نہیں جو ہونا چاہیے تھا۔پی ٹی آئی میں بہت سے لوگ پس پردہ غیر سیاسی قوتوں کے ساتھ بھی رابطوں میں ہیں لیکن ان سب کے رابطوں اور غیر سیاسی قوتوں کے ساتھ اچھے تعلقات کے باوجود وہ بانی پی ٹی آئی یا کوٹ لکھپت جیل میں قید مردوں اور سیاسی راہنماؤں کو کسی بھی سطح پر ریلیف نہیں دلواسکے ہیں۔

آج بھی پی ٹی آئی کا ووٹ بینک ہے۔لیکن پی ٹی آئی کی قیادت کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ وہ سیاسی میدان میں کسی بھی قسم کی بڑی عوامی جدوجہد پیدا نہ کرکے حکومت پر کوئی بڑا دباؤ پیدا نہیں کرسکی۔بالخصوص خیبر پختونخوا میں جہاں ان کی اپنی حکومت پچھلے تیرہ برسوں سے ہے وہاں ان کی جماعت اقتدار کی سیاسی مجبوریوں کے باعث عوامی جدوجہد سے محروم رہی ہے۔

اسی طرح پی ٹی آئی میں بانی پی ٹی آئی کی جانب سے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کی پہلے تقرری پر اعتراض تھا اور اب حالیہ کور کمیٹی کے اجلاس میں اپوزیشن لیڈرز کی تبدیلی کا مطالبہ بھی سامنے آیا ہے۔پی ٹی آئی میں لانگ مارچ کرنے یا نہ کرنے پر بھی اعتراض تھا۔اگر ایک گروپ لانگ مارچ کا حامی تھا تو دوسرا گروپ اس کا مخالف تھا اور اس کا موقف تھا کہ موجودہ حالات میں ہمیں کسی بھی طور براہ راست ٹکراؤ کی پالیسی اختیار نہیں کرنی چاہیے اور اس طرح کے ٹکراؤ کی پالیسی پارٹی مفاد میں نہیں ہوگی ۔

یہ کہنا درست نہیں کہ پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت نے اپنے لیے سیاسی حالات میں سازگار ماحول پیدا کرنے کے لیے حکومت اور پس پردہ قوتوں سے براہ راست یا پس پردہ بات چیت نہیں کی۔لیکن  معاملات کی بہتری اور مفاہمت میں کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہوسکی۔مثال کے طور پر یہ خبریں سننے کو ملتی ہیں کہ مائنس ون فارمولہ یعنی بانی پی ٹی آئی عدم قبولیت،سیاسی خاموشی،کچھ برسوں کے لیے زبان بندی یا بنی گالہ یا باہر منتقلی اور نئے سربراہ کو عملا پارٹی قیادت کی منتقلی کی بنیاد پر مفاہمت کیسے ممکن ہوگی۔کیونکہ ایک بنیادی بات سمجھنی ہوگی کہ ماضی میں بھی قومی سیاست میں مائنس ون کو بنیاد بناکر سیاست ہوتی رہی مگر کامیاب نہیں ہوسکی۔ ایسی شرائط عمران خان قبول نہیں کریں گے۔پارٹی کی موجودہ قیادت بھی سمجھتی ہے کہ ووٹ بینک عمران خان کا ہے اوراسی وجہ سے ان کی قیادت اور ارکان اسمبلی یہ صلاحیت نہیں رکھتے کہ وہ مائنس ون فارمولے پر اتفاق کریں۔

یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ پی ٹی آئی میں تمام تر داخلی سطح کی کشمکش کے باوجود پارٹی بدستور کھڑی ہے اور ان کے ارکان اسمبلی تمام تر مشکلات کے باوجود پارٹی سے جڑے ہوئے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں عمران خان کے بغیر ان کی کوئی سیاسی حیثیت نہیں۔لیکن پی ٹی آئی کو یہ بھی تسلیم کرناہوگا کہ جہاں وہ بڑی عوامی طاقت کے ساتھ حکومت پر بڑا دباؤ پیدا نہیں کرسکی وہیں اس کی وفاق اور پنجاب میں یا سینیٹ کی سطح پر پارلیمانی سیاست کی کمزوری کے پہلو بھی دیکھنے کو ملے ہیں۔ بالخصوص پنجاب کی پارلیمانی پارٹی کا پارلیمانی فورم پر کمزور کردار دیکھنے کو ملا ہے۔یہ بات سمجھ آتی ہے کہ ان کو حکومت کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اور عملی طور پر ان کی سیاسی سرگرمیوں پر بھی پابندی تھی۔مگر وہ اپنی حکمت عملی کے تحت پارلیمانی فورم کو بہتر طور پر استعمال کرسکتے تھے۔

اس میں کوئی شک نہیں پی ٹی آئی کے ڈیجیٹل میڈیا نے رسمی میڈیا میں اپنے اوپر پابندیوں کے باوجود اس کا بہتر استعمال کیا اور اپنی مزاحمت کو زندہ رکھا ہوا ہے۔لیکن کچھ عناصر نے اسی ڈیجیٹل میڈیا کی طاقت کا منفی استعمال کیا جس کا عملی نقصان پی ٹی آئی کو اداروں کی سطح پر ہوا ہے۔اصولی طور پر پی ٹی آئی اور حکومت کی سطح پر تعلقات کی بہتری میں توازن پر مبنی پالیسی درکار ہے اور کسی بھی جماعت کو ختم کرنایا اسے دیوار سے لگانے یا اس پر پابندی لگانے یا مائنس ون فارمولے مسائل کا حل نہیں ہے۔کیونکہ ایجنڈے کو مسلط کرکے یا ڈکٹیشن کی بنیاد پر مفاہمت ممکن نہیں ہوتی اور مفاہمت ایک دوسرے کی قبولیت سے جڑی ہوتی ہے۔اسی طرح کسی بھی جماعت پر ریاست مخالف الزامات کی پالیسی بھی داخلی سیاست کو کمزور کرنے کا سبب بنتی ہے۔

جہاں تک پی ٹی آئی کی داخلی یا تنظیمی کشمکش کا تعلق ہے یہ کہانی ہمیں مختلف سیاسی جماعتوں کی سطح پر بھی دیکھنے کو ملتی رہتی ہیں۔کیونکہ ہماری جماعتیں داخلی جمہوریت کے تناظر میں کمزور ہیں اوریہاں جمہوریت کے مقابلے میں افراد کی طاقت ہوتی ہے۔بانی پی ٹی آئی کئی برسوں سے جیل میں ہیں اور ان کی پارٹی راہنماؤں تک رسائی بھی نہیں ہے۔اس لیے پارٹی کی داخلی کشمکش کی کہانی بھی سمجھ آتی ہے۔لیکن اس کے باوجود پارٹی کی جو قیادت باہر موجود ہے اس کو اپنے داخلی بحران اور ٹکراؤ کو ختم کرنا چاہیے تھا مگر وہ نہیں کرسکے۔ اسی طرح پی ٹی آئی کا المیہ یہ بھی ہوا کہ ان کے چار اہم راہنما شاہ محمود قریشی،میاں محمود الرشید،ڈاکٹر یاسمین راشد،اعجاز چوہدری اور عمر سرفراز چیمہ جیل میں ہیں اگر یہ قیادت باہر ہوتی تو اس موجودہ داخلی کشمکش اور ٹکراؤ کی کمی میں اہم کردار ادا کرسکتے تھے۔دوسری طرف موجودہ مرکزی قیادت نے کوٹ لکھپت جیل میں موجود اپنی سینئر قیادت سے سیاسی فیصلوں کے حوالے سے کوئی مدد حاصل نہیں کی جس کا پارٹی کو مسلسل بڑی ناکامی کا سامنا ہے۔

اسی طرح پی ٹی آئی کے وہ لوگ جو جیلوں میں ہیں ، ان کا موجودہ پارٹی قیادت سے گلہ ہے کہ وہ لوگ ان کا سیاسی مقدمہ لڑنے میں پیچھے کھڑے نظر آتے ہیں۔ سیاست میں مشکل حالات میں اپنے لیے راستہ نکالنا اہم ہوتا اور یہ پارٹی اور اس کی قیادت کا امتحان ہوتا ہے ۔اس طرز کی پالیسی میں کچھ لو اور کچھ دو کی سوچ ہوتی ہے اور یہ اسی صورت میں ممکن ہوتی ہے جب ایک دوسرے کے لیے لچک پیدا کی جائے۔اس لیے اب وقت ہے کہ پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت پچھلے تین برسوں کی حکمت عملی یا سخت گیر پالیسی کا جائزہ لے اور سمجھیں کہ ان سے کہاں غلطیاں ہوئی اور اب ہمیں کس طرز کی نئی سیاسی حکمت عملی کے تحت سیاسی میدان میں اپنے راستے یا بقا کو محفوظ بنانا ہے۔کیونکہ ان حالات میں ٹکراؤ اور لانگ مارچ جیسی پالیسیاں پی ٹی آئی کے حق میں نہیں اور نہ ہی ان کو اس طرز کی سرگرمیوں کی اجازت مل سکتی ہے۔

اسی طرح یہ پالیسی حکومت پر بھی لاگو ہوتی ہے۔حکومت کا مسئلہ تو سمجھ آتا ہے کہ وہ اپنی سیاسی بقا کے لیے چاہے گی کہ پی ٹی آئی اور اسٹیبلیشمنٹ کے درمیان ٹکراؤ کی پالیسی جاری رہے۔لیکن یہ پالیسی موجودہ حالات میں جو بڑی سیاسی تقسیم ہے درست حکمت عملی نہیں ہوگی۔پی ٹی آئی کو سیاسی راستہ ملنا چاہیے اور عمران خان کی بہنوں سمیت ان کے جو لوگ جیلوں میں ہیں ان کی رہائی ہونی چاہیے۔ ویسے بھی ہم حکمرانی کے نظام میں جن بڑے بحرانوں سے گزر رہے ہیں ان میں ایک بڑاسیاسی مسئلہ ملک میں موجود سیاسی عدم استحکام ہے اور اس کا خاتمہ ہونا چاہیے اور اسی بنیاد پر ہم معاشی اور سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل کی جنگ پر قابو پا سکتے ہیں۔





Source link

متعلقہ پوسٹ